(Zarb-e-Kaleem-137) (سرود حرام) Surood-e-Haraam

سرود حرام

نہ میرے ذکر میں ہے صوفیوں کا سوز و سرور
نہ میرا فکر ہے پیمانہ ثواب و عذاب

خدا کرے کہ اسے اتفاق ہو مجھ سے
فقیہ شہر کہ ہے محرم حدیث و کتاب

اگر نوا میں ہے پوشیدہ موت کا پیغام
حرام میری نگاہوں میں ناے و چنگ و رباب

ناے: بانسری۔


اس نظم میں اقبال نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ کونسی موسیقی حرام ہے. کہتے ہیں کہ نہ تو میرے ذکر میں صوفیوں کا سوز و سرور ہے اور نہ میری فکر میں اہلیت ہے کہ وہ ثواب وعذاب کا اندازہ کرسکے یعنی نہ میں کوئی صوفی صافی ہوں نہ مفتی شرع. 

اس لئے میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ جو کچھ میں کہنے والا ہوں، فقہا بھی اسی سے متفق ہو جائیں تاکہ میرا قول مستند قرار پاسکے.

وہ مسیقی بالکل حرام ہے جس کو سن کر مسلمان کی قوت عملی مردہ ہو جائے. اور وہ کشمکش حیات سے کنارہ کش ہو جائے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: