(Zarb-e-Kaleem-150) (رقص) Raqs

رقص

چھوڑ یورپ کے لیے رقص بدن کے خم و پیچ
روح کے رقص میں ہے ضرب کلیم اللہی

صلہ اس رقص کا ہے تشنگی کام و دہن
صلہ اس رقص کا درویشی و شاہنشاہی

کام و دہن: مونہہ اور حلق۔


اس نظم میں اقبال نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ رقص کی دو مختلف قسمیں ہیں. پہلی قسم رقص جسمانی ہے یعنی وہ رقص ناچ جو جسم کے ذریعہ سے کیا جاتا ہے جس میں جسم رقص کرتا ہے دوسری قسم رقص روحانی ہے یعنی وہ رقص جو روح کی مدد سے کیا جاتا ہے جس میں روح رقص کرتی ہے جس طرح دونوں کی نوعیت اور کیفیت میں فرق ہے اسی طرح ان کے ثمرات میں بھی فرق ہے یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ اقبال روح کے رقص کو پسند کرتے ہیں بلکہ اس کے شیدائی ہیں.

اقبال کی نظر میں روح کے رقص کی جو قدرو منزلت ہے اس کا کچھ اندازہ اس شرح کے ناظرین اس بات سے ہوسکتا ہے کہ جاویدنامہ کے آخر باب میں اقبال نے اپنی قوم کے نوجوانوں کو چند نصیحتیں کی ہیں عنوان اس باب کا خطاب بہ جاوید سننے بہ نثرادنو ہے. اور اس سلسلہ میں آخری نصیحت یہ کی ہے.

رقص تن درگردش آردخاک را
رقص خاں برہم زندافلاک را
اے مراتسکین جان ناشکیب
تو اگر زرقص جاں گیری نصیب
رمزدین مصطفے گویم ترا!!
ہم بقبراندردعا گویم ترا

کہتے ہیں کہ مسلمان نوجوان! یاد رکھ کہ رقص تن، تو محض تیرے جسم لاسکتا ہے. لیکن رقص جاں، ساری کائنات کو گردش میں لا سکتا ہے. بلکہ اس کی بدولت تیرے اندر اس قدر طاقت پیدا ہوجائیگی کہ تو نئی دنیا پیدا کرسکے گا.

اے میری بیقرار روح کے لئے باعث تسکین! اگر تم اپنی روح کو رقص کرنا سکھا دے تومیں تجھے دین اسلام کی حقیقت سے آگاہ کر دوں گا اور تجھ سے اس قدر خوش ہوگا کہ مرنے کے بعد قبر میں بھی تیرے لیے دعا کرتا رہوں گا.

ان اشعار سے یہ بھی معلوم ہوگیا ہے کہ اقبال رقص جاں کو اس قدر قیمتی کیوں سمجھتے ہیں؟ محض اس لئے کہ اس میں دین اسلام کی حقیقت مضمر ہے دین مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی غرض وغایت ہی یہ ہے کہ مسلمان کی روح رقص کرنے لگے

اب ضرب کلیم کے شعروں کا مطلب لکھتا ہوں.

اے مسلمان نوجوان! یہ رقص بدن تیرے لئے مناسب نہیں ہے. اس ناچ میں یورپ کی قوموں کو مصروف رہنے دے، کیونکہ وہ مادہ پرست ہیں اور رقص بدن کے علاوہ اور کسی قسم کا رقص ان کی سمجھ میں نہیں آسکتا.

تو اپنی روح کو رقص کرنا سیکھا کیونکہ اللہ نے تجھے اس لیے پیدا کیا ہے کہ تو اپنے زمانہ کے فراعنہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے قانون کے بجائے اپنا وضع کردہ قانون مللک میں نافذ کرتے ہیں. اور اللہ کے بندوں کو اس اس قانون کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں. کا مقابلہ کرکے اور ظاہر ہے کہ یہ طاقت تجھ میں اسی وقت ہوسکتی ہے جب تو اپنے اندر شان کلیمی پیدا کرلے اور یہ شان اس وقت حاصل ہوتی ہے. جب روح رقص کرسکے.

یاد رکھ کہ جسم کے رقص کا صلہ یا ثمرہ یہ ہے کہ انسان تھوڑی دیر کے لئے تو لطف اندوز ہو جاتا ہے لیکن رقص سے فارغ ہوکر بالکل تھک جاتا ہے اور تشنگی محسوس کرتا ہے. چنانچہ اس تشنگی کو اپنی حماقت کی بنا پر جام آتشیں سے بھجاتا ہے اور اس کا نتیجہ خمار کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور اس کے رفع کرنے کے لیے صبوجی درکار ہوتی ہے. صبوجی صبح کی شراب سے پھر خمار لاحق ہوتاہے اس کو دفع کرنے کے لیے پھر شراب پیتا ہے مختصر یہ کہ ساری عمر اسی خمار اور سکرکے چکر میں گرفتاررہ کر حیوانوں کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے بعد راہی ملک عدم ہو جاتا ہے. لیکن روح کے رقص کا صلہ ایسا عظیم الشان ہے کہ تیرے تصور میں بھی نہیں آسکتا. جو شخص اپنی روح کو رقص کرنا سکھا دیتا ہے. فرشتے درویشی کا تاج اس کے سر پر رکھ دیتے ہیں. کونسی درویشی!

وہ درویشی کہ اس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: