(Zarb-e-Kaleem-155) (مناصب) Manasib

مناصب

ہوا ہے بندئہ مومن فسونی افرنگ 
اسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نم ناک

ترے بلند مناصب کی خیر ہو یارب 
کہ ان کے واسطے تو نے کیا خودی کو ہلاک

مگر یہ بات چھپائے سے چھپ نہیں سکتی 
سمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعت چالاک

شریک حکم غلاموں کو کر نہیں سکتے 
خریدتے ہیں فقط ان کا جوہر ادراک!


 

اس نظم میں اقبال نے ہندوستان کے ان مسلمانوں کی غیر اسلامی ذہنیت پر ماتم کیا ہے جنہوں نے بلند مناصب کے لیے مذہب اور ملت دونوں سے غداری کی کہتے ہیں کہ.

میں ان مسلمانوں کی ضمیر فروشی پر ماتم کرتا رہتا ہوں جنہوں نے چند روزہ زندگی کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے غداری کر کے انگریزوں سے جاگیریں خطاب یا عہدے حاصل کئے.

اے مسلمان! میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تیرے ان عہدوں کو قائم رکھے اور تو ساری عمر کتوں کے شکار میں مصروف رہے! کیونکہ تو نے ان نعمتوں کو اپنی خودی ضمیر اور ایمان جیسی بیش قیمت چیز انگریز کے ہاتھ بیچ کر خریدا ہے لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کیونکہ ہر عقل مند آدمی کو جانتا ہے کہ وہ یہ ہے کہ.

کوئی حکمراں قوم، محکوم قوم کو حکومت میں شریک نہیں کیا کرتی وہ خطابات دے کر یہ عہدے عطا کر کے صرف غلاموں کی عقل وخرد خرید رہتی ہے تاکہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں استعمال کر سکے.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close