(Zarb-e-Kaleem-154) (خوشامد) Khushamad

خوشامد

میں کار جہاں سے نہیں آگاہ، ولیکن
ارباب نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی راز

کر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد
دستور نیا، اور نئے دور کا آغاز

معلوم نہیں، ہے یہ خوشامد کہ حقیقت
کہہ دے کوئی الو کو اگر ‘رات کا شہباز


یہ نظم اقبال نے……… کے آخر میں لکھی تھی، جب قانون ہند مجریہ….. نیا نیا نافد ہوا تھا اور اس کی رو سے اہل ہند کو اپنی مرتبہ، صوبہ دار داخلی آزادی یا پراونشل ایٹانمی حاصل ہوئی تھی. کہتے ہیں کہ.
میں دنیا حاصل کرنے کے طریقوں سے پورے طور پر واقف نہیں ہوں لیکن ارباب نظر کی صحبت میں کچھ دنوں بیٹھنے کی بدولت مجھے بھی اس کے حصول کا طریقہ معلوم ہوگیا ہے.
اور وہ یہ ہے کہ اگر تم عہدہ خطاب جاگیر یا ٹھیکہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو حکومت رنج الوقت کے وزیروں کی کوٹھیوں کا طواف کر نیا دستور قانون نافد ہو رہا ہے اور نئے دور کا آغاز ہے.
اس وقت دنیا حاصل کرنے کا بہترین موقعہ ہے. اور اس سے فائدہ اٹھانے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے کر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد کر.
لیکن خوشامد، بذات خود ایک فن آرٹ ہے. مثلاً آلو کو اگر آپ آلو کہہ کر خطاب کریں گے یا اس سے کہیں گے کہ جناب آپ تو آلو ہیں. تو وہ ضرور ناراض ہوجائے گا. کیونکہ حقیقت ہمیشہ تلخ ہوتی ہے. لہذا آپ اپنی گفتگو میں آرٹ پیدا کیجئے، یعنی خوشامد کیجئے. مگر خوبصورتی کے ساتھ ادب کی موجودہ اصطلاح میں اسباب کو یوں ادا کرتے ہیں کہ خوشامد بھی ایک فن ہے. یعنی یوں کہیے کہ آپ تو رات کے شہباز ہیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: