(Zarb-e-Kaleem-153) (انقلاب) Inqilab

انقلاب

نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و ساز حیات
خودی کی موت ہے یہ، اور وہ ضمیر کی موت

دلوں میں ولولہ انقلاب ہے پیدا
قریب آگئی شاید جہان پیر کی موت!


اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ زندگی کا سوزوساز نہ ایشیا میں کہیں موجود ہے، نہ یورپ میں یعنی انسان اپنی زندگی کا مقصد نہ ایشیا میں رہ کر حاصل کرسکتا ہے یورپ میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایشیا میں تو غلامی کی وجہ سے لوگوں کی خودی مردہ ہوچکی ہے اور یورپ میں لادینی اور اشتراکیت کی بدولت ضمیر فنا ہو چکا ہے ضمیر کا وجود ایمان باللہ پر موقوف ہے چونکہ بنی آدم اس مہمل طرز زندگی سے تنگ آچکے ہیں اس لئے ان کے دلوں میں اس فرسودہ نظام کو تباہ کرنے کا ولولہ پیدا ہوگیا ہے اندریں حالات میرا قیاس یہ ہے کہ جہان قدیم کی وفات کا زمانہ قریب آگیا ہے.

اقبال کی یہ پیشگوئی کچھ تو دوسری جنگ عظیم میں پوری ہو چکی ہے.

اور باقی ماندہ آئندہ دو تین سال میں پوری ہوجائے گی. کیونکہ وہ دن دور نہیں جب روس کی مادہ پرستی اور امریکہ کی زبردستی میں فیصلہ کن جنگ ہو گی اور یہ دونوں طاغوتی طاقتیں آپس میں لڑ کر فنا ہو جائیں گی یعنی مغربی تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرلے گی. اور اس خاکستر سے نئی دنیا پیدا ہوگی جس کی مخلوق ابلیس کے بجائے اللہ کی مرضی پر چلے گی کیا خوب کہا ہے اقبال نے.

خبر ملی ہے خدایا ن بحروبر سے مجھے
فرنگ رہگزر سیل بے پناہ میں ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: