(Zarb-e-Kaleem-138) (فوارہ) Fawwara

فوارہ

یہ آبجو کی روانی، یہ ہمکناری خاک
مری نگاہ میں ناخوب ہے یہ نظارہ

ادھر نہ دیکھ، ادھر دیکھ اے جوان عزیز
بلند زور دروں سے ہوا ہے فوارہ

زور دروں : اندر کی طاقت۔


اس مختصر نظم میں اقبال نے ایک پیش پا افتادہ مضمون سے اپنے نظریہ کی تائید کی ہے. بظاہر نہر اور فوارہ کا موزانہ ہے لیکن ان دو شعروں میں اقبال نے بات پتہ کی کہی ہے. کہتے ہیں کہ نہر کو دیکھو چونکہ اس میں زور دروں نہیں ہے. بلکہ یہ دریا کی محتاج ہے اس لیے بہہ تو رہی ہے لیکن خاک سےہمکنا ہے اس میں

اٹھنے یا ابھرنے یا بلند ہونے کی طاقت نہیں ہے اسی لئے مجھے اس کی روحانی کا منظر پسند نہیں ہے.

اے نوجوان! نہر غلاموں یا محتاجوں کی طرف مت دیکھو فورا بلند حوصلہ خودوار غیرت مند انسانوں کی طرف دیکھ، بظاہر نہر کے طول کے مقابلہ میں، بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے دل میں امنگ ہے ابھرنے کی طاقت ہے اس لیے بلندی کی طرف مائل ہے چونکہ اقبال کی رائے میں اسلام انسان کو ابھرنے اور بلند ہونے کی تعلیم دیتا ہے اس لیے ان کو ہر وہ شئے پسند آتی ہے.

جس میں بلندی کا رنگ نظر آتا ہے. چناچہ انہوں نے اپنے کلام میں جابجا شاہین اور عقاب اور شہباز کا ذکر کیا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ان پرندوں میں انہیں مرد مومن کی بعض صفات کا پرتو نظر آتا ہے شاہین کی درویشی ملا حظہ ہو. 

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: