(Zarb-e-Kaleem-141) (ہنروارن ہند) Hunarwaran-e-Hind

ہنروران ہند

عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیل ان کا
ان کے اندیشہ تاریک میں قوموں کے مزار

انديشہ تاريک: بھیانک سوچ۔

موت کی نقش گری ان کے صنم خانوں میں
زندگی سے ہنر ان برہمنوں کا بیزار

چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقامات بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ، بدن کو بیدار

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ! بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

صورت گر: مصوّر۔


اس نظم میں اقبال نے ہندوستان اب پاکستان کو بھی شامل کرلیا جائے کہ فنکاروں کی ذہنیت یا نفسیانی حالت پر تنقید کی ہے کہتے ہیں. 

ان کی تخیلات اور تصورات ایسے مردہ ہیں کہ ان کے کلام مضامین خصوصاً افسانوں کے پڑھنے کے بعد اگر کسی کے اندر جذبات موجود ہوں، تو وہ بھی مردہ ہوجاتے ہیں، پیدا ہونا تو خارج از بحث ہے اور اگر کوئی قوم ان کے خیالات کی پیروی کرنے لگے تو یقیناً تباہ ہو جائے گی. ہندوستان کے شاعر مصور افسانہ نگار اپنے کلام میں اپنی تصاویر میں اور اپنے افسانوں میں ایسے تخیلات پیش کرتے ہیں جن سے قوت عمل افسردہ بلکہ مردہ ہو جاتی ہے. ان نت پرسوں کا آٹ زندگی اور حقائق زندگی سے بالکل دور ہے، یہ لوگ سچائی اور حقیقت سے بیگانہ ہوکر ایک مرضی اور وہمی دنیا میں رہتے ہیں. اور اپنے فن کے نمونوں سے قوم کو افیون کی گولیاں کھلاتے رہتے ہیں.

مثلا جب پاکستان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رات دن ریکارڈوں اور ریڈیو پر مشاعرو‌ اور کتابوں میں اس قسم کے اشعار سنتے اور پڑھتے رہیں گے کہ

ہمیں تو شام غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی
‏ یا کہ وہ ساحل پہ ہوتے اور کشتی ڈوبتی اپنی

تو آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان کی ذہنیت کس قدر افسردہ اور غم پسند ہو جائے گی کہ ایسے نوجوان جہاد میں حصہ لے سکتے ہیں؟ یا مشکلات زندگی پر غالب آسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ان کے دل اور دماغ میں غرقابی اور فنا کا تصور جاگزین ہوجائیگا تو پھر ابھرنے اور جدوجہد کرنے اور مجدوں کا مقابلہ کرنے اور ساحل پر پہنچنے کا تصور کب اور کیسے پیدا ہو سکے گا؟

جب ایک نوجوان کی زندگی کا مقصد وحید صرف یہ ہو کہ اس کا محبوب تو ساحل پر دوربین ہاتھ میں لے بیٹھا ہو اور وہ خود اس قدر پست ہمت، مایوس، کمزور، بزدل اور دل شکستہ ہوکہ کنارے پر پہنچ کر محبوب سے ملنے کا تصور بھی نہ کرسکتا ہو بلکہ محبوب کو اپنی محبت کا آخری ثبوت دیکر کر منجدھار میں غرق ہوجائے کو مقصد حیات سمجھتا ہوں تو وہ نوجوان تلوار کو ہاتھ میں لے کر میدان جنگ میں کیسے اور کس طرح جاسکتا ہے.

ہندوستان پاکستان کے فنکار زندگی کے بلند مقامات تو نوجوانوں سے پوشیدہ رکھتے ہیں بلکہ ان کو پستی کی طرف لیجاتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اخلاق حسنہ اور پاکیزہ صفات کو فنا کر دے اور ان کے بجائے نفسانی حیوانی خواہشات اور جنسی میلانات کو برانگیختہ کریں. یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے شاعروں، مصوروں اور اضافہ کے یہاں ہر جگہ عورت ہی عورت جلوہ گرہے. عموماً شاعروں کا مشغلہ یہ ہے کہ لفظوں کے ذریعہ عورت کے جسم کے مختلف اعضا کی تصویر کھینچے رہتے ہیں اور مشاعروں میں اسی قسم کےشعروں پر داد بھی ملتی ہے.

مصوروں کا مشغلہ یہ ہے کہ ایسی تصاویر بناتے ہیں جن میں عورت لباس کے باوجود عریاں نظر آتی ہے اور ایسی ہی تصاویر زیادہ مقبول ہوتی ہے اور لطف یہ ہے کہ اسے آرٹ کا کمال سمجھا جاتا ہے افسانہ نگاروں کا مشغلہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کے جنسی تعلقات کو مزے لے لیکر بیان کرتے ہیں اور اسے حقیقت نگاری سمجھتے ہیں اور غلط فہمی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے آپ کو ترقی پسند کہتے ہیں حالانکہ یہ ترقی نہیں بلکہ ذہنی پرستی اور اخلاقی موت ہے.

نوٹ: علامہ نے شاعر مصور اود افسانہ نگار کا ذکر تو کردیا لیکن ان کے سرپرستوں کا تذکرہ خدا جانے کیوں نہیں کیا! حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو اور ان کے انسانیت کش آرٹ کو جو کچھ فروغ حاصل ہورہا ہے وہ سب فلمیں بنانے والوں کے نگاہ کرم کا نتیجہ ہے پاکستان کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو دین، مذہب اخلاق اور آدمیت سے برگشتہ کرنے میں یہ فلمیں میجر پارٹ ادا کر رہی ہیں چنانچہ ان کے بدولت ہمارے اخلاق اس قدر تباہ ہو چکے ہیں کہ مسلمان ما‌ں خود اپنی جوان بیٹی کو ساتھ لے کر نرگس کا کام دیکھنے جاتی ہے اور اس سے متعلق معیوب نہیں سمجھتی. اور اب تو کراچی میں کالج کی مسلمان لڑکیاں شکنستلا کا روپ بھر کر، روز روشن میں ارباب نظر سے خراج تحسین وصول کرتی ہیں. بلکہ پہلا انعام حاصل کرتی ہیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: