(Zarb-e-Kaleem-170) (یورپ اور سوریا) Yorap Aur Suriya

یورپ اور سوریا

فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے کیا
نبی عفت و غم خواری و کم آزاری

صلہ فرنگ سے آیا ہے سوریا کے لیے
مے و قمار و ہجوم زنان بازاری

سوريا: ملک شام ، جس میں موجودہ لبنان ، اسرائیل، فلسطین اور مشرقی اردن شامل تھے۔


 

اس نظم میں اقبال نے بنی آدم کی ایک مشہور خصوصیت یعنی احسان فراموشی کو ایک مثال کے ذریعہ سے سمجھایا ہے کہتے ہیں کہ ملک شام نے فرنگیوں کو ایک نبی حضرت عیسٰی عطا کیا جس نے دنیا کو پاکیزگی، ہمدردی اور خیرخواہی کا درس دیا.

لیکن فرنگیوں نے جب اس ملک پر قبضہ کیا تو ان اصولوں کی ترویج کے بجائے، اہل شام کو دنیا کی تین بڑی نعمتیں عطا کیں. یعنی شراب، جوا، اور فاتحہ عورتیں. بالفاظ دگر نیکی کا بدلہ بدی سے دیا.

نوٹ: ملک شام ہی پر کیا منحصر ہے ان منحوس فرنگیوں کے قدم جس ملک میں بھی گئے انہوں نے انہیں نعمتوں کو رائج کیا. دور جانے کی کیا ضرورت ہے پاکستان ہی کو دیکھ لیجئے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: