(Zarb-e-Kaleem-163) (غلاموں کے لئے) Ghulamon Ke Liye

غلاموں کے لیے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر

دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو
ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بنا پر تعمیر

حرف اس قوم کا بے سوز، عمل زار و زبوں
ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر

زار و زبوں: ذلیل و خوار۔


اس نظم میں اقبال نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ اگر کسی غلام کو آزادی حاصل کرنے کی تمنا ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ اپنے اندر ذوق یقین پیدا کرلے چنانچہ بانگ درا میں لکھتے ہیں.

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
‏ جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہے زنجیریں

اب سوال یہ ہے کہ یہ ذوق یقین کیا چیز ہے؟ خود اقبال نے اس موضوع پر اس قدر لکھا ہے. کہ ایک مقالہ مرتب ہو سکتا ہے. دو لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ اس قوم کے افراد اپنے اندر یہ عزم بالجزم پیدا کرلیں. کہ دنیا کی کوئی طاقت ہم کو غلام نہیں رکھ سکتی ہم ضرور بالضرور آزادی حاصل کریں گے دراصل انسان کی قوت ارادی ذوق یقین کا لازمی نتیجہ ہے کہتے ہیں کہ.
میں نے مشرق اور مغربی فلسفہ کے مطالعہ سے ایک نکتہ اخذ کیا ہے جو غلاموں کے لیے اکسیر کا حکم دے سکتا ہے.
دین، فلسفہ، فقیردرویشی، سلطانی وحکمرانی غرضیکہ زندگی کے ہر شعبہ میں کامیابی کے لیے عقیدہ کی بچتگی بہت ضروری ہے.
اس اصل کی روشنی میں اگر غلام قوم کے افراد آزادی کے طلب ہوں تو انہیں سب سے پہلے اپنے قائد کو بچتہ کرلینا چاہیے یعنی پہلے یہ یقین پیدا ہونا چاہیے کہ آزادی ہمارا پیدائشی حق ہے. کسی قوم کو حق حاصل نہیں کہ ہمیں غلام بنائے. اس لیے ہم ضرور غلامی کی زنجیریں توڑ کر رہیں گے. اس محکم یقین کے بعد عمل پہیم کی مدد سے کامیابی حاصل کا ہوسکتی ہے واضح ہو کہ قرآن مجید نے یقین محکم کو ایمان اور عمل پہیم کو عمل صالح سے تعبیر کیا ہے.
اور جو قوم اپنے عقائد میں، بچتگی پیدا نہیں کرتی، اس کی گفتگو میں کسی قسم کی تاثیر نہیں ہوتی اور اس کے اعمال میں کوئی سرگرمی یا طاقت پیدا نہیں ہوسکتی.
نوٹ= حضرات صحابہ کرام کے اقوال میں جو تاثیر اور اعمال میں جو سرگرمی پائی جاتی تھی وہ سب عقیدہ کی بچتگی کا نتیجہ تھی آج اگر مسلمان یہ عزم کر لیں کہ ہم کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کرکے رہیں گے تو انشاءاللہ وہ بہت جلد اپنے ارادہ میں کامیاب ہوجائیں گے ہمارے مرض کی دوانہ لندن میں ہے نہ کیک سکسیس میں بلکہ خود ہمارے اندر موجود ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: