(Zarb-e-Kaleem-143) (عالم نو) Alam-e-Nau

عالم نو

زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیر تقدیر
خواب میں دیکھتا ہے عالم نو کی تصویر

اور جب بانگ اذاں کرتی ہے بیدار اسے
کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر

بدن اس تازہ جہاں کا ہے اسی کی کف خاک
روح اس تازہ جہاں کی ہے اسی کی تکبیر


اقبال نے اس نظم میں یہ بتایا ہے کہ عالم نو کیسے پیدا ہوتا ہے اور اس کا خمیر کن چیزوں سے تیار ہوتا ہے کہتے ہیں کہ. 

عالم نو نئی دنیا وہ شخص پیدا کرسکتا ہے جس کا دل زندہ ہو یعنی جس کی مرتبہ کمال تک پہنچ چکی ہو. چونکہ وہ ضمیر کائنات آگاہ ہوتا ہے اس لئے بھی جانتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے چنانچہ وہ سب سونے کے لئے لیٹتا ہے. تو یہ خیال اس کے ذہن میں ہوتا ہے کہ میں ایک نئی دنیا بناؤ گا. جس میں اللہ کے بندے اللہ کی مرضی پر چل سکیں جس میں اسلام کا نام بلند ہو سکے جس میں کفر ذلیل اور مغلوب ہو سکے. اس لیے وہ خواب بھی دیکھتا ہے تو عالم نو کا یا خواب میں عالم نو کی تصویر بناتا ہے یعنی سوتے جاگتے اسلام کی سربلندی کا خیال اس کے دل پر مسلط رہتا ہے جب وہ سوکر اٹھتا ہے تو ہمیشہ بانگ اذان اسے بیدار کر دیتی ہے تو وہ رات بھر جن تصورات میں غلطاں رہا ہے بس انہی خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہوتا ہے جو دنیا اس نے خواب میں بنائی تھی اسے اب خارج میں تعمیر کرنے لگتا ہے یعنی اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں ہو جاتا ہے. خلاصہ یہ ہے کہ جب وہ سونے لیٹتا تھا تو اسلام کی سربلندی کا خیال دل میں لے کر لیٹا تھا خواب میں بھی یہی خیالات اس کے دل پر مسلط رہے اور جب سو کر اٹھا تو پھر انہی خیالات کو خارجی شکل دینے میں مصروف ہوگیا.

اس نئی دنیا کا بدن، اس کی کف خاک سے بنتا ہے اور اسی کی تکبیر سے اس دنیا میں روح پڑتی ہے. یعنی وہ اپنی شخصیت یا ظاہری وجود کی شکل عطا کرتا ہے اور اس نئی دنیا میں جو کچھ خوبی اور پاکیزگی نظر آتی ہے یہ سب کچھ اسی مرد مومن کے نعرہ تکبیر کی بدولت نظر آتی ہے اسی کی تکبیر سے باطل پر سرنگوں ہوتا ہے اور اسی کی تکبیر سے اسلام کا بول بالا ہوتا ہے.

واضح ہوکہ اقبال نے اس قسم کی نظموں میں، عصر حاضر کے مسلمانوں کو ان کے اسلاف کے کارنامے یا دولائے ہیں کہ جب مسلمان زندہ تھے تو وہ اسی دنیا میں، عالم نو پیدا کر رہے تھے کرتے رہتے تھے مثلا جب انہوں نے مصر فتح کرلیا تو طرابلس کی فتح کے منصوبے باندھا کرتے تھے اور اسی طرح الجزائر اور مراقش کی فتح کے کے بعد انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اسپین کو فتح کیا جائے، اندس میں اس وقت پرانی دنیا کا سکہ رواں تھا. عربوں نے سوچا کہ لاؤ اس خط، ارضی میں عالم تو پیدا کریں اس علم کی خصوصیات اور پر مذکور ہوچکی ہے تو انہوں نے فوج کشی کہ میدان جنگ میں ان کی تعشین پیوندر زمین ہوگئیں ان کا جسم اندس کی مٹی میں مل گیا یہ مطلب اس مصرع کا

‏ بدن اس تازہ جہاں کا ہے اسی کی کف خاک

‏ اور یہ فتح جوان کو حاصل ہوئی یہ سب کرشمہ تھا نعرہ تکبیر کا یعنی فتح کے بعد ہی اندس میں اسلام کا نام سر بلند ہوا. اس لیے اقبال نے یہ کہا کہ. 

‏روح اس تازہ جہاں کی ہے اسی کی تکبیر! 

‏ اب نہ وہ مسلمان ہیں، نہ وہ اس کے تصورات ہیں، نہ وہ کائنات نو کی تشکیل کے دیوانے ہیں. اس دور میں یہ سب خواب کی باتیں ہیں بلکہ ایک دورس تخیل پرست کے احساسات قلبی کی تصاویر ہیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: