(Zarb-e-Kaleem-156) (یورپ اور یہودی) Yorap Aur Yahood

یورپ اور یہود

یہ عیش فراواں، یہ حکومت، یہ تجارت
دل سینہ بے نور میں محروم تسلی

تاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھویں سے
یہ وادی ایمن نہیں شایان تجلی

ہے نزع کی حالت میں یہ تہذیب جواں مرگ
شاید ہوں کلیسا کے یہودی متولی!

متولي: نگران، انتظام کرنے والے۔


اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ مغربی تہذیب بہت جلد فنا ہونے والی ہے، اور چونکہ یہودی قوم، دولت مند بھی ہے اور مذہب دوست بھی ہے اس لیے ممکن ہے کہ کلیسائی نظام ان کے قبضہ میں آجائے یعنی سیاسی اور مذہبی اقتدار انہیں حاصل ہوجائے کہتے ہیں کہ

یورپ کی حکومتوں کے عہدیدار، نیز وہ لوگ جو وہاں برسر اقتدار ہیں، اور تاجر پیشہ لوگ اور عوام سبھی عیش وعشرت میں غرق ہیں شراب زنا اور قمار ان کی زندگی کے اجزائے لاینفک بن گئے ہیں. اس کا نتیجہ یہ ہے.کہ عیش وعشرت کے باوجود، ان کو اطمینان قلبی حاصل نہیں ہے.

یورپ کی فضا، مشینوں کے دھویں سے بالکل تاریک ہوگئی ہے یعنی وہاں کے لوگوں کے دل، مادہ پرستی اور ہوس زرکی وجہ سے بالکل سیاہ ہوگئے ہیں روحانی اور تقوی کا کہیں نام و نشان تک نہیں ہے اندریں حالات یہ گناہوں کی بستی اس لائق نہیں کہ یہ االلہ کی رحمت نازل ہو یورپین تہذیب جس پر پاکستانی حضرات اور خواتین دونوں مٹے ہوئے ہیں چند روز کی مہمان معلوم ہوتی ہے.

عنقریب اس کا خاتمہ ہوجائے گا اور بہت ممکن ہے کہ یورپ کے یہودی چونکہ وہ بے انتہا مالدار ہیں اور طاقت دراصل مالدار طبقہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے یورپ میں مذہبی اور سیاسی اقتدار حاصل کر لیں.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close