(Zarb-e-Kaleem-162) (خواجگی) Khawajgi

خواجگی

دور حاضر ہے حقیقت میں وہی عہد قدیم
اہل سجادہ ہیں یا اہل سیاست ہیں امام

اس میں پیری کی کرامت ہے نہ میری کا ہے زور
سینکڑوں صدیوں سے خوگر ہیں غلامی کے عوام

خوگر: عادی۔

خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی
پختہ ہو جاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام


اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ دنیا کا رنگ جو آجکل سے دو ہزار سال پہلے تھا وہی آج ہے جس طرح پہلے آقا اور غلام کا طبقہ موجود تھا، آج بھی موجود ہے جس طرح قدیم زمانہ کے دولت مند روپے کے زور سے انسانوں کو اپنا غلام بنا تے تھے اسی طرح آج بھی بناتے ہیں کہتے ہیں کہ.

دنیا کے طور طریقے آج بھی وہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے دنیا کی ظاہری شکل بدل گئی ہے لیکن انسان کی خو بالکل نہیں بدلی. مثلا پہلے زمانہ میں اگر مذہبی پیشوا لوگوں کو اپنا غلام بناتے تھے تو موجودہ زمانہ میں یہ نیک کام اہل سیاست انجام دے رہے ہیں.
آج بھی یہی کیفیت ہے کہ یا تو اہل سجادہ یعنی مذہبی پیشوا لوگوں پر حکمراں ہیں یا اہل سیاست یعنی ارباب حکومت لوگوں کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہیں اور اس میں نہ تو ان کی پیروی کو خاص دخل ہے نہ ان کی میری حکومت کو. قصہ اصل میں یہ ہے کہ عوام الناس ہزاروں سال سے غلامی کے خوگر ہیں.
اور جب غلام، خوئے غلامی میں بچتہ ہو جاتے ہیں تو پھر خواجگی میں کوئی دشواری باقی نہیں رہتی. بنی آدم غلامی کے عادی ہوچکے ہیں، جس شخص میں تھوڑی سی بھی عقل ہوتی ہے وہ مذہبی یا سیاسی قیادت کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو اپنا غلام بنا لیتا ہے کوئی صلالح قیادت کا جال بچھاتا ہے تو کوئی جناح کے نام سے اپنی دوکان چمکاتا ہے چنانچہ ہماری بڑی بوڑھیاں اقبال کے اسی پیش کردہ نکتہ کو اس آسان طریق سے بیان کیا کرتی تھیں.

دنیا کو ٹھگونگر سے روٹی کھاؤ گھی شکر سے

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close