(Zarb-e-Kaleem-189) (کیا چرخ کج رو ، کیا مہر، کیا ماہ) Kya Charkh-e-Kaj Ro, Kya Mehar, Kya Mah

کیا چرخ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ

کیا چرخ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ
سب راہرو ہیں واماندہ راہ

چرخ کج رو: ٹیڑھا چلنے والا آسمان۔
واماندہ راہ: تھکا ہارا

کڑکا سکندر بجلی کی مانند
تجھ کو خبر ہے اے مرگ ناگاہ

نادر نے لوٹی دلی کی دولت
اک ضرب شمشیر، افسانہ کوتاہ

افغان باقی، کہسار باقی
الحکم للہ ! الملک للہ !

حاجت سے مجبور مردان آزاد
کرتی ہے حاجت شیروں کو روباہ

محرم خودی سے جس دم ہوا فقر
تو بھی شہنشاہ، میں بھی شہنشاہ!

قوموں کی تقدیر وہ مرد درویش
جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ

اس نظم میں اقبال نے یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ ملک اور حکومت یہ سب فانی ہیں یعنی آج زید دنیا کو اپنی ملک سمجھتا ہے، اور اس پر حکمراں ہے. کل بکرا اور پرسوں خالد دراصل ملک اور حکومت دونوں اللہ کے قبضہ میں ہیں. وہ جسے چاہتا ہے. ملک عطا دیتا ہے. اور جس سے چاہتا ہے، ملک اور حکومت، دونوں چھین لیتا ہے……………. تو جسے چاہتا ہے، ملک عطا کرتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے.

(1) محراب گل کہتا ہے کہ کائنات میں غور کرو، تو یہ حقیقت منکشف ہوجائیگی کہ یہاں کسی شئے کو ثبات وقرار نہیں ہے. آسمان، سورج، چاند، ستارے سب مسافر ہیں. اور ہر دم سفر میں ہیں، بالفاظ دگر.

ہر شئے مسافر، ہر چیز راہی! 

کیا چاند تارے، کیا مرغ وماہی!

(٢) دنیا کی تاریخ پر غور کرو، کیسے کیسے نامور بادشاہ گزر چکے ہیں. ایک زمانہ تھا کہ مشرق سے لے کر مغرب تک انہی کے نام کا سکہ چلتا تھا، لیکن آج صرف ان کا نام تاریخ میں باقی رہ گیا ہے. مثلاً سکندر کو دیکھو! یونان سے جو تسخیر ممالک کے لیے نکلا تو پنجاب تک سارے ممالک فتح کرلیے. لیکن چند روز کی علامت کے بعد راہی ملک عدم ہو گیا.

(٣) نادر شاہ ایرانی کی فتوحات پر نظر کرو. کہاں طہران کہاں دلی لیکن ایک معمولی سپاہی نے اپنی تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا قصہ تمام کر دیا.

(۴) حقیقت یہ ہے کہ سکندر اور نادر، اور ان کے علاوہ بہت سے نامور سلاطین، اپنی نوبت بجا کر، دنیا سے چلے گئے ان میں سے کوئی بھی آج باقی نہیں ہے. ہاں افغان قوم باقی ہے. اور یہ قوم جس ملک میں رہتی ہے وہ بھی بدستور موجود ہے. بات دراصل یہ ہے کہ یہ دنیا نہ تیری ملک ہے، نہ میری……………….. حکومت اللہ ہی کی ہے اور یہ دنیا یا اسی کی ملک ہے. ملک بھی اس کا ہے حکومت بھی اسی کی ہے، انسان اسی کے حکم سے، چند روز کے لیے حکمراں بن جاتا ہے. لیکن غلطی سے اپنے آپ کو مالک اور حکمراں سمجھ لیتا ہے.

(۵) انسان، اگر اپنے ہی جیسے انسان کی غلامی پر کمربستہ ہوجاتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ ہے کہ وہ پہلے اپنی مادی خواہشات کا غلام بنتا ہے اور اس کے بعد ان کی تسکین کے لیے انسانوں کی غلامی کرتا ہے. 

خواہش سے حاجت پیدا ہوتی ہے اور حاجت انسان کو غلامی پر آمادہ کردیتی ہے یہ حاجت وہ بری بلا ہے کہ انسان تو انسان ہے، شیروں کو بھی لومڑی بنا دیتی ہے.

انچہ شیراں راکندروبہ مزاج!

احتیاج است احتیاج است احتیاج

(٦) لیکن اگر ،انسان، اپنی خواہشات کو اپنا غلام بنا لے، یعنی اپنی خودی سے آگاہ ہو جائے تو پھر وہ اللہ کے سوا، کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرے گا، اور یہ شان استغناء اسے سلاطین کا ہم پلہ بنا دے گی.

(۷) یاد رکھو! قوموں کی بگڑی ہوئی تقدیر صرف وہ مرددرویش بنا سکتا ہے، یعنی صرف وہ مرد مومن قوموں کو سر بلندی عطا کرسکتا ہے جو کسی بادشاہ کے سامنے جاکر وسعت سوال دراز نہ کرے. بلکہ بادشاہ اگر اسے کوئی عہدہ پیش کرے تو بھی قبول نہ کرے.

چنانچہ بزرگان دین کی زندگیوں پر غور کرنے سے اس شعر کی صداقت عیاں ہوسکتی ہے. مثلاً سلاطین دہلی نے ہر چند کوشش کی، کہ حضرت محبوب الہی سلطان نظام الدین اولیاء دربار میں تشریف لائیں. لیکن حضرت خود، کسی بادشاہ کے دربار میں تو کیا جاتے، کسی بادشاہ کو بھی اپنے دربار میں حاضر ہونے کی اجازت نہیں دی.

سلطان قطب الدین مبارک خلجی نے اپنے وزیر کو حکم دیا، کہ “کل نظام الدین کو دربار میں حاضر کیا جائے.” وزیر نے آنجناب کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ اگر آپ نجوشی حاضر نہ ہوئے تو میں آپ کو گرفتار کرکے بادشاہ کی خدمت میں پیش کر دوں گا آپ نے قاصد سے فرمایا کہ “دیکھا جائے گا” کل تو ہونے دو”

رات کو بارہ بجے کے قریب آپ ایک خاص حالت میں خانقاہ کے صحن میں چہل قدمی فرما رہے تھے، اور یہ شعر درد زبان تھا.

اے روبہک چرانہ نشتی بجائے خویش

باشیر پخبہ کردی، ودیدی سزائے خویش

یہی وقت تھا جب سلطان کے محبوب غلام خسرو نے اس بد بخت کو قتل کرکے لوگوں کے لیے سامان عبرت مہیا کردیا.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close