(Zarb-e-Kaleem-139) (شاعر) Shayar

شاعر

مشرق کے نیستاں میں ہے محتاج نفس نے 
شاعر ! ترے سینے میں نفس ہے کہ نہیں ہے

تاثیر غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم 
اچھی نہیں اس قوم کے حق میں عجمی لے

شیشے کی صراحی ہو کہ مٹی کا سبو ہو 
شمشیر کی مانند ہو تیزی میں تری مے

ایسی کوئی دنیا نہیں افلاک کے نیچے 
بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تخت جم و کے

ہر لحظہ نیا طور، نئی برق تجلی 
اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہو طے!

 


اس دلپذیر نظم میں اقبال نے شاعروں کو پیغام دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے شاعروں کو کس قسم کی شاعری کرنی چاہیے کہتے ہیں. 

مشرق کی شاعری کی دنیا میں، شاعری محض لفظی طلسم ہے نفس مضمون کا فقدان خدا جانے ہمارے شاعروں کے دماغوں میں مضامین اور خیالات ہیں بھی یا نہیں. 

اے پاکستان کے شاعر! غلامی کی بدولت جس قوم کی خودی ضعیف ہوجائے. اس قوم کے حق میں عجمی مذاق کی شاعری وصل وہجر کے افسانے اور دریائے راوی کے رومان بالکل بیکار بلکہ مضر ہے.

خواہ توپر شوکت الفاظ استعمال کرے یا بالکل سادہ، اور اسلوب بیان غالب کا ہو یا دماغ کا اصلی چیز یہ ہے کہ مضامین نہایت عالیشان اور حوصلہ افزا ہوں. 

جن کی بدولت قوم کی قوت عمل تیز ہو جائے.

یاد رکھو! اس دنیا میں کوئی قوم جدوجہد جہاد اور سعی پہیم کے بغیر سرداری اور حکمرانی حاصل نہیں کرسکتی.

پس میری یہ دعا ہے کہ تیری شاعری سے قوم کے اندر، سربلندی کے حصول کا ایسا بےپناہ جذبہ پیدا ہوجائے کہ ایک عرمت کا مقابلہ حاصل کرنے کے بعد دوسرا مقام حاصل کرنے کی تڑپ پیدا ہو اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے یعنی ترقی کا جذبہ کبھی سرد نہ ہو.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: