(Zarb-e-Kaleem-174) (لا دین سیاست) La Deen Siasat

لادین سیاست

جو بات حق ہو، وہ مجھ سے چھپی نہیں رہتی
خدا نے مجھ کو دیا ہے دل خبیر و بصیر

خبير و بصير : جاننے اور دیکھنے والا۔

مری نگاہ میں ہے یہ سیاست لا دیں
کنیز اہرمن و دوں نہاد و مردہ ضمیر

دوں نہاد: کم اصل۔
کنیز اہرمن : شیطان کی لونڈی۔

ہوئی ہے ترک کلیسا سے حاکمی آزاد
فرنگیوں کی سیاست ہے دیو بے زنجیر

متاع غیر پہ ہوتی ہے جب نظر اس کی
تو ہیں ہراول لشکر کلیسیا کے سفیر


اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ فرنگیوں کی سیاست لادینی اور الحاد پر مبنی ہے اس لئے یہ شیطانی نظام، کسی صورت سے بھی بنی آدم کے حق میں مفید نہیں ہو سکتا. اور یہ فساد اس لیے رونما ہوا ہے فرنگیوں نے یہ شیطانی اصول اختیار کرلیا ہے مذہب کو سیاست سے کوئی واسطہ نہیں ہے کہتے ہیں کہ.

قرآن اور حدیث کے مطالعہ نے میرے اندر ایسی بصیرت پیدا کر دی ہے کہ میں حق و باطل میں تمیز کر سکتا ہوں.

چنانچہ جب میں نے فرنگیوں کی سیاست کا مطالعہ کیا تو مجھ پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ان کی سیاست، اللہ تعالی کے قانون سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی بلکہ شیطانی تعلیمات پر مبنی ہے اس لئے جو لوگ اس سیاست کو اختیار کرتے ہیں وہ نیکی اور پاکیزگی سے معرا ہوکر حیوان بن جاتے ہیں اور ان کی طبیعت میں سستی آ جاتی ہے. اور ان کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے.

چونکہ مغربی اقوام نے اپنی سیاست کو مذہب سے جدا کر دیا ہے اس لیے ان کی مثال اس دیو کی سی ہے جو ہر قسم کے اخلاقی قیود سے آزاد ہوجائے اور ہر وقت انسانوں کو تباہ کرنے پر آمادہ رہے.

چنانچہ جب مغربی اقوام کسی ایشیائی ملک پر زبردستی قبضہ کرنا چاہتی ہیں. تو پادریوں کو بطور آلہ کار استعمال کرتی ہیں. اور خود حملہ آور ہونے سے پہلے ان کو، اپنے لشکر کا ہراول مقدمتہ الجش بناکر مذہب عیسوی کی تبلیغ کے لیے بھیج دیتی ہیں. اور یہ لوگ لادینی سیاست کی تبلیغ کرکے، ان قوموں کی فتوحات کے لیے راستہ صاف کر دیتی ہیں.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: