(Zarb-e-Kaleem-160) (مشرق) Mashriq

مشرق

مری نوا سے گریبان لالہ چاک ہوا
نسیم صبح، چمن کی تلاش میں ہے ابھی

نہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کی
کہ روح شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

مری خودی بھی سزا کی ہے مستحق لیکن
زمانہ دارو رسن کی تلاش میں ہے ابھی


 

اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ مشرق قوموں کو ابھی تک کوئی صحیح رہنما نصیب نہیں ہوا کہتے ہیں کہ.

میرے کلام اور پیغام کی بدولت، عوام کے اندر تو بیداری پیدا ہوگئی ہے یعنی مغربی اقوام کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوگیا ہے لیکن عوام کا یہ جذبہ حریت ابھی تک کسی رہنما کی تلاش کر رہا ہے.

مشرق قوموں کو، مغرب کی غلامی سے آزاد کرنے کی اہلیت مصطفی کمال پاشا میں تھی نہ رضا شاہ میں اس لیے مشرقی قومیں ابھی تک کسی صحیح رہنما کی تلاش میں سرگراں ہیں.

واضح ہو کہ مصطفی کمال نے ترکوں کو، اور رضا شاہ نے ایرانیوں کو مغرب کی غلامی سے آزاد کرنے کی جو کوششیں کیں وہ سب ناقص اور سطحی تھیں ان دونوں حکمرانوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ اگر ہم ترکوں اور ایرانیوں کو مغربی تمدن کے سانچہ میں ڈھال دیں تو یہ لوگ آزاد ہو جائیں حالانکہ سیاسی غلامی سے نجات پانے کے لیے سب سے پہلے ذہن کو آزاد کرنا ضروری ہے اور ذہنی تربیت کا فرض ان دونوں میں سے کسی نے انجام نہیں دیا.

کہتے ہیں کہ میں نے مشرقی قوموں کو بیدار کرنے کے لئے جو کوشش کی ہے، مغربی اقوام کی نگاہ میں یہ بہت بڑا جرم ہے یعنی ان کے زاویہ نگاہ سے میں نے بہت برا قصور کیا ہے جس کی سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن ان دشمنان دین کو ابھی تک میرے پیغام کی تاثیر کو فنا کرنے کے لیے کوئی ذریعہ یا طریقہ ہاتھ نہیں آیا ہے اس لئے یہ قومیں رات دن اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کوئی ایسی تحریک جاری کریں جس کی بنا پر مسلمانوں کی توجہ میرے پیغام سے ہٹکر ضروری امور پر مبذول ہو جائے اور وہ غلامی سے نجات پانے کی کوئی موثر کوشش نہ کر سکیں.

نوٹ=‏ اشتراکی ترقی پسند ادبیوں کی اقبال دشمنی کا باعث بھی یہی جذبہ انتقام ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: