(Zarb-e-Kaleem-178) (جمیعت اقوام) Jamiat-e-Aqwam

جمعیت اقوام

بیچاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے
ڈر ہے خبر بد نہ مرے منہ سے نکل جائے

تقدیر تو مبرم نظر آتی ہے ولیکن
پیران کلیسا کی دعا یہ ہے کہ ٹل جائے

مبرم: اٹل۔

ممکن ہے کہ یہ داشتہ پیرک افرنگ
ابلیس کے تعویذ سے کچھ روز سنبھل جائے

داشتہ پيرک افرنگ: بوڑھے فرنگی کی داشتہ۔


اقبال نے اس نظم میں اس جمعتہ اقوال کی حالت راز کا نقشہ کھینچا ہے جو پہلی جنگ عظیم کے بعد یورپ کے کفن چوروں نے اپنے فائدہ کے لئے قائم کی تھی اس جنیوا والی لیگ آف نیشنز کے متعلق اقبال نے پیام مشرق اور ضرب کلیم کئی نظمیں لکھی ہیں.

اس زمانہ میں اقبال نے نظم لکھی تھی، جمیعتہ مذکورہ اپنی بے ایمانی اور انصافی کی وجہ سے ساری مشرقی دنیا میں بد نام ہو چکی تھی اور اس کا بہرم بالکل چکا تھا اس لیے اقبال نے یہ قیاس ظاہر کیا کہ عنقریب یہ لیگ ختم ختم ہوجائیگی چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد ایسا ہی ظہور میں آیا.

کالج کے نوجوانوں کی اطلاع کے لئے یہ صراحت ضروری ہے کہ لیگ آف نیشنز، کا طرزعمل ایسا شریفانہ اور عادلا نہ تھا جیسا آج کل کی یو، این یعنی تنظیم اقوام متحدہ کا ہء جو لیگ آنجہانی کی سچی اور جانشین ہے. چنانچہ مسئلہ کشمیر میں اس تنظیم کی انصاف دوستی ہر کہ دمہ پر آشکار ہو چکی ہے.

جمیعۃ اقوام اب عنقریب ختم ہونے والی ہے اور وہ دن دور نہیں ہے جب ہم یہ خبر پڑھیں گے کہ اس کا خاتمہ ہوگیا.

اس کی موت تو قطعی ہے. یہ لیکن پیران کلیسا اس کے حق میں بڑے درد دل والے کے ساتھ دعائیں کر رہے ہیں کہ ابھی یہ کچھ دنوں اور جیتی رہے تقدیر سے یہاں مراد ہے خدائی فیصلہ یا خاتمہ مبرم بمبئی قطعی یقینی ہوٹل نہ سکے تقدیر کی دوقسمیں ہیں تقدیر مبرم اور تقدیر معلق.

پیران کلیسا بھی اقبال کی خاص اصطلاح ہے. اس سے مراد ہیں وہ ارباب سیاست جو اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے مذہب کی حمایت کرتے ہیں.

پیران کلیسا کے لغوی معنی تو ان پادریوں کے ہیں جو رومی یا پردتستانی کلیسا میں بلند مناصب پر فائز ہوں. مثلا بطریق یا اسقف اعظیم لیکن اقبال کی مراد، ان مذہبی پیشواؤں سے نہیں ہوا کرتی.

نوٹ= میں نے اس شرع میں لفظوں اور اصطلاحوں کی تشریح بہت کم کی ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کام میں نے فرہنگ اقبال کے مخصوص کر دیا ہے.

اگرچہ اس کا خاتمہ یقینی ہے لیکن یہ ممکن ہے کہ فرنگی اقوام کی یہ داشتہ یا خادمہ ابلیس کے تعویذ سے کچھ روز سنبھل جائے یعنی ان عیار فرنگی اقوام کی شیطانی چالو اور فریب کاریوں کی بدولت کچھ دنوں اور قائم رہے.

نوٹ: جمعیتہ اقوام سے علامہ کو جس قدر نفرت تھی اس کا اندازہ اس شعر سے بخوبی ہوسکتا ہے. انہوں نے اس لیے داشتہ کا لفظ استعمال کیا ہے جو اپنی رکاکت کی وجہ سے اس کے شایان شان نہیں ہے میرا مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ جوش ملیح آبادی اور اس واضح قماش کے دوسرے تنزل پسندوں کی شاعری میں تو بالکل جائز اور موزوں ہے لیکن اقبال کے یہاں اس کا استعمال ذوق سلیم پر گراں ہوتا ہے مگر کیا کیاجائے، جمیت مذکورہ کی حقیقی حیثیت یا اس کے زمانہ میں یو، این، او کی حقیقی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے اس سے بہتر اور کوئی لفظ سمجھ میں نہیں آتا.

دوسرے مصرع میں ابلیس کے تعویذ سے یہ حقیقت واضح ہو سکتی ہے کہ علامہ مرحوم مغربی حکومتوں اور ان کے سیاست دانوں کو سراسر ابلیس کے غیر تنخواہ یاب گماشتے یقین کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ابلیس کے ان سیاسی فرزندوں کی تردید میں اپنا پورا زور قلم صرف کر دیا ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: