(Zarb-e-Kaleem-152) (کارل مارکس کی آواز)

کارل مارکس کی آواز

یہ علم و حکمت کی مہرہ بازی، یہ بحث و تکرار کی نمائش
نہیں ہے دنیا کو اب گوارا پرانے افکار کی نمائش

مہرہ بازي: مہروں کا کھیل؛ مراد ہے عیاری، مکاری۔

تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر
خطوط خم دار کی نمائش، مریز و کج دار کی نمائش

مريز و کج دار: لفظی معنی ہیں؛ ‘ نہ گرا’ اور ‘نہ ٹیڑھا رکھ’ – مراد ہے کسی کی جھولی میں سب کچھ ڈالنے کی کوشش کرنا لیکن کچھ نہ ڈالنا۔

جہان مغرب کے بت کدوں میں، کلیسیاوں میں، مدرسوں میں
ہوس کی خون ریزیاں چھپاتی ہے عقل عیار کی نمائش


اس نظم میں اقبال نے، اشتراکیت کے بانی کی تعلیمات کی ایک خصوصیت کو واضح کیا ہے جو یہ ہے کہ نظام معشیت ایسا ہونا چاہئے جس میں مزدور کو اس کی محنت کا پورا پورا معاوضہ مل سکے اور سرمایہ دار سب کچھ ہے لیکن یہی چیز نہیں ہے کہ اس کے فقدان سے یہ دنیا جہنم بن گئی ہے اس ملعون نظام میں مزدور محنت کش طبقہ انسان کے درجہ سے گر کر حیوانات سے بھی بدتر ہوجاتا ہے کیونکہ بعض سرمایہ داروں کے کتے بھی مزدوروں سے بہتر زندگی بسر کرتے ہیں. کیا یہ انتہا ظلم وستم نہیں کہ جو مزدورو‌ دولت مندوں کے لیے عالیشان محلات تعمیر کرتا ہے وہ خود خود فٹ پاتھ پر اپنے بے کیف زندگی کے دن ایڑیاں کر کاٹتا ہے؟ اقبال نے مزدور کی حالت کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں سے تین شعر میں اس جگہ لکھتا ہوں.

خواجہ نان بندہ مزدور خورد
آبروئے دختر مزدور برد

در حضورش بندہ محی نالد چونے
برلب ادنالہ ہائے پے بہ پے

نے بجامش بادہ ونے ددسبوست
کاخہا تعمیر کرود خود بکوست

یعنی سرمایہ دار مزدور سے روٹی بھی چھین کر رکھا جاتا ہے اور اس کی بیٹی کی آبرو لے لیتا ہے مزدور کی حالت یہ ہے کہ وہ سرمایہ دار زمیندار کے سامنے گریہ وزاری کرتا ہے بلکہ اس کی پوری زندگی ایک مسلسل فریاد ہے حد یہ ہے کہ روٹی جس کے لیے وہ بیچارہ دن رات محنت کرتا ہے نہ اس کے پیٹ میں ہے نہ ہاتھ میں ہے. ظلم کی انتہا یہ ہے کہ سرمایہ دار کے لئے قصر تعمیر کرتا ہے لیکن خود بے گھر رہتا ہے اسی کی محنت سے سرمایہ دا سوٹ پہنتا ہے لیکن وہ خود نیم عریاں پھرتا ہے.

اس تمہید کے بعد اب میں نظم کا مطلب لکھتا ہوں
کارل مارکس ان علمائے معاشیات سے جو سرمایہ دارا نہ نظام کی حمایت کرتے ہیں کہتا ہے کہ تم لوگ جس قدر اپنے علم دفن کی نمائش کرتے ہو۔ سب بیکار ہے تمہارا علم فرسودہ ہوچکا ہے لوگوں کی مالی مشکلات کو حل نہیں کر سکتا، اس لیے دنیا کو اب اسی علم کی کوئی ضرورت نہیں ہے. اس کے علاوہ تمہاری کتابوں میں رکھا ہی کیا ہے؟ تم لوگ دولت کی پیداوار کے نقشے بنا بنا کر صفحات سیاہ کرتے ہو اور مریزوکجدار کے اصولوں کی حمایت کرتے ہو، یعنی محنت کش طبقہ کو امیدیں تو بڑی بڑی دلاتے ہو لیکن عملاً ان کی بہبود کے لئے کچھ نہیں کرتے، تمہاری یہ منصوبہ بندیاں سب کاغذ کے پھول ہیں جن میں رنگ تو ہے لیکن خوشبو بالکل نہیں.

اصل حقیقت یہ ہے کہ یورپ کی خانقاہیں، کلیسائیں اور مدرسے یہ سب دھوکہ کی ٹٹیاں ہیں ان کے اندر عقل انسانی، ان سرمایہ داروں کی ہوس دولت کی تکمیل کے لیے عیاری سے کام لے کر، مزدورں کو غلام بنا کے طریقے ایجاد کرتی رہتی ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: