(Zarb-e-Kaleem-180) (سیاسی پیشوا) Siasi Paishwa

سیاسی پیشوا

امید کیا ہے سیاست کے پیشواوں سے
یہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوند

خاک باز: مٹی سے کھیلنے والے ، پست خیالات والے۔

ہمیشہ مور و مگس پر نگاہ ہے ان کی
جہاں میں صفت عنکبوت ان کی کمند

عنکبوت: مکڑی۔
مگس: مکھی ۔
مور: چیونٹی ۔
کمند: رسی کا پھندا جو شکار پکڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

خوشا وہ قافلہ، جس کے امیر کی ہے متاع
تخیل ملکوتی و جذبہ ہائے بلند

متاع: دولت۔
خوشا: خوش نصیب۔
تخيل ملکوتي : فرشتوں کی سی سوچ۔


اس نظم میں اقبال نے سچے سیاسی پیشوا مسلمان سیاستدان کی شناخت بتائی ہے کہتے ہیں کہ
‏ موجودہ سیاسی لیڈر خواہ مشرقی ہوں یا مغربی، رہنمائی کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ان کا زاویہ نگاہ سراسر مادہ پرستانہ ہے. ان کے حیالات بالکل پست ہیں اور صرف دنیاوی منفعت پر مرکوز رہتے ہیں.

یہ لوگ ہمیشہ ادنیٰ ادنیٰ باتوں کی طرف متوجہ رہتے ہیں. مثلاً فلاں ملک کے تیل کے چشمے قبضہ آجائیں، فلاں ملک کی خام اشیاء کا اجارہ حاصل ہوجائے وغیرہ اس لیے ان کی کمند تدابیر مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتی ہے اور اسی لیے ان کی پالیسی آج کچھ ہے. کل کچھ ہے.

مبارک ہے. وہ قوم جس کا لیڈر امام فرشتوں کا ساپاکیزہ تخیل اور بلند جذبات رکھتا ہو.

واضح ہو کہ انسان کی شخصیت میں تین قوتیں پائی جاتی ہیں. شعور تخیل احساس جذبات اور ارادہ عمل اقبال نے اس شعر میں تخیل اور جذبات کا ذکر کیا ہے تیسری قوت کا ذکر نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی انسان میں صحیح شعور اور اس کے مناسب حال، جذبہ عمل پیدا ہو جائے یا موجود ہوتو پھر عمل لازمی طور سے سرزد ہوگا.
عمل جس کا نام ہے وہ نفسیاتی تبار سے، اول الذکر دو چیزوں کے پوری قوت کے ساتھ موجود ہو جانے پر موقوف ہے. مسلمان قوم آج عمل سے محروم ہے اس کی وجہ یہی تو ہے کہ قوم پوری قوم، صحیح اسلامی شعور اور صحیح مناسب حال اسلامی جذبات سے محروم ہے جب قوم میں نہ جذبہ تو اس عمل کا صدور نفسیاتی طور پر ناممکن ہے عمل صالح جہاد تو شعور اور احساس پر منحصر ہے. آؤ! دنیا کے سب سے بڑے اور کامیاب ترین پیشوا کے طرز عمل کا مطالعہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے عربوں کے اندر صحیح اسلامی شعور پیدا کیا یانی انہیں بتایا کہ اللہ ایک ہے اس کے علاوہ تم پر اس کائنات میں کوئی طاقت نہ تو حکمراں ہے اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے علاوہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ دو حال سے خالی نہیں ہے یاوہ تم جیسی ہے یا تم سے کمتر ہے جو تم جیسی ہے وہ تم پر کیوں حکمراں ہو؟ تم خود اس پر کیوں حکمراں نہ ہو؟ چونکہ یہ صورت عقلاً مذموم ہے اس لیے کہ اس سے فتنہ پیدا ہو گا، لہذا تم اور وہ مساوی ہو گئے نہ وہ تم پر حکومت کرے نہ تم اس پر حکومت کرو.
اب رہی وہ چیز جو تم سے کمتر ہے اسے عقلاً تم پر حکمرانی کا حق نہیں بلکہ تم کو اس پر حکمرانی کا حق ہے خلاصہ اس بحث کا یہ نکلا کہ جو تمہارے برابر ہے وہ خود تمہاری نومع ہے یعنی سب انسان برابر ہیں. اس لیے کوئی انسان کسی انسان پر حکمراں نہیں ہو سکتا. یعنی کوئی کسی کا غلام نہیں ہے انسان کے علاوہ جو چیز ہے حیوانات وخوش وطیور، نباتات جمادات یہ سب تم سے کمتر ہیں اس لیے عقلاً تمہارے خادم اور مطیع ہیں پس ثابت ہوگیا کہ اگر کسی کو انسان پر حکمرانی کا حق پہنچتا ہےتو وہ اللہ ہے اس لیے لاالہ الا اللہ ایک مذہبی حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک منطقی صداقت بھی ہے اور کائنات میں اس سے بڑی کوئی صداقت نہیں ہے اور اسلام اسی حقیقت کبری کا علمبردار ہے.

جب یہ صداقت عربوں کے دل میں اتر گئی تو نفسیاتی اصطلاح میں ان کے اندر صحیح شعور پیدا ہوگیا اور اقبال نے اس شعر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیاہے.

رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا
اتر گیا جو ترے دل میں لا شریک لہ

جب صحیح شعور پیدا ہوگیا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اندر سہی جذبہ پیدا کیا اور اس کے قلوب میں اس حقیقت وہ جاگزیں کیا کہ دیکھو محبت کرنا ایک فطری جذبہ ہے لیکن محبت کے لائق وہ ہستی ہے جسے فنا نہ ہو، جس میں کوئی عیب نہ ہو کیونکہ اگر عیب ہے تو وہ کامل نہیں اور جو کامل نہیں اس سے وفا کی امید نہیں ہوسکتی خدا معلوم کس وقت بیوفائی کر بیٹھے جو تمہاری محبت کا صلہ دے سکے انسان خود محتاج ہے وہ تمہیں کیا دے سکتا ہے جو تمہاری دستگیری کرسکے اور ایسی ہستی صرف اللہ ہی کی ہے پس تم اللہ کو اپنا محبوب بناؤ والذین امنو اشد حبا اللہ اور اس سے محبت کا طریقہ یہ ہے کہ میری اتباع کرو اور چونکہ کے اتباع کے لیے محبت شرط ہے اس لئے مجھ سے محبت کرو میری محبت تمہیں اللہ سے ملا دے گی مقصود تو وہی ہے لیکن میں اس تک پہنچنے کے لئے واسطہ ہوں. میرے بغیر تم اس تک نہیں پہنچ سکو گے.

جب صحابہ کرام نے اس دلنواز تعلیم کو قبول کیا تو ان کے اندر وہ چیز پیدا ہوگئی، اقبال رسول رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعبیر کرتے ہیں اور اس جاہل اور کم سواد شارح اقبال کی رائے میں یہی چیز اقبال کے سارے فلسفہ کا خلاصہ ہے یا ان کی شاعری کا محور ہے.

قصّہ مختصر جب صحابہ کے اندر صحیح شعور کے بعد، صحیح جذبہ پیدا ہوگیا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ممتحن کی حیثیت اختیار کی اور چودہ سال تک جو کچھ پڑھا پڑھایا تھا اس کا یعنی شعور اور جذبہ کی واقعیت کا امتحان لیا. تاکہ معلوم ہوسکے کہ میری تعلیم موثر ہوگئی ہے یا ابھی کچھ کسر باقی ہے تاریخ اسلام نے اس عظیم الشان امتحان کو ہجرت کے دلفریب نام سے تعبیر کیا ہے.

الغرض جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دیکھ لیا کہ قوم میں صحیح شعور اور صحیح مناسب حال جذبہ پیدا ہو گیا ہے تو…….. میں عمل صلالح جہاد کرنے کا حکم دے دیا اور دنیا اس اولین عمل صالح کو جنگ بدرکے نام سے یاد کرتی ہے.

واضح ہوکہ شعور جذبہ پیدا کرنے میں تو پندرہ سال کی طویل مدت صرف ہوئی ہے لیکن جب یہ دونوں چیزیں پیدا ہوگئیں تو پھر عمل کرنے کے لیے نہ کسی مدت کی ضرورت لاحق ہوئی نہ کوشش کی. صرف اجازت ملنے کی دیر تھی جو نہی اجازت ملی، عمل ظہور میں آ گیا. یعنی ادھر یہ آیت نازل ہوئی……………….

جن لوگوں مسلمانوں سے کافر برسر پیکار ہوگئے ہیں، ان کو اب اجازت دی جاتی ہے کہ وہ جہاد کریں کیونکہ کافروں نے پیش قدمی کرکے ان پر ظلم کیا ہے اور اب مسلمانوں پر مدافعت فرض کی گئی ہے اور ہم کفار کو مطلع کیے دیتے ہیں کہ اللہ ان کی مدد کرنے پر یقیناً قادر ہے ادھر مسلمانوں نے عمل کرنا شروع کر دیا.

میرا مقصود اسن تفصیل سے یہ دکھانا ہے کہ بنیادی چیز شعور اور جذبہ ہے جب یہ دونوں چیزیں پیدا ہوجاتی ہیں عمل صالح خودبخود سرزد ہوتا ہے اسکو ایک مثال سے مزید واضح کرتا ہوں. زید کی بیوی بیمار ہے، بکر نے اس سے کہا کہ اس کے مرض کی دوا خالد کے پاس ہے، جو کلکتہ میں رہتا ہے. گویا صحیح شعور پیدا ہوگیا بیوی نے کہا کہ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو جس طرح ہو سکے وہ دوا حاصل کرو بیوی کے اس قول نے صحیح جذبہ پیدا کردیا اب زید کو عمل زحمت سفر برداشت کرنے میں ہرگز دل نہیں لگ سکتی. وہ فوراً کلکتہ روانہ ہوجائے گا.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: