(Zarb-e-Kaleem-183) (فلسطینی عرب سے) Falesteeni Arab Se

فلسطینی عرب سے

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے

تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

سنا ہے میں نے، غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے


اس نظم میں اقبال نے عربوں کو، ساحران فرنگ کے طلسم سے رہائی حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے. جن لوگوں نے کلام اقبال کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ علامہ کے دل میں ملت اسلامیہ کی بہبود کا کس قدر درد تھا وہ رات دن فلسطینی عربوں کے غم میں گھلتے رہتے تھے اور یہ نظم ان کے خلوص اور محبت کی جو انہیں اس قول کے ساتھ تھی، بڑی حد تک عکاسی کرسکتی ہے. واضح کہ مجھ سے علامہ مرحوم نے خود ایک مرتبہ یہ فرمایا تھا کہ مجھے عربوں سے غیر معمولی محبت ہے کیونکہ یہ لوگ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نسبت رکھتے ہیں. عربی بولتے ہیں اور زبان جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہتے ہیں کہ.

اے فلسطین کے عرب! میں جانتا ہوں کہ تیرے وجود میں ابھی تک وہی آتش موجود ہے جس کے سوز سے زمانہ دنیائے کفر ابھی تک فارغ نہیں ہوا ہے یعنی کفار فرنگ ہنوز مطمئن نہیں ہوئے ہیں کہ ہم نے عربوں کو زیر کرلیا ہے وہ ابھی تک اس آگ کو جو صلاح الدین ایوبی بلکہ حضرت خالد ابن ولید نے بھڑکائی تھی، بجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جس سے اقبال کی مراد وہ جذبہ جہاد ہے جو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے پیدا ہوا تھا وہ اکبر الہ آبادی نے اپنے اس مشہور شعر میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے یہ شعر اس نظم میں ہے جس میں ایک انگریز لڑکی مسلمان قوم سے اپنی نفرت کا سبب بیان کرتی ہے، چنانچہ کہتی ہے.

مطمئن ہو کوئی کیونکر کہ یہ ہیں نیک نہاد
ہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جہاد

‏ اللہ اکبر! اکبر الہ آبادی نے ایک شعر میں انگریز کی پوری ذہنیت اسی قوم کی ایک لڑکی کی زبان سے واضح کردی ہے! 

‏لیکن اے فلسطینی عرب! میں تجھے ایک مشورہ دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ تیرے مرض کی دوا نہ جنیوا لیگ آف نیشنز میں ہے نہ لندن حکومت برطانیہ میں

‏ اے میرے بھولے مجاہد! فرنگ اقوام یورپ کی رگ جاں تو خود یہودیوں کے پخبہ میں ہے، وہ بھلا کیسے اور کیونکر تیری مدد کرسکتے ہیں.

اس لیے تو مجھ سے رہائی کی ترکیب سن! غلامی سے نجات کا طریقہ صرف ایک ہی ہے. ابھی تک دوسرا طریقہ ایجاد نہیں ہوا اور وہ یہ ہے کہ مسلمان پہلے خود کی پرورش کرے یعنی اسے نقطہ کمال تک پہنچائے. 

پھر اس کے اظہار کی لذت کا احساس پیدا کرلے.

بالفاظ دگر پہلے شعور خودی پیدا کرے پھر جذبہ نمود خودی. ان دو باتوں کے بعد ہماری جہاد بخود سرزد ہو گا اور اس شدت کے ساتھ کہ اس کے سامنے پہاڑ بھی قائم نہیں رہ سکتا یہ شعور کہ میرے سامنے غیر اللہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے، انسان کو سیل بےپناہ بنا دیتا ہے.

نوٹ:‏ کاش پاکستان کے ارباب اقتداد اقتصادی پروگرام کیساتھ ساتھ پاکستانی مسلمانوں کی خودی کی پرورش کا بھی کوئی پروگرام مدون فرمائیں تاکہ قوم حصول مقصد کی طرف پہلا قدم تو بڑھاسکے!

اقبال نے کہنے کی حد تک سب کچھ کہہ دیا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے ارشادات پر عمل کریں اور میں اپنے یقین کی پوری طاقت کے ساتھ اس حقیقت کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک ارباب حکومت خود عمل کرنا شروع نہیں کریں گے، عوام میں عمل کا جذبہ اور داعیہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا. کیونکہ بچپن ہی میں، میرے بزرگوں والدین نے یہ حقیقت میرے دل پر نقش کر دی تھی کہ جیسا راجہ ویسی پرجا، لہذا یہ کس طرح ہو سکتا ہے راجہ تو ہوٹلوں میں لعبتان فرنگ کے کمالات رقص کی دوا دے اور پرجا مسجدوں میں جاکر خودی کی ترکیب کرے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: