(Zarb-e-Kaleem-168) (سلطانی جاوید) Sultani-e-Javed

سلطانی جاوید

غواص تو فطرت نے بنایا ہے مجھے بھی
لیکن مجھے اعماق سیاست سے ہے پرہیز

اعماق: گہرائیاں ۔
غواص: غور و خوض۔

فطرت کو گوارا نہیں سلطانی جاوید
ہر چند کہ یہ شعبدہ بازی ہے دل آویز

فرہاد کی خارا شکنی زندہ ہے اب تک
باقی نہیں دنیا میں ملوکیت پرویز

خارا شکني: پتھر توڑنا۔


اس نظم اقبال نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ افراد کی سلطنت ہمیشہ قائم نہیں رہتی لیکن ان کی جدوجہد کی داستان، ہر زمانہ میں لوگوں سے خراج تحسیں وصول کرتی رہتی ہے مثلا اشوک نے تمام ہندوستان فتح کرکے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کردی تھی اگرچہ وہ تو اس کی وفات کے کچھ عرصہ کے بعد ختم ہوگئی لیکن اس نے بنی آدم کی بہتری کے لیے جدوجہد کی تھی اس کو صفت صفت دوام حاصل ہوگئی. اسی طرح بطل اسلام غازی صلاح الدین ایوبی نے جو سلطنت قائم کی تھی وہ تو مٹ گئی لیکن اسکا کارنامہ ابھی تک زندہ ہے وہ کارنامہ کیا تھا؟ اس کی وہ جدوجہد جو اس نے اسلام کی سربلندی کے لئے کی تھی. غرض فطرت کو سلطانی جاوید پسند نہیں ہے خارا شکنی پسند ہے وہ سلطنتوں کو مٹاتی رہتی ہے لیکن جدوجہد کے ثمرات اور کارناموں کو باقی رکھتی ہے.

اقبال کہتے ہیں کہ اگرچہ مجھے اللہ نے یہ لیاقت عطا فرمائی ہے کہ میں بات کی تہ کو پہنچ جاتا ہوں جس طرح غواص سمندر کی تہ میں پہنچ کر موتی نکال لیتا ہے. لیکن میں سیاست کی گہرائیوں میں اس طرح غوطہ زن نہیں ہوتا کہ فطرت کی نظر میں سلطنتوں کا قیام کوئی وقعت نہیں رکھتا. سلطتیں بنتی رہتی ہیں. اور بلبلوں کی طرح ٹوٹتی رہتی ہیں. پس جو شئے بذات خود پائیدار نہیں اس میں غور خوض بھی چنداں مفید نہیں ہے.

جس طرح عقلمند آدمی کی نگاہ میں شعبدوں کی کوئی وقعت نہیں اسی طرح میری نظر میں سلطنتوں کی کوئی قیمت نہیں. جس طرح ایک شعبدہ باز تھوڑی دیر کے لئے ہتھیلی پر سرسوں جما کر، ناظرین کو خوش کر دیتا ہے لیکن دراصل اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی. اسی طرح سلطنتیں بنتی رہتی ہے اور بگڑتی رہتی ہیں.

مثال کے طور پر ملوکیت پرویز پرگھور کرلو. آج دنیا میں پرویز کی سلطنت کا وجود نہیں ہے اور سوائے مورخوں کے کوئی اس کا نام بھی نہیں جانتا. لیکن فرہاد کی خارا شکنی جدجہد کا قصہ آج بھی زبان زد خلائق ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: