(Zarb-e-Kaleem-177) (ایک بحری قزاق اور سکندر) Aik Behri Qazzaq Aur Sikander

ایک بحری قزاق اور سکندر

سکندر

صلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے میری
کہ تیری رہزنی سے تنگ ہے دریا کی پہنائی

قزاق

سکندر! حیف، تو اس کو جواں مردی سمجھتا ہے
گوارا اس طرح کرتے ہیں ہم چشموں کی رسوائی؟

ترا پیشہ ہے سفاکی، مرا پیشہ ہے سفاکی
کہ ہم قزاق ہیں دونوں، تو میدانی، میں دریائی


اس نظم میں اقبال نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ ملوکیت اور قزاقی میں صرف نام کافرق ہے دراصل دونوں ایک ہیں.

سکندر نے ایک بحری ڈاکو سے کہا کہ تیری رہزنی اور لوٹ مارسے بحری مسافر بہت عاجز اور پریشان ہیں اس لیے میں تجھے یا قید میں رکھوں گا یا قتل کردوں گا اس جرم کی سزا بہر حال دوں گا.

یہ بات سن کر اس دانشمند ڈاکو نے سکندر سے یہ کہا کہ مجھے یہ تیری بات سن کر بہت رنج ہوا کیونکہ تو نے یہ بات کہہ کر اپنے پیشہ اور اپنے ہم پیشہ لوگوں کی سخت توہین اور رسوائی کی ہے. کیا تو اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ تیرا پیشہ بھی تو میری طرح لوٹ مارا اور قزاقی اور سفا کی اور خونریزی اور قتل وغارت ہی ہے فرق اگر ہے تو صرف اتنا کہ میں دریا میں لوٹ مار کرتا ہوں تو خشکی میں قتل وغارت کرتا ہے.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close