(Zarb-e-Kaleem-179) (شام و فلسطین) Sham-o-Falesteen

شام و فلسطین

رندان فرانسیس کا میخانہ سلامت
پر ہے م ے گلرنگ سے ہر شیشہ حلب کا

حلب: شام کا شہر (الپو، جہاں ان دنوں مغربی طاقتوں کی ایما پر خون ریزی ہو رہی ہے) اس زمانے میں شیشہ بنانے کے لیے مشہور تھا۔

ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا

مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور
قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا

نارنج: نارنگی، سنگترہ۔
رطب: چھوہارا ، کھجور۔


اس نظم میں اقبال نے فرنگی سیاست کو بے نقاب کیا ہے.

کہتے ہیں کہ حکومت فرانس نے، حکومت برطانیہ سے ساز باز کرکے شام پر اپنا تسلط قائم کیا اور وہاں تہذیب مغرب کی تمام برائیاں خصوصا شراب نوشی عام کردی.

شامیوں کے اخلاق تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں حکومتوں نے فلسطین کے یہودیوں کو درپردہ عربوں کے خلاف بغاوت کرنے پر آمادہ کیا اور عذر یہ تراشا کہ فلسطین میں چونکہ یہودی ایک زمانہ میں حکمراں رہ چکے ہیں اس لیے یہ ان کا آبائی اور قومی وطن ہے اور یہاں انہی کو حکمراں ہونا چاہیے اقبال یہ کہتے ہیں کہ اگر فرزندان ابلیس کی یہ دلیل صحیح تسلیم کر لی جائے تو پھر ہسپانیہ عربوں کو ملنا چاہیے کیونکہ ان کے آباؤ اجداد بھی اس ملک میں سات سو سال تک حکومت کر چکے ہیں.

اقبال کہتے ہیں کہ شام اور فلسطین پر فرانس اور برطانیہ کے قبضہ کا مقصد یہ نہیں کہ وہ ان ملکوں سے کوئی تجارتی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ عربوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں. تاکہ یہ قوم ہمیشہ ان کی دست نگر رہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: