(Zarb-e-Kaleem-173) (انتداب) Intadab

انتداب

کہاں فرشتہ تہذیب کی ضرورت ہے
نہیں زمانہ حاضر کو اس میں دشواری

جہاں قمار نہیں، زن تنک لباس نہیں
جہاں حرام بتاتے ہیں شغل مے خواری

تنک لباس: کم لباس ، نیم عریاں۔

بدن میں گرچہ ہے اک روح ناشکیب و عمیق
طریقہ اب و جد سے نہیں ہے بیزاری

ناشکيب و عميق: بے صبر اور گہری۔
اب و جد: باپ دادا۔

جسور و زیرک و پردم ہے بچہ بدوی
نہیں ہے فیض مکاتب کا چشمہ جاری

جسور: بہادر۔
بچہ بدوي: عرب کے بدو کا بیٹا۔

نظروران فرنگی کا ہے یہی فتوی
وہ سرزمیں مدنیت سے ہے ابھی عاری

نظروران: دانشمند۔


واضح ہوکہ اس دلکش طنزیہ نظم میں اقبال نے ہمیں انتداب کی لغتوں سے آگاہ کیا ہے یعنی انگریز اور دوسری طاغوتی قومیں جب مسلمانوں کے کسی ملک پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں تو دنیا میں یہ اعلان کرتی ہیں کہ ہم اس خطہ کو مہذب بنانا چاہتے ہیں اس لیے اس پر اپنی حکمداری انتداب قائم کررہے ہیں. یعنی ہمارا مقصد اس ملک پر قبضہ کرنے سے بہت مستحسن ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ یہ شیطانی جماعتیں جس ملک پر قبضہ مخالفانہ نہ کرتی ہیں وہاں ہر قسم کی برائیاں رائج دیتی ہے اور محکوم قوم ان برائیوں میں اس درجہ مہنک کر دیتی ہیں پھر وہ قوم جذبہ جہاں سے بالکل بیگانہ ہو جاتی ہے.
مثلاً امریکہ کے طرز عمل پر غور کرو. عصر حاضر کا یہ فرعون حجاز بلکہ عرب پر اپنا اقتدار قائم قائم کرنا چاہتا ہے تو اس نے اس کی صورت یہ نہیں اختیار کی کہ فوجیں بھیج کر قبضہ کر لیتا اور بلاوجہ تمام دنیا کے مخالفت مول لیتا بلکے وہ سلطان ابن سعود کی وساطت سے عربوں کو مذہب بنا رہا ہے اور اس تہذیب کی ابتدا خود جلالہ الملک اور اس کے خاندان سے ہوئی ہے سلطان چونکہ بندہ ذر ہے. اس لیے بڑی آسانی سے کفار کا آلہ کار بن گیا. اور اب اس دیندار وہابی بادشاہ کی بدولت سرزمین حجاز برکات تہذیب و تمدن سے بہرہ انداز ہو رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب بادیہ نشینوں کا یہ ملک تہذیب تمدن کے اعتبار سے مصر و شام اور عراق کا ہم پلہ ہو جائے گا اقبال کہتے ہیں کہ عصر حاضر میں یورپ کی جو قومیں برسر اقتدار ہیں، ان کو یہ معلوم کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ کونسا ملک غیر مذہب ہے.

اس بات کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی ملک کے لوگ جوا نہیں کھیلتے، اور وہاں کی عورتیں اپنے جسم کو غیروں کی للچائی ہوئی نگاہوں سے بچانے کے لئے اسلامی لباس پہنتی ہیں، اور اگر وہاں کے لوگ شراب نوشی کو حرام سمجھتے ہیں.

اور کشمکش باطنی کے باوجود، بزرگوں کے طور طریقوں کا احترام کیا جاتا ہے یعنی ملی روایات پر عمل کیا جاتا ہے.

اور اگر وہاں کے دیہاتی، بہادر عقلمند اور صاحب حوصلہ ہیں اور اگر ان کے گانوں میں اسکول نہیں ہیں تو.

یورپ کے تمام عقلمندوں کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ سر زمین بالکل غیر مذہب ہے. اس لیے انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اسے مہذب بنائیں اور اس لیے اس پر اپنا تسلط قائم کریں.

نوٹ: ایران، مصر، ترکی شام اور عراق کی مسلمان عورتوں تہذیب کے تمام مدارج طے کر چکی ہے چنانچہ چند سال ہوئے ایک ترکی کی خاتون کو حسن کے مقابلہ میں اوّل درجہ کا نام ملا تھا لیکن مجھے افسوس ہے کہ دولت خداداد پاکستان کی مسلمان عورتیں اس اعتبار سے ابھی بہت پسماندہ ہیں. اس لئے میں کل پاکستان انجمن خواتین کراچی سے درخواست کروں گا کہ وہ اسلامی غیرت کو کام میں لا کر، عورتوں کے اندر حسن کے مقابلہ میں شرکت کا جذبہ پیدا کریں تاکہ ہمارا ملک بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جگہ پا سکے آخر وہ قیانوسیت اور رجعت پسندی کے یہ دلدوز طغے کبتک برداشت کرتی رہیں گی؟ ضبط کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: