(Zarb-e-Kaleem-175) (دام تہذیب) Daam-e-Tehzeeb

دام تہذیب

اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملت مظلوم کا یورپ ہے خریدار

یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے
بجلی کے چراغوں سے منور کیے افکار

جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار

عقدہ دشوار: مشکل گتھی یا سوال۔

ترکان ‘جفا پیشہ’ کے پنجے سے نکل کر
بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار


اقبال نے اس نظم میں یہ حقیقت واضح کی ہے کہ یورپ کی حکومتوں کا طریق کار یہ ہے کہ وہ ایشیائی ممالک میں ایسی عیاری کے ساتھ اثرورسوخ قائم کرتی ہے کہ نادان قومیں ان کے پھندے میں پھنس جائیں. مثلا انہوں نے عربوں سے یہ کہا کہ ترک تمہارے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور انہوں نے بلاوجہ تمہیں اپنا غلام بنا رکھا ہے، ہم تمہاری مدد کے لیے تیار ہیں تم ہمارا ساتھ دو ہم تمہیں غیر مہذب ترکوں کے پنجہ سے رہائی بھی دلائیں گے اور مہذب بھی بنائیں گے یعنی تمہارے ملک میں مدر سے اور شفاخانے قائم کریں گے ریلیں بنائیں گے، صنعت وحرفت کو فروغ دیں گے وغیرہ وغیرہ. چونکہ عرب بیوقوف تھے اس لیے انگریزوں اور فرانسیسیوں کے جال میں پھنس گئے اور اب اپنی تقدیر کو رو رہے ہیں. کہتے ہیں کہ

مجھے اہل یورپ کی شرافت میں کچھ شک نہیں ہے یہ شریف لوگ دنیا کی ہر مظلوم قوم کے ہمدرد ہیں.

چناچہ انہوں نے جس ملک پر اپنا اقتدار قائم کیا وہاں پاکیزہ خیالات سے دلوں کو منور کرنے کے بجائے. بجلی کے قمقموں سے لوگوں کے دماغ روشن کر دیئے.

لیکن شام اور فلسطین کے حال زار پر مجھے سخت افسوس آتا ہے اور ان کی نجات کی کوئی تدبیر میری سمجھ میں نہیں آتی.

انگریزوں نے ان لوگوں کو ظالم ترکوں کے پنجہ سے تو بخش نجات دلادی لیکن اب یہ لوگ تہذیب کے پھندے میں اس طرح گرفتار ہوگئے ہیں ان کی رہائی کی کوئی امید نہیں ہے.

جن لوگوں نے پہلی جنگ عظیم کے بعد سے شام، اعراق شرق اردن اور مصر کے حالات کا مطالعہ کیا ہے کہ ان سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے جب سے یہ ممالک ترکوں کی علمداری سے آزاد ہوئے ہیں ہر قسم کی مصیبتوں میں مبتلا ہیں خصوصاً فلسطین کے عرب تو پچاس سال سے خانہ جنگی کی لغت میں گرفتار ہیں. اقبال نے عربوں کی اسی حماقت پر یہ دلخراش تبصرہ کیا ہے.

بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: