(Zarb-e-Kaleem-142) (مرد بزرگ) Mard-e-Buzurg

مرد بزرگ

اس کی نفرت بھی عمیق، اس کی محبت بھی عمیق
قہر بھی اس کا ہے اللہ کے بندوں پہ شفیق

عميق: گہری۔

پرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میں
ہے مگر اس کی طبیعت کا تقاضا تخلیق

انجمن میں بھی میسر رہی خلوت اس کو
شمع محفل کی طرح سب سے جدا، سب کا رفیق

مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں
بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق

دقيق: باریک، نازک۔

اس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا
اس کے احوال سے محرم نہیں پیران طریق

پيران طريق: مراد ہیں خانقاہی صوفیان۔


اس نظم میں اقبال نے مرد مومن کی صفات بیان کی ہے کہتے ہیں کہ. 

مومن، کفر سے نفرت کرتا ہے اور اس کی نفرت بہت شدید ہوتی ہے یعنی وہ کفر سے کسی قسم کی مفاہمت نہیں کر سکتا. اور اسلام سے محبت کرتا ہے اور اس کی محبت بھی بہت شدید ہوتی ہے یعنی وہ اسلام کے لئے اپنی زندگی تک قربان کر سکتا ہے واضح ہوکہ یہ مضمون اس آیت سے ماخوذ ہے.

…………………… اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کافروں پر بہت شدید ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے پر بہت شفیق اور مہربان ہیں.

نیز موسی اگر اللہ کے بندوں پر قہر یا سختی کرتا ہے تو اس میں بھی شفقت کا رنگ پوشیدہ ہوتا ہے وہ اس طرح کے استاد اگر شاگردوں پر سختی کرتا ہے تو اس میں، استاد اور شاگردوں کی بہتری ہی مدنظر ہوتی ہے.

اس کے دوسرے صفت یہ ہے کہ اگرچہ اس کی پرورش تقلید کے ماحول میں ہوتی ہے لیکن وہ اپنی فطری صلاحیت کی بدولت، اپنے ماحول میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے پرانی رسموں اور بری باتوں کو مٹاکر، پاکیزہ طرز زندگی تخلیق کرتا ہے.

اگرچہ وہ بظاہر، سب لوگوں کے ساتھ رہتا ہے، سب سے ملتا جلتا ہے لیکن اللہ کے سوا کسی کو اپنا محبوب یا مقصد خیات نہیں بناتا. گویا وہ شمع محفل کی طرح سب کو اپنی ذات سے فائدہ پہنچاتا ہے لیکن خود سب سے الگ رہتا ہے.

اس کی دماغی قوتیں نہایت روشن ہوتی ہیں اس لیے وہ صاحب فراست ہوتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے اس کی گفتگو نہایت سادہ اور سچی ہوتی ہے. لیکن آسان لفظوں میں وہ بڑے حکیمانہ نکتے بیان کر دیتا ہے.

وہ دنیا کو، دنیا داروں کے زاویہ نگاہ سے نہیں دیکھتا، بلکہ ہر بات کو قرآن اور سنت کی روشنی میں دیکھتا ہے، اسی وجہ سے اس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا ہوتا ہے مثلا دنیاداری دنیاوی فوائد اور مادی اغراض کے حصولم کی خاطر، ضمیر فروش بھی کرلیتے ہے لیکن مومن اسباب کو کبھی جائز نہیں رکھتا. وہ فقر فاقہ میں گزر لیتا ہے لیکن ایمان نہیں بیچتا. یہی وجہ ہے کہ” پیران طریق” یعنی دنیا دار علماء یا صوفیا اس کے احوال اور مقامات سے آگاہ نہیں ہوسکتے

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: