(Zarb-e-Kaleem-188) (تیری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی) Teri Dua Se Qaza Tou Badal Nahin Sakti

تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی

تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی
مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل جائے

تقدیر۔ قضا

تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا
عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے

وہی شراب، وہی ہاے و ہو رہے باقی
طریق ساقی و رسم کدو بدل جائے

رسم کدو: شراب پینے کے طور طریقے۔

تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے!

 

اس نظم میں اقبال نے محراب گل کی زبان سے دعا کا فلسفہ بیان کیا ہے. اور اس کے ضمن میں اس حقیقت کو دلنشین انداز میں بیان کیا ہے کہ دعا کے ساتھ ساتھ جدوجہد بھی ضروری ہے.

واضح ہوکہ اسلام ایسا دین یا دستور حیات ہے، جو نہ انسان کو محض دعا پر بھروسہ کرنے کی تلقین کرتا ہے، اور نہ محض ذاتی جدوجہد پر اعتماد کرنا سکھاتا ہے. بلکہ وہ ان دونوں ضروری باتوں میں ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے. یعنی دعا بھی کرو اور جدوجہد سے بھی غافل نہ ہو.

دعا یعنی اللہ کو پکارنا، مبعنی اینکہ اس سے اپنی حاجت یا ضرورت کو پورا کرنے کے التجا کرنا، یا فعل دین اسلام کی رو ہے. بلکہ نفس اور مذہب کا دارومداد دعا ہی پر ہے. دعا ثبوت ہے. اس بات کا بندہ اپنی عاجزی، بیچارگی، درماندگی، اور کمزوری کا اقرار کر رہا ہے. اور اللہ کو اس کائنات کا خالق، رازق، مالک اور حاکم تسلیم کا رہا ہے. اس دو گوانہ اعتراف سے انسانی روح کا اللہ کی ذات سے ایک دراء الفہم طریق پر رابطہ یا رشتہ یا علاقہ پیدا ہو جاتا ہے. اور چونکہ انسان کی پیدائش کا مقصد بھی یہی ہے. اس لیے میں نے دعا کو مذہب کی روح سے تعبیر کیا ہے. اور میری کیا حقیقت ہے؟ یہ نکتہ میں نے حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارکہ سے اخذ کیا ہے. جو یہ ہے………….. یعنی دعا عبادت کا مغز ہے. 

بعض لوگ اپنی کوتاہ بینی سے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب ہماری دعاؤں سے قضاء (مشیت ایزدی یا نظام کائنات ) نہیں بدل سکتی تو پھر دعا کرنے کی کیا ضرورت ہے. یا اس کا کیا فائدہ ہے؟ جب ہماری دعاؤں سے اللہ کے فیصلوں میں تبدیلی نہیں ہوسکتی تو ہم اس “فعل عبث” کا ارتکاب بھی کیوں کریں؟

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ دعا کی غرض و غایت یہ نہیں ہے کہ تم مشیت ایزدی میں مداخلعت کردیا خدا سے یہ درخواست کرو کہ وہ دنیا کا نظام تمہاری خواہش کے مطابق چلائے. بلکہ دعا سے مقصد یہ ہے کہ.

(١) بندہ کے دل میں ہر وقت اپنی بندگی کا احساس پیدا ہوتا رہے

(٢) بندہ ہر وقت اپنے خالق اور معبود سے رابطہ استوار کرتا رہے

(٣) بندہ اپنے آپ کو فاعل یا مؤثر حقیقی نہ سمجھنے لگے.

واضح ہو کہ دنیا میں ہر قسم کی بیدینی اور خرابی کا سرچشمہ یہی غلط عقیدہ تو ہے کہ انسان، اپنے آپ کو فاعل یا موثر حقیقی سمجھتا ہے. لیکن دعا کرنے سے انسان کے اندر نہ کبھی تکبر پیدا ہوسکتا ہے اور نہ وہ صراط مستقیم سے بھٹک سکتا ہے

(٤) بندہ دعا کے ذریعہ سے ذکرِ الٰہی کا خوگر ہوجاتا ہے. اور اللہ کو یاد کرنا اور یاد کرتے رہنا، یہ سب سے بڑی نیکی ہے. جس سے بڑی کوئی نیکی نہیں ہے. چنانچہ قرآن مجید صاف لفظوں میں ارشاد فرماتا ہے…………… اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کا ذکر سب عبادتوں، اور نیکیوں سے بڑھ کر ہے. 

اب ہم نظم کا مطلب رکھتے ہیں.

(١) کہتے ہیں کہ یہ تو بیشک ممکن نہیں ہے کہ تیری دعاؤں سے اللہ اپنے فیصلوں کو بدل دے. یعنی ہوگا تو وہی جو وہ چاہتا ہے مثلا زید ایک شریف آدمی ہے، وہ ہندہ سے نکاح کا طالب ہے. اس لیے دعا کرتا ہے. اب اگر اس کی یہ آرزو، مشیت ایزدی کے مطابق نہیں ہے. تو اس کی یہ دعا بھی قبول نہیں ہوگی. لیکن دعا مواظبت کرنے سے، یہ ضرور ممکن ہے کہ خود تیرے اندر انقلاب پیدا ہوجائے. وہ یہ کہ تو اپنا رابطہ اللہ سے استوار کرلے. اور یوں تیرے اندر اس کے قوانین کی اطاعت کا جذبہ پیدا ہو جائے.

اگر ایسا ہو جائے، اور ایسا ہو جانا ممکن ہے، تو یہ حقیقت ضرور تجھ پر منکشف ہوگی کہ اگر ایک طرف اللہ نے کائنات کا انتظام اپنے دست قدرت میں رکھا ہے، تو دوسری طرف ہمیں جدوجہد کا بھی حکم دیا ہے. یعنی ہم سے اللہ نے صاف، لفظوں میں فرما دیا ہے……………… یعنی اللہ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا جب تک وہ قوم پہلے خود اپنے ضمیر کی گہرائی میں تبدیلی نہ کرے. جب ہم اس قانون پر غور کریں گے تو یقیناً ہمارے اندر صحیح اسلامی شعور پیدا ہوجائے گا، اور قرآن مجید میں جس قدر قوانین بیان کئے گئے ہیں، ان کا مقصد صحیح شعور پیدا کرنا ہی تو ہے. اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، کہ انقلاب کا وقوع شعور پر موقوف ہے.

قرآن حکیم شعور میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے. اور جب کسی فرد یا قوم کے شعور میں انقلاب پیدا ہو جاتا ہے.، تو وہ قوم اپنی خودی میں انقلاب پیدا کر سکتی ہے اور جب کسی قوم کو خودی میں انقلاب پیدا ہو جاتا ہے تو پھر وہ قوم دنیا میں انقلاب پیدا کر دیتی ہے.

اقبال نے جاوید نامہ میں قرآن حکیم کی اس صفت کو ان اشعار میں بیان کیا ہے. 

فاش گویم انچہ دردل مضمراست

ایں کتابے نسیت چیزے دیگراست

چوں بجاں دردفت، جاں دیگر شود

جاں چودیگر شد، جہاں دیگر شود

واضح ہو کہ قرآن حکیم، آسمان کے نیچے، انقلاب کا سب سے بڑا، پروگرام ہے لیکن ہم انسانوں کی جہالت کے باعث اس زمانہ میں یہ انقلابی منشور، یہ زندگی کا پیغام، محض گنڈوں اور تعویذوں کا خزانہ بن کر رہ گیا ہے.!

مطلب یہ ہے کہ اے مسلمان! اگر تو سچے معنوں میں مسلمان بن جائے تو عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے. یعنی یہی دنیا جس میں آج تو کسی جگہ عزت کی زندگی بسر نہیں کر سکتا ہے. یہی دنیا جس میں کوئی قوم تجھ سے خائف نہیں ہے. اسی دنیا میں تو سر بلند ہو سکتا ہے اور اقوام عالم، تجھ سے مرعوب ہو سکتی ہیں.

نوٹ=

اسی لیے میں گزشتہ بیس سال سے اپنی قوم کو بڑے خلوص کے ساتھ یہ مشورہ دے رہا ہوں، کہ اگر سربلندی کامیابی اور حکمران کی آرزو ہے تو افراد قوم، اپنی خودی میں انقلاب پیدا کریں، اس کے بغیر خارجی دنیا میں کوئی انقلاب پیدا نہیں ہو سکتا.

یہی وجہ ہے کہ انگریز کی نگاہ کرم کی صدقہ میں پاکستان جانے کے باوجود مسلمانوں کی زندگی میں کوئی انقلاب پیدا نہ ہوسکا، اور نہ ہو سکتا ہے جو عریانی فحاشی اور عیاشی، قیام پاکستان سے پہلے سندھ اور پنجاب میں پائی جاتی تھی، وہی بلکہ اس سے بڑھ کر آج پائی جاتی ہے. کیا اب بھی مسلمانوں کو اس قانون کی صداقت میں کوئی شک و شبہ باقی ہے. کہ زندگی اپنے حوالی میں کوئی انقلاب پیدا نہیں کرسکتی، جب تک اپنے ضمیر کی گہرائیوں میں انقلاب پیدا نہ کرے.

(دیباچہ پیام مشرق) 

(٣) اے مسلمان! اگر تو، قرآن حکیم کی مقرر کردہ خطوط پر، اپنی خودی میں انقلاب پیدا کرے گا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اگرچہ شراب بھی وہی رہے گی اور اس کی سرمستی بھی وہی رہے گی. لیکن ساقی کا طریقہ اور مے نوشی کا انداز بدل جائے گا.

یعنی یہ دنیا بھی وہی رہے گی، اور اس کے علائق بھی وہی رہیں گے اور اس میں قوانین نافد ہیں وہ بھی وہیں رہیں گے، یعنی یہ نہیں ہوگا کہ انقلاب کے بعد پانی پیاس بجھانا چھوڑ دے گا، لیکن تیرے ساتھ اللہ کا طرز عمل بدل جائے گا یعنی آج اللہ کی نظر کرم، تجھ پر نہیں ہے، غیروں پر ہے، پھر یہ صورت بدل جائے گی، ساقی کی نگاہ کرم تجھ پر بھی ہوگی. 

(٤) اس شعر کے دو مطلب ہیں.

پہلا مطلب یہ ہے کہ تو عموماً خدا سے یہ دعا مانگتا ہے کہ اے اللہ! میری فلاں فلاں آرزوئیں پوری ہو جائیں. مثلاً مجھے دولت عطا کر، یا حکومت میں کوئی بڑا عہدہ عطا کر، یا مجھے شہرت اور دنیاوی جاہ و منزلت عطا کر وغیرہ، لیکن میں تیرے حق میں یہ دعا کرتا ہوں کہ خدا کرے تیری یا آرزوئیں بدل جائیں، اور تو خدا سے یہ دعا مانگا کرے کہ اے اللہ! مجھے دین کی خدمت کی توفیق عطا فرما، قرآن حدیث کی اشاعت کی توفیق عطا فرما. دوسرا مطلب یہ ہے کہ، میری دعا یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ کی محبت میں فنا ہو جائےکہ اپنی تمام آرزوؤں کو اس کی مرضی کے تابع کر دے، یعنی کوئی آرزو باقی نہ رہے، صرف یہ آرزو رہ جائے کہ اے اللہ میں صرف تیری رضا کا طالب ہوں اور جو کچھ تو میرے لیے پسند کرے، اسی کو اپنے لیے پسند کرتا ہوں، یہ وہ مقام ہے جس سے بلند تر اور کوئی مقام نہیں ہے. اسی کو مقام تسلیم ورضا بھی کہتے ہیں. یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر بندہ مومن، مشیت ایزدی سے کامل ہم آہنگی پیدا کرلیتا ہے اقبال نے اس مقام کو اپنے کلام میں کئی جگہ بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے. صرف ایک شعر اس جگہ نقل کرتا ہوں.

چوں فنا اندر رضائے حق شود! 

بندہ مومن قضائے حق شود!

یعنی جب مومن، قرآن مجید کی اس آیت شریفہ پر عامل ہو جاتا ہے…………………………… اے میرے پیارے نبی( صلی اللہ علیہ وسلم) آپ اعلان فرمادیں کہ میری نماز اور جملہ مراسم دینی اور میری زندگی اور موت میرا جینا، اور میرا مرنا، سب اللہ کے لیے ہے. جو پروردگار رہے سارے جہان کا.

یعنی وہ اپنے آپ کو پورے طور سے اللہ کی مرضی کا تابع بنا دیتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی مرضی اور اللہ کی مرضی میں ایک وراء الفہم مطابقت اور یگانگت پیدا ہوجاتی ہے جس طرح اگر لوہے کو آگ میں ڈالدیں تو اس میں اور آگ میں ہم رنگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس ہمرنگی اور ہم آہنگی کی بدولت، وہ “خود قضائے حق” بن جاتا ہے. یعنی وہ وہی کرتا ہے. جو خدا چاہتا ہے، اور خدا وہی حکم نافذ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے.

اسی نکتہ کو اقبال کے مرشد عارف رومی نے یوں بیان کیا ہے.

دررضائیش مرضی حق گم شود

ایں سخن کے باور مردم شود

یعنی عام لوگ اس بات پر کیسے یقین لا سکتے ہیں کہ جب مومن پہلے اپنی مرضی، اللہ کی مرضی میں گم کر دیتا ہے، یعنی اپنے اللہ کو………. یا اللہ کے رنگ میں رنگین کر لیتا ہے، تو پھر مرضی حق، اس بندہ مومن کی رضا میں گم ہوجاتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ

پخبہ اوپخبہ حق می شود

ماہ ازانگشت او، شق می شود

اس کا ہاتھ، بلاتمشیل، اللہ کا ہاتھ ہو جاتا ہے.اور اس کی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی میں یہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے کہ اس کے ایک اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہو جاتے ہیں. اگر کسی کو ان اشعار کا مطلب سمجھنے میں الجھن پیدا ہو تو وہ قرآن مجید کی اس آیت کو پڑھ لے.

…………………..اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے کم کنکریاں اٹھا کر، کفار کی طرف پھینکی تھیں، تو دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بلکہ خود اللہ نے پھینکی تھیں……………………

(3)

Teri Dua Se Qaza To Badal Nahin Sakti
Magar Hai Iss Se Ye Mumkin Ke Tu Badal Jaye

Your destiny can’t be changed though prayers;
Maybe you are changed thereby.

Teri Khudi Mein Agar Inqilab Ho Paida
Ajab Nahin Hai Ke Ye Char Soo Badal Jaye

If revolution takes place in your self,
Possibly this space and time may change.

Wohi Sharab, Wohi Haye-o-Hoo Rahe Baqi
Tareeq-e-Saqi-o-Rasm-e-Kadoo Badal Jaye

The same wine and the same tumult may continue,
The ways of the saki and the cup may change.

Teri Dua Hai Ke Ho Teri Arzoo Puri
Meri Dua Hai Teri Arzoo Badal Jaye!

You pray that your desire be fulfilled,
I pray that your desire be changed.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: