(Zarb-e-Kaleem-182) (غلاموں کی نماز) Ghulamon Ki Namaz

غلاموں کی نماز

کہا مجاہد ترکی نے مجھ سے بعد نماز
طویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تمھارے امام

وہ سادہ مرد مجاہد، وہ مومن آزاد
خبر نہ تھی اسے کیا چیز ہے نماز غلام

ہزار کام ہیں مردان حر کو دنیا میں
انھی کے ذوق عمل سے ہیں امتوں کے نظام

مردان حر: آزاد مرد۔

بدن غلام کا سوز عمل سے ہے محروم
کہ ہے مرور غلاموں کے روز و شب پہ حرام

مرور: گذرنے کا عمل۔
روز و شب: دن اور رات۔

طویل سجدہ اگر ہیں تو کیا تعجب ہے
ورائے سجدہ غریبوں کو اور کیا ہے کام

ورائے سجدہ: سجدے کے سوا۔

خدا نصیب کرے ہند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیام


…….. کے آغاز میں ترکی وفد متعلقہ ہلال احمر لاہور آیا تھا اور حضرت علامہ محروم سے ملاقات کے بعد اس کے ارکان نے، محروم سے درخواست کی کہ شاہی مسجد کے جلسہ میں جو نماز نماز منعقد ہوگا ضرور شرکت فرمائیں اختتام جلسہ کے بعد رئیس نے محروم سے، امام کے طویل قراۃ سجدہ پر اپنے تعجب کا اظہار کیا اقبال چونکہ بہت ذکر الحس تھے اسلئے انہوں نے نظم کی صورت میں اپنے تاثرات کا اظہار کردیا. کہتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ترک تو مجاہد نے مجھ سے کہا کہ تمہارے امام اس قدر طویل سجدے کیوں کرتے ہیں؟

بات یہ ہے کہ ترک تو مجاہد ہوتے ہیں انہیں کیا خبر کہ غلامی نماز کیسی ہوتی ہے؟

آزاد قوموں کے افراد کو اپنی آزادی بر قرار رکھنے کے لیے ہر وقت مصروف عمل رہتا پڑتا ہے یعنی وہ جہاد کی تیاری میں مصروف رہتے ہیں.

لیکن غلامی کو، غلامی کے علاوہ دنیا میں اور کوئی کام نہیں ہوتا. لہذا غلاموں کے لیے یا ان کی نظر میں، زمانہ یا روزوشب ساکن رہتا ہے کیونکہ زمانہ تو مقدار حرکت کا نام ہے. اور غلاموں میں حرکت عمل ہوتی نہیں تو ان کی نظر میں زمانہ بھی ساکن ہو جاتا ہے.

اگر ہندوستان کے مسلمان, طویل سجدہ کرتے ہیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے طویل سجدوں کے علاوہ اور ان غریبوں کو کام بھی نہیں کیا ہے نہ قواعد پریڈ سے کوئی تعلق ہے نہ اپنے گھوڑے کی نگہداشت سے کوئی علاقہ ہے نہ اپنے ہتھیاروں کی صفائی کی ضرورت ہے نہ رات کو سرحدوں کی حفاظت کا کام ہے. نہ جسمانی ورزش کی ضرورت ہے مسلمانوں کے گھروں پر جاکر انہیں جہاد کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے غلامی کی نعمت نے مسلمانوں کو ان تمام زحمتوں سے مامون اور بری الذمہ کر دیا ہے.
اللہ تعالی ہندوستان کے ائمہ مساجد کو وہ سجدہ نصیب کرے جس میں ملت کی زندگی کا پیام ہے یعنی جس کی بدولت ملت زندہ ہو جائے.

نوٹ: اللہ تعالی نے اقبال کی دعا قبول فرمائی اور………… میں ہندوستان کے چھ کروڑ مسلمانوں کو ایک خطہ اس برصغیر میں ایسا عنایت کردیا جس میں یہ لوگ جہاد کے لئے تیاری کرکے، ابلیس کے فرزند اکبر کی غلامی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں اب جو لوگ برسراقتدار ان کا فرض ہے کہ وہ ملت کو اسی طرح گرویدہ جہاد ‏ بنائیں جس طرح انہوں نے تقسیم سے پہلے دن رات ایک کر کے گاؤں گاؤں پھر کے، اس ملت مرحومہ کو گرویدہ لیگ بنایا تھا.

یوں تو میلہ بھی، نمائش بھی، دلآرام بھی ہے
یہ تو سب کچھ ہے، بتاؤ کہ یا سلام بھی ہے.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close