(Zarb-e-Kaleem-166) (ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزوندوں کے نام) Ablees Ka Farman Apne Siasi Farzondon Ke Naam

ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام

لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں
زناریوں کو دیر کہن سے نکال دو

دير کہن: پرانی عبادت گاہ۔

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو

فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو

اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو

مرغزار: سبزہ زار، چراگاہ۔
ختن: وسطی ایشیا کا علاقہ جہاں کے مشک والے ہرن مشہور ہیں ۔

اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو


اس نظم میں اقبال نے ایک دلکش انداز میں فرنگی سیاست کو بے نقاب کیا ہے. عنوان کا مطلب یہ ہے کہ یورپ کی حکومتیں، بلااستثنا سب کی سب شیطان کی مطیع ہیں اور اسی کی معنوی اولاد ہیں. کہتے ہیں کہ.

ابلیس نے اپنے فرزندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ ہندوستان کے برہمنوں سے کو سیاسی مسائل میں اس حد تک الجھا دو کہ وہ اپنے مذہب کے اصول سے بیگانہ ہو جائیں.

واضح ہوکہ ہندوؤں کے مذہب میں دیا یعنی دوسروں پر مہربانی کرنا سب سے بڑی نیکی ہے. چنانچہ ان کی بعض مذہبی کتابوں میں یہ مقولہ درج ہے کہ.

دیا ہی دھرم ہے لیکن ابلیسی سیاست نے ان کو مذہب سے اس درجہ بیگانہ کر دیا ہے کہ آج یہ لوگ ہندوستان میں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں اور اس غیر انسانی فعل کو اپنے وطن کی سب سے بڑی خدمت سمجھتے ہیں.

مسلمان اگرچہ فاقہ کش لیکن اس کے باوجود ہر وقت مذہب کے نام پر سرکٹا نے کے لیے تیار رہتا ہے اس لیے اس کے دل سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بالکل نکال دو.

عربوں کو خوبصورت موٹریں، ریشمی کپڑے اور دیگر سامان عیش وعشرت خصوصا ہر قسم کے اعلیٰ سگریٹ کثیر تعداد میں سپلائی کرو اور ان کے خیالات کو اپنے سانچہ میں ڈھال دو. تاکہ حجاز اور یمن سے اسلام بالکل خارج ہوجائے اور یہ خطہ بھی دوسرا عراق اور مصر بن جائے.

اب رہے افغانی، تو ان کا علاج یعنی ان کی دینی غیرت کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ لوگ ملاؤں کے کہنے پر چلتے ہیں اس لیے سرحد اور آزاد علاقہ اور افغانستان میں جس قدر علماء ہیں سب کا خاتمہ کردو.

باقی ماندہ مسلمانوں کو ان کی قومی روایات سے بیگانہ کر دو، اس کی صورت یہ ہے کہ ایسا لٹریچر شائع کرو جس کے مطالعہ سے مسلمان نوجوان، اپنی ملی روایات اور اپنے بزرگوں کے طور طریقوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں. اور اسی قسم کی کتابیں، ان کے نصاب تعلیم میں داخل کردو.

ابلیس اس تلقین کو ایک تشہبیہ کے ذریعہ ذہن نشین کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ اگر آہو کو مرغزار ختن سے نکال کر، کسی دوسرے ملک میں رکھا جائے، تو وہ زندہ رہے گا لیکن اس کی ناف میں وہ جوہر پیدا نہ ہو سکے گا جس کی وجہ سے وہ ساری دنیا میں مشہور ہے، اور تمام دنیا کے آہوؤں پر تفوق رکھتا ہے. اسی طرح اہل انگلستان فرانس اطانیہ وغیرہ. مسلمانوں کو ان کی ملی روایات سے بیگانہ بنا دو، تو وہ حیوانات ناطق کی حیثیت سے زندہ تو رہیں گے لیکن ان کے دل میں وہ سوز پیدا نہ ہو سکے گا جس کی بدولت وہ کفر کا مقابلہ کرسکتے ہیں. ان کا وجود اور عدم دونوں یکساں ہو جائیں گے، بایں معنی کہ وہ تمہارے یعنی میرے قائم کردہ نظام کو درہم برہم نہیں کرسکیں گے، بلکہ صاف لفظوں میں اس صداقت کا اعلان کریں گے کہ ١٣٥٠ سال کا فرسودہ نظام اس ترقی یافتہ دور میں ہمارے لئے کارآمد نہیں ہو سکتا.

اقبال کا جرم یہ ہے کہ وہ مسلمانوں نوجوانوں کے دل میں اسلام کی تڑپ پیدا کر رہا ہے اور انہیں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درس دے رہا ہے. لہٰذا اس کو یہ سزا دو کہ وہ چمن سے نکل جائے.

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کمیونست ادیب اور شاعروں کو اقبال کی تحقیر اور اس کے کلام اور پیغام کی تردید تنقیص پر آمادہ کر دو.

نوٹ=: واضح ہو کہ پاکستان کے کمیونسٹ ادیب نہایت منظم طریقہ سے ابلیس کے اس مشورہ پر عمل کر رہے ہیں. چنانچہ کوئی تو یہ کہتا ہے کہ اقبال فاشزم کا حامی تھا مسلمانوں کو تیرہ سو سال کے غیر مذہب زمانہ کی طرف لیجانا چاہتا تھا اور کوئی یہ کہتا ہے اقبال کا پیغام کو موقوںں کے لیے بمنزلہ افیون ہے کیونکہ وہ ان کو مذہب اور خدا کا پابند بناتا ہے.

مقصد ان تنزل پسندوں کا یہ ہے کہ اقبال پر ایسے ایسے الزامات عائد کرو اور اس کے کلام کو اس رنگ میں پیش کرو کہ مسلمانوں ہی کو نہیں بلکہ ہر سمجھدار آدمی کو اس سے نفرت ہو جائے یہی وجہ ہے کہ کمیونسٹ ادیب، جب اقبال پر کچھ لکھتا ہے، تو جب تک اس پر رجعت پسندی کا الزام عائد نہیں کر لیتا، اپنے مقالہ کو مکمل نہیں سمجھتا. اور ارباب نظر سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ کمونزم کی لغت میں کسی شخص کی مذمت کے لیے رجائیت پسند سے شدید تر اور کوئی لفظ نہیں ہے میں اپنے اس دعوے کے ثبوت میں مسٹر عزیز احمد کی تازہ ترین تالیف، موسومہ اقبال نئی تشکیل….. سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں.

واضح ہوکہ یہ الزام وہ شخص عائد کر رہا ہے جس نے اپنی کتاب میں اشتراکی ادبیوں کے مقابلہ میں کئی مقامات پر اقبال کی حمایت کی ہے. لیکن بہرحال چونکہ مصنف خود اشتراکیت بلکہ اشتمالیت کا مقلد ہے اس لیے اقبال رجعت پسندی کا الزام عائد کرنے سے وہ خود بھی بازنہ رہ سکا غالباً اس تصریح کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ اقبال کا سب سے بڑا جرم یہی ہے اس نے ملوکیت کے ساتھ اشتراکیت پر بھی حملہ کیا ہے اور یہ جرم مذہب اشتراکیت میں ناقابل معافی ہے. اقبال ہی پر کیا منحصر ہے. جو مسلمان بھی اشتراکیت پر اعتراض کرے گا. وہ ان ترقی پسندوں کی رائے ہیں رجعت پسند قرار پائے گا اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس تعصف اور تنگ نظری کے باوجود یہ اشتراکی ادیب اپنے آپ کو ترقی پسند سمجھتے ہیں حالانکہ اگر ترقی پسندی اسی کا نام ہے تو خدا معلوم تنزل پسندی کسے کہتے ہیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: