(Zarb-e-Kaleem-146) (ذوق نظر) Zauq-e-Nazar

ذوق نظر

خودی بلند تھی اس خوں گرفتہ چینی کی
کہا غریب نے جلاد سے دم تعزیر

ٹھہر ٹھہر کہ بہت دل کشا ہے یہ منظر
ذرا میں دیکھ تو لوں تاب ناکی شمشیر


اقبال نے اس نظم میں ایک چینی کے طرز عمل سے ایک دلپذیر نکتہ اخذ کیا ہے کہ جب جلاد اسے قتل کرنے پر آمادہ ہو تو اس نے یہ کہا کہ ذرا ایک منٹ کے لئے توقف کر، میں تیری شمیر کی آب وتاب کو دیکھ کر اپنے ذوق نظر کی تسکین کا سامان بہم پہنچالوں. اس کے بعد مجھے شوق سے قتل کر دینا.

اقبال نے اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے. کہ اگر کسی شخص کی خودی بلند یو جائے تو وہ موت سے بالکل نہیں گھبراتا. نیز چونکہ اس کی خودی مرتبہ کمال پر پہنچ جاتی ہے. اس لیے وہ کائنات میں کمال اور حسن وجمال کی قدر کرنا سیکھ جاتا ہے. جہاں بھی اسے کسی چیز میں کمال نظر آتا ہے اور کمال میں جمال مضر ہوتا ہے وہ اس کی کو ضرور دیکھ لیتا ہے اور اس طرح اپنے ذوق نظر کی تسکین کا سامان بہم پہنچاتا ہے.

اس چینی کی جگہ پر کوئی اور شخص ہوتا جس کی خودی ناقص یا پست ہوتی تو وہ تلوار کو دیکھ کر سراسمیہ ہوجاتا، لیکن اس چینی کی خودی چونکہ بلند تھی اس لیے وہ موت کے تصور سے قطعاً مضطرب نہیں ہوا. 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسان میں ذوق نظر اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب اس کی خودی بلند ہوجائے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: