(Zarb-e-Kaleem-169) (جمہوریت) Jumhooriat

جمہوریت

اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے


اس نظم میں اقبال نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اگرچہ آج کل دنیا میں ہرشخص جمہوریت کا ثناخواں ہے اور اس کو بہترین طرز حکومت سمجھتا ہے لیکن دراصل یہ کوئی قابل تعریف تحسین طریق حکومت نہیں ہے کیونکہ اس میں سب سے بڑا اور بنیادی نقص یہ ہے کہ اس طرز حکومت میں انسانوں کی عقل وخرد کی کوئی قیمت نہیں ہے.

مثلا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ دس عقلمند آدمی ایک ہزار بلکہ ایک لاکھ بیوقوں پر فوقیت رکھتے ہیں لیکن اس طرز حکومت میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دس عقلمند آدمی کیا کہتے ہیں؟ بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ نوے آدمی خواہ ان میں ایک بھی عقلمند نہ ہو، کیا کہتے ہیں. یعنی انسانوں کو شمار کیا جاتا ہے ان کی بات کو وزن نہیں کیا جاتا، اقلیت کی بات یا رائے خواہ کتنی ہی معقول کیوں نہ ہو مردود ہے، اور اس کے مقابلہ میں اکثریت کی رائے خواہ وہ کتنی ہی غیر معقول کیوں نہ ہو مقبول ہے جمہوری طرز حکومت میں اس سے بحث نہیں ہوتی کہ حق وصداقت کس طرف ہے، بلکہ وہاں اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ اکثریت کس طرف ہے.

اقبال کی نظم کا مطلب تو یہاں ختم ہوگیا، اب میں ایک بات کا اور اضافہ کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جمہوری طرز حکومت میں، دراصل حکومت جمہوری کی نہیں ہوتی اگرچہ بظاہر ایسا ہی نظر آتا ہے کہ جمہوری حکومت میں جمہوری حکومت کرتے ہیں بلکہ ان گنتی کے چند افراد کی ہوتی ہے. جواپنی دولت، عہدہ، اثرور سوخ، جاگیر یا خاندانی تفوق کی بنا پر عوام جمہور کے ووٹ( رائے) خرید سکیں یا جواپنی عیاری، زمانہ سازی یا چرب زبانی کی بدولت جمہور کو اپنی ہمدردی یا خیر خواہی یا اپنی صلاحیت اور روحانیت کا یقین دلا سکیں. بہ الفاظ دگر انہیں سبز باغ دکھا سکیں. یا جوکسی اصول یا اخلاقی ضابطہ کے پابند نہ ہوں مثلا تقسیم ہند سے پہلے جس پاکستان کے قیام کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے ہوں اور اس کو مسلمانوں کے لئے سم قاتل قرار دے چکے ہوں.

قیام پاکستان کے بعد اسی سم قاتل کو بے تکلف آب خیات سمجھنے لگیں اور خدائی فوجدار بن کر اس کی زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے رات دن پوسٹر بازی اور تقریروں میں مصروف رہیں. اور محتاج اصطلاح ہونے کے باوجود، قوم کی اصلاح کے اجارہ دار بن جائیں اور کبھی اس حقیقت کے سمجھنے کی کوشش نہ کریں کہ

اوخویشیتن گم است کرار رہبری کند

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: