(Zarb-e-Kaleem-145) (موسیقی) Mausiqi

موسیقی

وہ نغمہ سردی خون غزل سرا کی دلیل
کہ جس کو سن کے ترا چہرہ تاب ناک نہیں

نوا کو کرتا ہے موج نفس سے زہر آلود
وہ نے نواز کہ جس کا ضمیر پاک نہیں

پھرا میں مشرق و مغرب کے لالہ زاروں میں
کسی چمن میں گریبان لالہ چاک نہیں


اس نظمِ میں اقبال نے موسیقی کی خصوصیات بیان کی ہے کہ. 

حقیقی موسیقی وہ ہے جس کو سن کر انسان کے اندر جذبات عالیہ برانگیختہ ہوجائیں یعنی محبت الہی کا جذبہ پیدا ہو جائے. اگر موسیقی سن کر دل میں جوش پیدا نہ ہو اور رگوں میں خون نہ دوڑنے لگے یعنی جہاد کا جذبہ پیدا نہ ہو تو وہ نغمہ اسباب کی دلیل ہے کہ مغنی کا دل خود مردہ ہے اور مردہ کسی کو بیدار نہیں کر سکتا.

وہ مغنی جس کا دل خود محبت الٰہی سے لبریز نہ ہو، وہ اپنی موسیقی سے سامعین کو نفع کے بجائے نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ان کی زندگیوں کو تباہ کر دیتا ہے. قوم ایسی موسیقی سے بالکل مردہ ہو جاتی ہے. اور اس میں عمل کا جذبہ فنا ہوجاتا ہے.

میں نے مشرق اور مغرب دونوں حصوں میں اس بات کی تحقیق کی لیکن کہیں بھی مجھے کوئی مغنی ایسا نہ ملا جس کا نغمہ سن کر انسان کے دل میں محبت الٰہی کا جذبہ پیدا ہوجائے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: