(Zarb-e-Kaleem-184) (مشرق و مغرب) Mashriq-o-Maghrib

مشرق و مغرب

یہاں مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید
وہاں مرض کا سبب ہے نظام جمہوری

نہ مشرق اس سے بری ہے، نہ مغرب اس سے بری
جہاں میں عام ہے قلب و نظر کی رنجوری

رنجوري: بیماری۔


اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ مشرقی اور مغربی دونوں ملکوں کی قومیں اس وقت روحانیت، تقویٰ اور پاکیزگی سے محروم ہیں اس لیے قدرتی طور پر مختلف اخلاقی امراض میں مبتلا ہیں.

مشرقی ممالک میں اسی محرومی مرض کا سبب سیاسی اور ذہنی غلامی ہے یعنی ایشیائی قومیں سیاسی طور سے تو فرنگی اقوام کی غلام ہیں اور ذہنی اعتبار سے جاہل صوفیوں اور تنگ نظر ملاؤں کی غلام ہیں اس غلامی نے ان کے اخلاق کو تباہ کردیا ہے خلاصہ یہ کہ غلام قوم کا دل مردہ ہو جاتا ہے یعنی خودی مردہ ہو جاتی ہے.

اب رہے مغربی ممالک، تو یہاں کی قوموں کے مرض کا سبب جمہوری نظام ہے یہ نظام بظاہر بہت دلفریب ہے لیکن اس کے اندر بہت سی خرابیاں مضمر ہیں مثلاً جمہوریت میں ہر دولت مند آدمی یہ چاہتا ہے کہ مجھے زیادہ سے زیادہ، اقتدار حاصل ہو جائے اس غرض سے وہ اپنی پارٹی بناتا ہے اور اس طرح متعدد پارٹیاں پیدا ہو جاتی ہیں. اب ان پارٹیوں میں حصول اقتدار کے لیے رقابت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ہر پارٹی اپنے مخالف پارٹی کو ہر ممکن طریق سے نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہے اور جائز اور ناجائز، حق اور ناحق، سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹا دیتی ہے.

اس کے علاوہ، ہر پارٹی ووٹ حاصل کرنے کے لیے، ہر ناجائز طریقہ کو بلا تامل اختیار کرلیتی ہے. اس طرح لالچ اور دھمکی جھوٹ اور عیاری کا بازار گرم ہو جاتا ہے. اندریں حالات خدا اور ضمیر شرافت اور آدمیت اصول اور انصاف غرضکہ ہر نیکی اور اچھائی سے یکسر دوری ہو جاتی ہے اور انسان اپنی خواہش کا غلام بن جاتا ہے جمہوری نظام میں کوئی شخص، جو اقتدار کا خواہشمند ہے یہ نہیں دیکھتا کہ، خدا کا فرمان کیا ہے بلکہ صرف ایک چیز مدنظر ہوتی ہے وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ ووٹ کس طرح حاصل کئے جاسکتے ہیں.

ان دونوں باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ضمیر مردہ ہو جاتا ہے اگر مشرق میں بنی آدم دیگر اقوام کے غلام ہیں تو مغرب میں بنی آدم ہوس اقتدار کے غلام ہیں یعنی غلامی دونوں جگہ موجود ہے اور اسی اقبال نے قلب ونظر کی رخجوری سے تعبیر کیا.

اگرچہ اقبال نے اس مرض کا علاج اس نظم میں بیان نہیں کیا لیکن ان کے کلام کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ انہوں نے اس کا شافی علاج متعدد مقامات میں بنا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ سب قومیں انسانوں کی غلامی کی بجائے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرلیں. ہر مسلمان کا فرض اولین یہ ہے کہ وہ دنیا سے ملوکیت کو ختم کرنے کی کوشش کرے کیونکہ ملوکیت اور خدا پرستی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں لاالہ اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی شخص بنی آدم پر حکمراں نہیں ہوسکتا. لہذا جب تک ملوکیت باقی ہے اصلاح کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: