(Zarb-e-Kaleem-140) (شعرعجم) Shayr-e-Ajam

شعر عجم

ہے شعر عجم گرچہ طرب ناک و دل آویز
اس شعر سے ہوتی نہیں شمشیر خودی تیز

طرب ناک: پر سرور۔
شمشير خودي: خود آگاہی کی نظر۔

افسردہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاں
بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیز

مرغ سحر خيز: صبح سویرے اٹھ کر چہچہانے والا پرندہ ۔

وہ ضرب اگر کوہ شکن بھی ہو تو کیا ہے
جس سے متزلزل نہ ہوئی دولت پرویز

اقبال یہ ہے خارہ تراشی کا زمانہ
‘از ہر چہ بآئینہ نمایند بہ پرہیز’

یہ اپنی شاعری کے آئینے سے جو کچھ دیکھتے ہیں اس سے بچنا چاہئیے ۔


اس نظم میں اقبال نے ایرانی شاعری پر تنقید کی ہے جس نے ان کی رائے میں مسلمانوں کی قوت عمل کو مفلوج کر دیا کہتے ہیں کہ اگرچہ ایرانی شاعری بہت مسرت انگیز اور دلکش ہے لیکن اس کے مطالعہ سے انسانی کو استحکام نصیب نہیں ہو سکتا.

اگر بلبل کی خوش الحانی سے باغ پر افسردگی خزاں کا رنگ طاری ہوجائے تو اسے خاموش رہنا بہتر ہے. اسی طرح اگر شاعر یہ دیکھے کہ میرے کلام سے قوم میں مایوسی اور دل شکستی پیدا ہوتی ہے. تو شاعری ترک کردے.

اگر شاعروں کے کلام سے قوم کے اندر وہ طاقت پیدا نہ ہو سکے جس کی بدولت اس قوم کے افراد، غلامی کی زنجیروں کو توڑ سکیں تو خواہ ان کی شاعری آسمان سے اونچی ہو تو بھی بیکار ہے مثلا بیدل ہی کے کلام کو دیکھ لیجیے نہایت دشوار اور منعلق ہے اور انداز بیان اس قدر مشکل ہے کہ بعض اشعار بالکل چیستاں بن گئے ہیں. لیکن اس کی شاعری سے قوم کے اندر عمل صالح کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا.

اے دوستو! اے شاعرو! یہ عیش و عشرت کا زمانہ نہیں بلکہ جدوجہد کا دور ہے لہذا قوم کو عمل کا پیغام دو اور ہر اس بات سے پرہیز اور اجتناب کرو جو تمہیں حقیقت پسندی سے دور کر دے اور وہمی دنیا کی طرف لے جائے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: