(Zarb-e-Kaleem-187) (حقیقت ازلی ہے رقابت اقوام) Haqiqat-e-Azali Hai Raqabat-e-Aqwam

حقیقت ازلی ہے رقابت اقوام

حقیقت ازلی ہے رقابت اقوام
نگاہ پیر فلک میں نہ میں عزیز، نہ تو

خودی میں ڈوب، زمانے سے نا امید نہ ہو
کہ اس کا زخم ہے درپردہ اہتمام رفو

رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا
اتر گیا جو ترے دل میں لاشریک لہ

یگانہ و یکتا: دوسروں سے منفرد اور مختلف۔
لاشریک لہ: اللہ تعالے کا کوئی شریک نہیں۔

(ا) اس نظم میں اقبال نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے, اسی وقت سے مختلف اقوام میں رقابت کا بازار گرم ہے کیونکہ رقابت کا جذبہ، افراد کی فطرت می‌ داخل ہے. اور دنیا میں پہلی خونریزی (اشارہ ہے ہابیل کے بیگناہ مقتول ہونے کی طرف) اسی جذبہ رقابت یا حسد کا نتیجہ تھی. اور یہ سلسلہ اسی طرح تاقیامت جاری رہے گا. 

اندریں حالات اگر ہمارے اندر، بدقستمی سے یہ غلط عقیدہ راسخ ہوجائے “ہم فلک پیر” یعنی کارکنان قضا وقدر کی نگاہوں میں محبوب ہیں. اس لیے ہم کو دوسری قومیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گی، تو یہ ہمارے حق میں بہت مضر ثابت ہوگا. کیونکہ اگر ہم یہ یقین کرلیں کہ ہم” اللہ میاں کے لاڈلے” ہیں، اور ہمیں کوئی زیر نہیں کر سکتا تو لامحالہ کچھ عرصہ کے بعد ہم جدوجہد اور تنازع للبقاء سے بیگانہ ہو جائیں گے. اور یہ بیگانگی ہمارے حق میں بلامبالغہ پیام موت ثابت ہوگی.

سب سے پہلے یہ عقیدہ بنی اسرائیل میں پیدا ہوا، انہوں نے دعویٰ کرنا شروع کیا کے ہم خداوند کے لاڈلے بیٹے ہیں. ہمیں نہ اس دنیا میں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے، نہ اس دنیا میں، لیکن اس عقیدہ کا نتیجہ دنیا نے بہت جلد دیکھ لیا، کہ یہود ساری دنیا میں ذلیل وخوار ہیں اس کے بعد مسلمانوں میں بھی یہ عقیدہ پیدا ہوگیا، اور اس کا نتیجہ آج بیسویں صدی میں ہم دیکھ رہے ہیں. تفصیل کی ضرورت نہیں. صرف ایک فقرہ میں ہماری حالت بیان کی جاسکتی ہے کہ آج کوئی قوم ہم تھے زیادہ ذلیل و خوار نہیں ہے.

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

(٢) پس جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ 

(ا) ‏اقوام عالم میں رقابت کا جذبہ، فطری طور پر موجود ہے. 

(ب) ‏خدا کی نظر میں سب قومیں یکساں ہیں. کوئی قوم اس کی محبوب نہیں ہے جو قوم اس کے قوانین کی پابندی کرے گی. وہ دنیا میں سربلندی حاصل کرے گی.

تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ “خودی میں ڈوب جائیں” (ڈوبنے سے اقبال کی مراد ہے، پہلے اپنی مخفی طاقتوں کا شعور حاصل کرنا، پھر ان طاقتوں کو بروئے کار لانا) یعنی اپنی خودی کی تربیت کرکے اسے نقطہ کمال تک پہنچا دیں. اور اس حقیقت کو مد نظر رکھیں، کہ اس سلسلہ میں اگر دشواریاں، مصیبتیں، پریشانیاں، اور تکالیف درپیش آئیں تو ہرگز کبیدہ خاطر نہ ہوں، کیونکہ یہ زخم، درپردہ اہتمام رفو ہے. یعنی خودی ہمیشہ آزمائشوں اور مصیبتوں کی بھٹی نے پڑکر کندن بنتی ہے. کیونکہ میل کچیل کے صاف کرنے کا اس کے سوا اور کوئی طریقہ نہیں ہے.

(٣) اے مسلمان! تو یورپ کی قوموں کی ظاہری شان وشوکت سے ہرگز مرعوب نہ ہونا. اگر تو اس صداقت کو اپنے دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتار دے. کہ جس طرح تخلیق ربوبیت کائنات میں کوئی ہستی اللہ کی شریک نہیں ہے اسی طرح حکومت اور فرمانروائی میں کوئی شخص اس ایزد متعال کا شریک وسہیم نہیں ہے. تو میں تجھے یقین دلاتا ہوں کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت (مثلاً امریکہ یا روس، تجھ کو زیر نہیں کر سکیں گی.

واضح ہو کہ ایک عرصہ سے مسلمانوں کی نکبت اور زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ وہ اس حقیقت کبری اور صداقت عظمیٰ سے بالکل بیگانہ ہوگئے ہیں. کہ “لاشریک الہ” کا مطلب صرف یہی نہیں کہ ذات کے اعتبار سے اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے. بلکہ صفات، عبادت اور اطاعت کے لحاظ سے بھی کوئی ہستی اس کی شریک یا مدمقابل یا ہمسر نہیں ہے.

مسلمان، مدتوں سے، اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ شرک سے بڑا کوئی گناہ نہیں( لفجوائے آیت قرآنی…………. بیشک اللہ اس جرم میں گناہ کو کبھی معاف نہیں کرے گا کہ کوئی انسان کسی کو اس کا شریک قرار دے. صرف اس اسباب کا نام ہے. کہ کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی اور ہستی کو بھی، اس کا ہمسر یا شریک تسلیم کرے. حالانکہ شرک کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے.

واضح ہو کہ شرک کی چار قسمیں ہیں.

(ا) شرک فی الذات

جس کی تشریح اوپر بیان ہو چکی ہے اس کی رو سے مجوسی جو دو خداؤں کو مانتے ہیں، اور نصاریٰ جو تین خداؤں کو تسلیم کرتے ہیں، اور ہنود جو بقول رگ وید ٣٣ خداؤں پر ایمان لاتے ہیں، سب مشرکوں کی فہرست میں داخل ہیں.

(ب) شرک فی الصفات

یہ ہے کہ ایک شخص خدا کو تو ایک مانتا ہے لیکن اس کی صفات میں دوسروں کو بھی شریک کرتا ہے. مثلا اللہ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ بیماریوں کو اچھا کرتا ہے، اور مصیبتوں کو دور کرتا ہے، اور مشکل کشا ہے، حاجت روا ہے، دستگیر ہے. بلاؤں کو دفع کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ، اب اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ زید، یا فلاں شخص میں یہ قدرت ہے کہ وہ بذات خود، بیماروں کو صحت دے سکتا ہے. زندگی بخش سکتا ہے. اور مصائب کے وقت انسانوں کی دستگیری کرسکتا ہے، یا مشکل کشائی کر سکتا ہے. تو اگرچہ عرف عام میں وہ مشرک نہیں ہے، لیکن قرآنی تعلیمات کی رو سے وہ بھی مشرک ہے ٹھیک اسی طرح، جس طرح شرک فی الذات کا معتقد.

(ج) شرک فی العبادۃ

یہ ہے کہ انسان کسی دوسری ہستی کی تو قیریا تعظیم اسی رنگ میں کرے، جس رنگ میں وہ اللہ کی توقیریا یا تعظیم کرتا ہے. یا جس طرح اللہ کو سجدہ کرتے ہیں، غیر اللہ کو سجدہ کرنے لگے.

(د)شرک فی الحکمہ

یہ ہے کہ کوئی مسلمان، اللہ کے قانون کے علاوہ کسی انسان یا غیر اللہ کے بنائے ہوئے قانون کی اطاعت کرے، چنانچہ قرآن حکیم میں صاف ارشاد ہے. 

‏……………. اور جو کوئی حکم نہ کرے اس کے موافق

‏…………… جو اللہ نے اتارا، سو وہی لوگ ہیں کافر.

(سورۃ مائدہ رکوع)

یعنی مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبہ میں، ہر معاملہ میں اور ہر بات میں قرآن حکیم کے فیصلہ کے علاوہ اور کسی کتاب یا ضابطہ یا قانون کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کر سکتا.

افسوس کے مسلمانوں نے ملوکیت کی لعنت میں مبتلا ہوجانے کی بدولت، شرک کی اس چوتھی قسم کو اپنے عقائد سے خارج کردیا اور اس کی ذمہ داری بلاشبہ ان امراء، علمائے سوء اور مشائخ سوء پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے اپنی ذاتی مفاد کی خاطر ملوکیت کے سامنے، سر تسلیم خم کردیا. چنانچہ ان کے اس غیر اسلامی طرز عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان رفتہ رفتہ اس حقیقت سے بالکل بیگانہ ہوگئے کہ سلاطین کے نافد کردہ قوانین کی اطاعت بھی شرک ہے.

میں اپنے یقین کی پوری قوت کے ساتھ اس حقیقت کا اعلان کرتا ہوں کہ آج تمام دنیا کے مسلمانوں کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ ان کو اس حقیقت کبری سے پھر آگاہ کیا جائے جس آئین کی بنیاد، قرآن اور سنت نبوی پر نہ ہو، اس کی اطاعت قطعاً ناجائز ہے.

(ا) حضرت امام ربابی مجدد الف ثانی نے اسی لیے دربار عام میں، زن مرید پر(باقی برصت پر )

(بقیہ صف ٦) جہانگیر ابن اکبر مرتد کو سجدہ نہیں کیا تھا، کیونکہ یہ فعل اسرار مشرکانہ ہے.

(2)

Haqiqat-e-Azali Hai Raqabat-e-Aqwam
Nigah-e-Peer-e-Falak Mein Na Main Aziz, Na Tu

Nations/Tribes have been ever fighting among themselves,
In Heaven’s eyes, none of us is dear.

Khudi Mein Doob, Zamane Se Na-Umeed Na Ho
Ke Iss Ka Zakhm Hai Darparda Ehtimam-e-Rafu

Dive deep into the self and don’t despair of Time,
Its afflictions tend to strengthen you.

Rahe Gat U Hi Jahan Mein Yagana-o-Yakta
Utr Gya Jo Tere Dil Mein ‘La Shareeka Lahu’

You alone shall be unique and incompatible in the world,
If you accept whole‐heartedly the motto: “None is associated with Him.”

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: