(Zarb-e-Kaleem-144) (ایجاد معانی) Ejad-e-Ma’ani

ایجاد معانی

ہر چند کہ ایجاد معانی ہے خدا داد
کوشش سے کہاں مرد ہنر مند ہے آزاد!

خون رگ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر
میخانہ حافظ ہو کہ بتخانہ بہزاد

بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا
روشن شرر تیشہ سے ہے خانہ فرہاد!


اس نظم میں اقبال نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگرچہ فنون لطیفہ مثلا شاعری مصوری اور موسیقی کی نعمت خداداد ہے لیکن اس کے باوجود اس فن میں کمال حاصل کرنے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے. 

اگرچہ نئے معانی پیدا کرنے کی قوت، خداداد ہوتی ہے. پھر بھی ارباب فن کو اپنے اپنے فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے سعی پہیم اور کوشش بلیغ، صرف کرنی پڑتی ہے.

مثلا خواجہ حافظ نے شاعری کی دنیا میں غیرفانی شہرت حاصل کی لیکن دیوان حافظ اور مرقع بہزاد دونوں بڑی محنت کے بعد مرتب ہوئے تھے.

سچ یہ ہے کہ مسلسل کوشش اور لگاتار محنت کے بغیر انسانی شخصیت کی کوئی خوبی ظاہر نہیں ہوسکتی. دیکھ لو فرہاد کا نام دنیائے عاشقی میں اس وقت روشن ہوا جب اس نے برسوں کی لگاتار محنت سے پہاڑ جیسی چیز کاٹ کر رکھ دی.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: