(Zarb-e-Kaleem-171) (مسولینی) Mussolini

مسولینی

اپنے مشرقي اور مغربي حريفوں سے


کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم!
بے محل بگڑا ہے معصومان یورپ کا مزاج


میں پھٹکتا ہوں تو چھلنی کو برا لگتا ہے کیوں
ہیں سبھی تہذیب کے اوزار ! تو چھلنی، میں چھاج

میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو تم
تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زجاج؟

زجاج: شیشے۔

یہ عجائب شعبدے کس کی ملوکیت کے ہیں
راجدھانی ہے، مگر باقی نہ راجا ہے نہ راج

آل سیزر چوب نے کی آبیاری میں رہے
اور تم دنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج!

تم نے لوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام
تم نے لوٹی کشت دہقاں، تم نے لوٹے تخت و تاج

کشت دہقاں: کسان کی فصل۔

پردہ تہذیب میں غارت گری، آدم کشی
کل روا رکھی تھی تم نے، میں روا رکھتا ہوں آج


اس نظم میں اقبال نے مسولینی کے کرکمیڑ یا طرز عمل یا اس کے وضع کردہ نظام حکومت کی حمایت نہیں کی ہے بلکہ اسکے پردہ میں اسکے مخالفوں کی عیاری کا راز فاش کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ جو مغربی قومیں اس کو مورد الزام بنا رہی ہیں. وہ اس سے بڑھ کر ظالم ہیں. بلکہ اس کو توفیق حاصل.ہے وہ یہ کہ مسولینی اپنی ملوکیت کو جمہوریت کے پردہ میں چھپا کر دنیا کو دھوکہ نہیں دیتا اگر فاستزم مذموم ہے تو امپیر یلزم بھی مذموم ہے.

نوٹ:‏ اس موقع پر مجھے اکبر الہ آبادی کا ایک شعر یاد آگیا جو میرے مطلب کو بڑی خوبی کے ساتھ واضح کر سکتا ہے لکھتے ہیں. 

‏اسے قرار غوا ہے یہ اغوا کو چھپاتے ہیں.
‏علیہ اللعن ہے شیطان لیکن ان سے اچھا ہے.

یعنی شیطان اور انگریز دونوں، انسانوں کو راہِ راست سے بہکارتے ہیں لیکن شیطان کو انگریزوں پر ایک فضیلت حاصل ہے وہ یہ کہ

اسے قرار گواہ ہے یہاں اغوا کو چھپاتے ہیں

مسولینی کہتا ہے کہ یورپ کی جمہوریت نواز قومیں بلاوجہ مجھ سے ناراض ہیں حالانکہ میرا طرز عمل اگر مذموم ہے تو ان کا طرز عمل بھی مذموم ہے.

تم اور میں، ہم دونوں ایک ہی تہذیب کے علمبردار ہیں تمہاری سیاست بھی لادین ہے میری سیاست بھی لادین ہے. حقیقت ایک ہی ہے صرف طریق کار کا فرق ہے دراصل ہم تم دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں.

تم کس منہ سے مجھ پر حبشہ پر حملہ کرنے کا الزام عائد کر سکتے ہو؟ کیا تم نے میری طرح دنیا کی کمزور قوموں کو اپنا غلام نہیں بنایا؟

کیا تم نے بیگناہ اور کمزور قوموں کے حکمرانوں کو نیست و نابود نہیں کر دیا مثلاً دہلی تو موجود ہے لیکن شاہ دہلی کہاں ہے؟

کیا یہ بھی کوئی انصاف ہے کہ حکومت اٹلی تو زمین کے غیر آباد حصوں کو آباد کرنے میں اپنا خزانہ خالی کرتی ہے اور تم لوگ بنجر زمینوں سے بھی خراج وصول کرکے اپنے خزانے معمور کرتے رہو؟ آل سیزر سے مراد اٹلی کے حکمراں ہیں.

کیا یہ ایک حقیقت ثانیہ نہیں کہ تم نے اشارہ بجانب انگلستان، فرانس ہالینڈ وغیرہ. غریب صحرانشینوں افریقہ کی قوموں کے گھر بار تباہ کئے تم نے کاشتکاروں کی کھیتیاں تباکیں. تم نے کمزور حکومتوں کے تختے الٹ دیے؟ تم نے بیگناہ لوگوں پر بم برسائے.

میں تو تمہارے ہی نقش قدم پر چل رہا ہوں. تہذیب کے پردہ میں جو غارتگری اور قتل انسانی تم نے کل روارکھا تھا میں آج روارکھا ہوں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ جو کام تم مدتوں سے کرتے رہے ہو وہی اب میں کر رہا ہوں تم امپیر ئیلزم کے حامی ہو میں فاشزم وکیل ہوں، لیکن مقصد تو ان دونوں تحریکوں کا ایک ہی ہے. بیگناہ قوموں کا خون بہانا اور انہیں اپنا غلام بنانا.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: