(Zarb-e-Kaleem-172) (گلہ) Gila

گلہ

معلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب تک
بیچارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں ہے

دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ
بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمیں ہے

جاں بھی گرو غیر، بدن بھی گرو غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں ہے

گرو غير: دوسروں کے پاس رہن رکھی ہوئی۔

یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے


واقعی خوب نظم ہے اور آخری شعر تو پوری نظم کی جان ہے کہتے ہیں کہ.

خدا جانے ہندوستان کا حشر کیا ہوگا اور کبھی اس ملک کو آزادی نصیب ہوگی یا نہیں؟ ابتک یہ ملک، تاج برطانیہ کا سب سے قیمتی گوہر ہے. 

نوٹ: واضح ہوکہ مصرع دراصل انگریزوں کے اس مقولہ کا ترجمہ ہے.

انگریزوں نے سرمایہ دارانہ نظام قائم کرکے اس ملک کے کاشتکاروں اور مزدوروں کی یہ حالت کر دی ہے کہ وہ قبر کے مردے معلوم ہوتے ہیں.

ان کی روح اور ان کا بدن دونوں غیروں کے قبضہ میں ہیں یعنی نہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں اور نہ اپنے اعضائے جسمانی کو اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں اور ان کی جسمانی محنت کا ثمرہ تو زمیندار وصول کرلیتا ہے کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ان غریبوں کے پاس رہنے کو مکان بھی نہیں ہے اور مکان تو بڑی چیز ہے یہ تو اپنے جسم کے بھی مالک نہیں ہیں. الغرض انگریزوں کی غلامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ مکان باقی رہا نہ مکین.

لیکن ان سب باتوں کے باوجود مجھے یورپ سے گلہ نہیں ہے بلکہ تجھ ہندوستان کے کاشتکاروں مزدورں اور محنت کش طبقوں سے گلہ ہے تو، انگریزوں یا ان کے ایجنٹوں کی غلامی پر راضی کیوں ہے.؟

واضح ہوکہ اس نظم میں اقبال نے ہم کو انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے کا مشورہ دیا ہے، اور یہ کوئی دنیا مشہور نہیں ہے……. میں بھی ہماری قوم کے علماء نے متفقہ طور پر یہی مشورہ بلکہ فتوی دیا تھا کہ‏ انگریز کی اطاعت حرام ہے، اور میری دعا یہ ہے کہ اللہ وہ دن جلد لائے جب ہم پاکستان کے مسلمان، انگریزوں کے خلاف بغاوت کر سکیں.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close