(Zarb-e-Kaleem-136) (سرود حلال) Surood-e-Hilal

سرود حلال

کھل تو جاتا ہے مغنی کے بم و زیر سے دل
نہ رہا زندہ و پائندہ تو کیا دل کی کشود!

بم و زير: اتار چڑھاؤ ۔

ہے ابھی سینہ افلاک میں پنہاں وہ نوا
جس کی گرمی سے پگھل جائے ستاروں کا وجود

جس کی تاثیر سے آدم ہو غم و خوف سے پاک
اور پیدا ہو ایازی سے مقام محمود

مہ و انجم کا یہ حیرت کدہ باقی نہ رہے
تو رہے اور ترا زمزمہ لا موجود

زمزمہ لا موجود: مراد ہے توحید کا نعرہ۔

جس کو مشروع سمجھتے ہیں فقیہان خودی
منتظر ہے کسی مطرب کا ابھی تک وہ سرود

مشروع: شریعت کی رو سے جائز۔


یہ کسی قدر مشکل نظم ہے. اس میں اقبال نے بتایا ہے کہ وہ سرود یا نغمہ کونسا ہے جس کو مذہب خودی میں جائز قرار دیا جاسکتا ہے. یعنی وہ موسیقی کونسی ہے. جو مرد مومن کے لیے جائز ہے انسان کہتے ہیں کہ

عام گویوں کے گانے اور تان پلٹے سن کر، تھوڑی دیر کے لیے دل ضرور شگفتہ ہوجاتا ہے لیکن یہ شگفتگی اور لذت، دائمی اور زندگی بخش نہیں ہوتی لہٰذا یہ عارضی سرور، محض بیکار ہے. 

‏افسوس! موسیقی ابھی تک کہیں سننے میں نہیں آئی جو دل میں حقیقی سوزوگداز پیدا کردے.

جس کی تاثیر سے انسان کے قلب میں ایسی طمانیت پیدا ہو جائے کہ وہ خوف اور غم خنان دوبلاؤں سے محفوظ ہو جائے. واضح ہوکہ قلب انسانی کے سب سے بڑے دشمن دو ہیں خوف اور حزن اس کی تفصیل یہ ہے کہ انسان جب تک اس کا تعلق اللہ سے استوار مستحکم نہ ہوجائے یا تو آئندہ سے ڈرتا رہتا ہے یا گذشتہ غلطیوں پر افسوس کرتا رہتا ہے اور جب تک انسان پر خوف اور حزن مسلط رہتے ہیں وہ کوئی روحانی ترقی نہیں کرسکتa. 

قرآن مجید میں مومنوں کی شان بیان کی گئی ہے کہ:

…………… ‏ نہ انہیں خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

‏ اقبال کہتے ہیں کہ مسلمان کے لیے وہ موسیقی جائز ہے جو اس کے قلب کو خوف اور غم سے پاک کرکے، دائمی سرور اور ابدی اطمینان عطا کردے اور وہ موسیقی، قرآن مجید کی تلاوت سے حاصل ہو سکتی ہے. 

‏یہ وہ موسیقی ہے جس کی بدولت، ایاز غلام کو محمود سلطان کا مقام حاصل ہو جاتا ہے.

اس مصرع میں “مقام محمود” کی ترکیب بہت خوف ہے بلکہ میری تحسین سے بالاتر ہے. کیونکہ “مقام محمود” کے دو معنی ہوسکتے ہیں. ایک معنی تو وہی ہیں جو میں نے بیان کیے ہیں دوسرے اور ارفع معنی یہ ہیں کہ اس میں اشارہ ہے. اس آیت مبارکہ کی طرف:

اے ہمارے محبوب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پچھلے پہر اٹھ کر نماز تہجد پڑھا کیجئے یقین ہے.

کہ اس کے معارضہ میں آپ کا پروردگار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود عطا فرمائے گا. اس شعر سے ناظرین، اقبال کی شاعری کی نوعیت سے بھی آگاہ ہو سکتے ہیں کہ اس کا سرچشمہ قرآن حکیم سے ہے، دگر ہیچ

اے مسلمان! پس لازم ہے تو وہ سرور نغمہ سن جس کی تاثیر سے تو علائق دنیوں سے پاک ہوجائے اور تیری زبان پر ہر وقت لا موجود لا اللہ کا کلمہ جاری رہے یعنی یہ دنیا اور اس کی دلچسپیاں سب فانی ہیں. حقیقی وجود صرف ایک ہے اور میں اسی وجود حقیقی یعنی اللہ کے سہارے سے موجود ہوں. میرا وجود، حقیقی یا اصلی نہیں ہے، اگر میں موجود ہوں تو محض اس لیے کہ وہ موجود ہے وہ نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا.

نوٹ: لا موجود الااللہ کی یہ تعبیر ہے جو اقبال نے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی سے سیکھی ہے. 

‏جس سرور کو مذہب خودی کے فقہا جائز سمجھتے ہیں یعنی ذکر الٰہی کا سرور افسوس کہ وہ سرود ابھی تک کسی مطرب یعنی زبردست عظیم الشان روحانی بزرگ کے ظہور کا منتظر ہے. خلاصہ کلام یہ کہ اس زمانہ میں نفسانی خواہشات کو برانگخیتہ کرنے والا سرود تو مل سکتا ہے. لیکن روحانیت پیدا کرنے والا سرود ناپید ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: