(Zarb-e-Kaleem-149) (ضبط) Zabt

ضبط

طریق اہل دنیا ہے گلہ شکوہ زمانے کا
نہیں ہے زخم کھا کر آہ کرنا شان درویشی

یہ نکتہ پیر دانا نے مجھے خلوت میں سمجھایا
کہ ہے ضبط فغاں شیری، فغاں روباہی و میشی

روباہي و ميشي: لومڑی اور بھیڑ۔


اس نظم میں اقبال نے ہمیں ضبط نفس کا فلسفہ سمجھایا ہے واضح ہوکہ تصوف میں پہلے ضبط حواس کی تعلیم دی جاتی ہے پھر ضبط نفس کی اور میرا مسلک یہ ہے کہ جو شخص اپنے اوپر قابو نہیں پا سکتا وہ دنیا میں دوسروں کو اپنے قابو میں ہرگز نہیں لاسکتا. بالفاظ دگر جو شخص اپنے نفس پر حکومت نہیں کر سکتا. وہ دوسروں کے دلوں پر حکومت کرنے کا کبھی مستحق نہیں ہوسکتا.
صوفیائے کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ انسانوں کے دلوں پر حکومت کرتے تھے اس کی وجہ سے یہ ہے کہ انہوں نے پہلے اپنے نفس پر حکومت حاصل کر لی تھی. اپنشدوں میں لکھا ہے کہ تمہارے اصلی دشمن پانچ ہیں. کام کر دھ، موہ، لوبہہ، اور ھنکار. ان پانچ دشمنوں کو زیر کرلو، ساری دنیا تمہاری غلام ہوجائے گی. اور یہ بالکل صحیح ہے کہتے ہیں کہ دنیا والوں کا طریقہ یہ ہے کہ زمانہ یعنی اہل زمانہ گلہ کرتے رہتے ہیں لیکن یہ طریقہ، مسلک درویشی کے بالکل خلاف ہے.
جو لوگ اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں وہ کسی کا شکوہ نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی شخص انہیں تکلیف پہنچاتا ہے تو پھر بھی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتے اس کی وجہ یہ ہے کہ آہ فغاں کرنا کمزوروں اور بزدلوں کا شیوہ ہوتا ہے بہادرآدمی کبھی آہ فغاں کرکے اپنی خودی کو رسوا نہیں کرتا. دیکھ لو! لومڑی یا بھیڑ بکری ذرا سی تکلیف سے چیخنے لگتی ہیں لیکن شیر گولی کھا کر بھی آہ فغان نہیں کرتا.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close