(Zarb-e-Kaleem-190) (یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغاۓ روارو) Ye Madrasa Ye Khail Ye Ghogha’ay Rawa Ro

یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارو

یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارو
اس عیش فراواں میں ہے ہر لحظہ غم نو

وہ علم نہیں، زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو

دو کف جو: دو مٹھی جو۔

ناداں ! ادب و فلسفہ کچھ چیز نہیں ہے
اسباب ہنر کے لیے لازم ہے تگ و دو

تگ و دو: کوشش، محنت۔

فطرت کے نوامیس پہ غالب ہے ہنر مند
شام اس کی ہے مانند سحر صاحب پرتو

نوامیس: ناموس کی جمع؛ مراد ہے قانون، قاعدے۔

وہ صاحب فن چاہے تو فن کی برکت سے
ٹپکے بدن مہر سے شبنم کی طرح ضو!

ضو: روشنی۔

اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ انگریزوں نے جو کالج اور اسکول ہندوستان میں قائم کئے ہیں، جو محض فریب نظر ہیں. اس ان کا مقصد، انسانوں کو زیور علم و عمل سے آراستہ کرنا نہیں ہے بلکہ حکومت کے وفاتر کے لیے کلرک تیار کرنا، اور دل اور دماغ دونوں کو مردہ کر دینا، تاکہ آرزو اول تو پیدا ہی نہ ہو، اور اگر ہوجائے تو زندہ نہ رہ سکے.

(١) محراب گل کہتا ہے کہ اے مسلمان! آنکھیں کھول کر دیکھ! یہ کالج اور اسکول یہ ان کی شاندار عمارتیں! یہ وسیع کھیل کے میدان، یہ مخلوط تعلیم! انٹر کالجئٹ. قسم کی سرگرمیاں! یہ اولمپک ٹورنامنٹ! یہ مباحثہ کی مجلسیں یہ ٹرافیال، یہ انعامات! یہ گاون، یہ ڈگریاں، بظاہر یہ باتیں بہت دلخوش کن ہیں. لیکن تجھے ہل لحظہ، اسلامی حمیت اور دینی غیرت سے دور کررہی ہیں. یہ ایسا عیش ہے، جس سے ہر لحظہ غم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے.

(۲) تو سمجھتا ہے کہ قوم زیور علم سے آراستہ ہو رہی ہے لیکن یہ علم جو کالجوں کے درودیوار سے حاصل ہوتا ہے، علم نہیں ہے، بلکہ مسلمان کے حق میں زہر کا حکم رکھتا ہے. کیوں؟ اس لیے کہ اس غیر اسلامی علم سے اسکی خودی مردہ ہو جاتی ہے، اس کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے. اور اس ڈگری کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا نکلتا ہے کہ وہ جوان جو اپنے آباؤ اجداد کی طرح جیسے وہ…….. میں نکلتے تھے، سر سے کفن باندھ کر میدان جنگ میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھاتا، دفتروں میں فائلوں سے سر کھپاتا رہتا ہے، تاکہ “دو مٹھی جو” ہاتھ آسکیں.

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس سے

قبض کی روح تری دیکے تجھے فکر معاش

(٣) اے نادان مسلمان! انگریزوں نے مقصد حیات سے بیگانہ بنانے کے لیے تجھ کو ادبیات (عالیہ) اور فلسفہ کی خاردار جھاڑیوں میں الجھا دیا ہے. بیشک ادب اور فلسفہ اچھی چیز ہے، لیکن یہ چیزیں مقصود البذات نہیں ہیں، بلکہ مقصود بالعرض ہیں. لہذا اگر تو ان علوم کو، جو مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں. خود مقصد بنالے گا، تو تیرا مقصد تو حاصل نہیں ہوگا، لیکن انگریز کا مقصد حاصل ہو جائے گا.

اے مسلمان! تیرا مقصد حیات فلسفہ نہیں ہے بلکہ جہاد فی سبیل اللہ یہ ہے وہ کام جس کے لیے تجھے اللہ نے پیدا کیا ہے. پس تو اپنے اندر جہاد کا جذبہ پیدا کر، اور اس جذبہ کے حصول کے لیے تگ ودو کوشش کر مسلمان کے لیے یہ بات قابل فخر نہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کا موسیقی داں ہو، یا شاعر ہو، یامصور ہو، بلکہ یہ کہ وہ اعلی درجہ کا مجاہد ہو، صف شکن ہو، شہسوار ہو یعنی مرد غازی ہو.

(۴) ہنرمند کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں. 

(ا) صاحب فن، مثلاً سائنسدان یاحکیم، 

(ب) صاحب کمال، مثلاً مجاہد یہ غازی،

محراب گل کہتا ہے کہ صاحب کمال، فطرت کے قوانین پر بھی غالب آجاتا ہے مثلاً پانی کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہتا ہے، لیکن انجینئر اپنے کمال فن ہے اسے اونچائی کی طرف بہا سکتا ہے. الغرض کمال فن کی بدولت، انسان رات کو دن بنا سکتا ہے.

(۵) اور جو شخص کسی فن میں کامل ہوتا ہے، وہ حیرت انگیز کارنامے دنیا کو دکھا سکتا ہے. مثلاً وہ کراچی میں بیٹھ کر لندن والوں سے گفتگو کرسکتا ہے محراب گل کہنا یہ چاہتا ہے کہ انگریزوں نے مسلمانوں (محکوموں) کے لیے جو نصاب تعلیم مدون کیا ہے، اس کی غرض صرف، دفتروں کے لیے کلرک تیار کرنا تھی. نہ کہ ان کے اندر تحقیق وانکشاف کی صلاحیت پیدا کرنا، اسلئے اگر مسلمان ترقی کرنا چاہتا ہے، تو اسے اپنا نظام تعلیم خود مدون کرنا چاہیئے جو اس کی ذاتی صلاحیتوں کو بیدار کر سکے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس میں اللہ کے لیے مرمٹنے کا جذبہ پیدا کرسکے کیونکہ مسلمان اگر مجاہد نہیں تو کچھ بھی نہیں.

تو سرفروش نہیں ہے اگر، کچھ بھی نہیں،

(5)

Ye Madrasa Ye Khail Ye Ghoghaye Rawa-Ro
Iss Aysh-e-Farawan Mein Hai Har Lehza Gham-e-Nau

These schools and games, this continuing uproar,
This spectacle of excessive delights hides ever new griefs.

Woh Ilm Nahin, Zaher Hai Ahrar Ke Haq Mein
Jis Ilm Ka Hasil Hai Jahan Mein Do Kaf-e-Jo

That knowledge is a poison for free people,
Which ends in winning two handfuls of barley.

Nadan! Adab-o-Falsafa Kuch Cheez Nahin Hai
Asbaab-e-Hunar Ke Liye Lazim Hai Tag-o-Dou

O fool, there is nothing in letters and philosophy,
Art and skill demand hard labor from you.

Fitrat Ke Nawa Main Pe Ghalib Hai Hunar Mand
Shaam Iss Ki Manind-e-Sehar Sahib-e-Partou

A man of skill controls the working of Nature,
His nights are brighter than mornings.

Woh Sahib-e-Fann Chahe To Fann Ki Barkat Se
Tapke Badan-e-Meher Se Shabnam Ki Tarah Zou!

Through his art, if he so wishes,
Light can drip from the body of the sun as dew.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: