(Zarb-e-Kaleem-191) (جوعالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد) Jo Alam-e-Ejad Mein Hai Sahib-e-Ejad

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

عالم ایجاد: دنیا۔

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو
کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

تقلید: پیروی کرنا ۔

اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک!
ہے جس کے تصور میں فقط بزم شبانہ

تجدید: نیا اور تازہ کرنا۔

لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازہ تجدید
مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ

اس نظم میں اقبال نے، ایجاد، تقلید، اور تجدید، ان تین باتوں پر اظہار خیالات کیا ہے. فرماتے ہیں.

(١) یہ دنیا کوئی ساکن یا مکمل تکمیل یافتہ شئے نہیں ہے، بلکہ ایک متحرک اور ترقی پذیر، حقیقت ہے اور کمال کی طرف حرکت کر رہی ہے. 

چنانچہ اسی خیال کو اقبال نے یوں ادا کیا ہے.

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون 

‏الغرض دنیا، عالم ایجاد ہے، یہاں ہر لحظہ نئی نئی چیزیں عالم وجود میں آتی رہتی ہیں ہر وقت تخلیق اور ایجاد میں مصروف ہے اسی طرف قرآن کلیم اشارہ فرماتا ہے.

…………….. یعنی اللہ ہر لحظہ اپنی قدرت کی جلوہ گری میں مصروف ہے. سورۃ الرحمن

چونکہ اس کائنات میں، حرکت، تخلیق، اور ایجاد، کا اصول کار فرما ہے، اس لیے قدرتی طور پر، جو شخص ان صفات سہ گانہ کا مظہر ہو گا، یعنی جس شخص کی ذات سے ان خوبیوں کا اظہار ہوگا، وہ اس دنیا میں بنی آدم کی نظروں میں محبوب اور محترم ہوگا. اور ہر زمانہ میں، ہر جگہ اہل زمانہ، اس کی عزت، اتباع، اور تقلید کرتے ہیں. مثلاً گلیلئو، کیپلر، نیوٹن، مادام کیوری، مارکونی، وغیرہ ہم یہ وہ لوگ ہیں. جن کو عالمگیر عزت حاصل ہے اور قیامت تک ان کا نام زندہ رہے گا.

(۲) پس اے مسلمان! جب یہ مسلم ہے کہ عزت صاحب ایجاد کے لیے مخصوص ہے تو پھر تم بھی صاحب ایجاد بن. آخر تو غیروں کا مقلد کیوں بنا ہوا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے کہ گزشتہ تین سوسال میں، دنیا میں جس قدر ایجادات ہوئی ہیں، وہ سب کے سب، بلا استثنا غیر مسلموں کی مرہون منت ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ تونے کورانہ تقلید کی بدولت اپنی خودی کو ناکارہ کردیا

اے مسلمان! اپنی خودی کی حفاظت کر کیونکہ یہ تو انمول موتی ہے. 

‏نوٹ=

‏ یہاں حفظ تقلید تشریح طلب ہے. کیونکہ اس کے کم ازکم دو مختلف مفہوم ہیں.

(ا) تقلید، قلادہ سے مشق ہے، جس کے لغوی معنی ہیں وہ کالر، جو کسی حیوان، مثلاً کتے کے گلے میں پڑا ہوا ہو. اس لیے تقلید کے معنی ہوگئے کسی کی اطاعت کرنا بلاچوں چرا، یعنی آنکھ بند کرکے کسی کی پیروی کرنا، اور بطور خود تحقیق واجہتاد سے بھی محترز رہنا. مثلاً فلسفہ ارسطو کی تقلید کے معنی یہ ہیں کہ ارسطو نے جو کچھ لکھ دیا ہے، اگر اس پر بلاچون وچرا ایمان رکھا جائے. اور اس کی حمایت کی جائے.

(ب) تقلید، فقہا، کی اصطلاح بھی ہے. اور فقہی اصطلاح میں اس سے مراد ہے فقہی مسائل میں ائمہ اربعہ امام ابو حنیفہ ابوشافعی، امام مالک اور امام حنبل میں سے کسی ایک امام کی پیروی کرنا، چانچہ اس کی ضد غیر مقلد کے معنی یہ نہیں کہ وہ شخص جو محقق یا مجتہد ہے، بلکہ وہ شخص جوان ائمہ اربعہ میں سے کسی کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ براہ راست حدیث پر عمل کرتا ہے.

چونکہ میں اس وقت شعر کا مطلب لکھ رہا ہوں، اس لیے تقلید کی ہزار سالہ تاریخ سے قطع نظر کرتا ہوں اور صرف تیسری نوع کا تذکرہ کرنے پر اکتفا کرتاہوں، تاکہ یہ بحث مکمل طور پر سامنے آجائے.

(ج) تقلید کی تیسری قسم، صوفیانہ تقلید ہے. یعنی مرشد کے احکام کی بلا چون وچرا تعمیل کرنا. چنانچہ لسان الغیب فرماتے ہیں.

بمئی سجاوہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید

کہ سالک بے خبر نبودز راہ ورسم منزلہا

پہلی بات یہ واضح کرنی چاہتا ہوں کے مطلق تقلید سے کسی انسان کو مضر نہیں ہے. ہر شخص مقلد ہے. دوسروں کا، یا اپنے بزرگوں کا، یا اسلاف کا، یا آباء واجداد کا، یا سوسائٹی کا معاشرہ کا، یا ماحول کا، کسی نہ کسی رنگ میں حد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ اعلان کرے کہ میں کسی کا مقلد نہیں ہوں، تو وہ اس حمایت کا مرتکب ہوجائے گا، جسے منطق میں اجتماع ضدین کہتے ہیں بالفاظ دگر جب وہ شخص یہ الفاظ زبان پر لائیگا تو اسی وقت انہی الفاظ کی بدولت وہ اپنے قول زعم باطل کی تردید بھی کرے گا کیونکہ اگر وہ ہ درحقیقت کسی کا مقلد نہیں ہے تو پھر اردو کیوں بولتا ہے؟ اس بات کا اعلان کرنے کے لیے اسے اپنی زبان ایجاد کرنی لازم ہے. لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا، تو یہ اعلان بھی اسے زیب نہیں دیتا کیونکہ اس نے یقیناً اپنے والدین، اور اپنی سوسائٹی کی تقلید کی کم ازکم اس زبان کے سیکھنے میں جس کے ذریعہ سے وہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہے.

دوسری بات وضاحت طلب یہ ہے کہ اقبال نے جہاں جہاں اپنے کلام میں تقلید کی مذمت کی ہے وہاں ان کی مراد فقہی تقلید نہیں ہے بلکہ کورانہ تقلید ہے یعنی کسی فلسفیانہ اسکول میں اپنے خاندان یا ماحول یا آباء وجداد یا کسی قوم کے رسوم، لباس یا عقائد، اور خیالات کی تقلید. بلاشبہ فقہی تقلید سے تو عامتہ المسلمین کو کسی طرح مفر نہیں ہے. کیونکہ فقہی مسائل میں تحقیق کرنا ہر شخص کا کام نہیں ہوسکتا. جو لوگ ائمہ فقہ کی تقلید نہیں کرتے وہ بھی مقلد ہیں. یعنی اگر وہ امام ابو حنیفہ کی تقلہد کرتے، تو امام بخاری کی تقلید کرتے ہیں. اور جو لوگ نہ ائمہ فقہ کے مقلد ہیں، اور نہ ائمہ حدیث کے مقلد ہیں، وہ ان ائمہ کے علاوہ اور کسی کے مقلد ہیں. وجہ اس کی پہلے لکھ چکا ہوں کہ یہ عقلاً ناممکن ہے. کہ ہر شخص مجتہد بن جائے. ٹھیک جس طرح یہ ناممکن ہے کہ دنیا میں ہر شخص انجینئر ڈاکٹر بن جائے. یا شاعر یا مصور نجبائے علاوہ بریں، اقبال مسلمانوں کو ترک تقلید مبنی فقہی تقلید کا مشورہ یوں بھی نہیں دے سکتے تھے کہ وہ خود ساری عمر فقہی مسائل امام ابوحنیفہ کی تقلید کرتے رہے. پس جو شخص خود مقلد ہو، وہ دوسروں کو ترک تقلید کی تلقین کس طرح کر سکتا ہے؟

اب رہی تقلید کی تیسری قسم یعنی مرشد کی تقلید. تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ کسی جسمانی مرض میں مبتلا ہوں اور اس کے ازالہ کے لیے کسی طبیب کی تقلید کریں، یعنی جو طریقہ علاج وہ آپ کے لیے تجویز کرے، اس پر بلا چون وچرا عمل کریں.

واضح ہو کہ مرشد بھی طبیب ہی ہوتا ہے جو آپ کے قلبی امراض کا ازالہ کرتا ہے اور اس کی تقلید کا مطلب بھی یہی ہے جو نسخہ وہ آپ کیلئے تجویز کرے اس پر بلا چون وچرا عمل کریں.

ہاں یہ آپ کو اختیار ہے کہ طبیب کے انتخاب میں آپ کسی کی تقلید نہ کریں، بلکہ اپنی عقل سے کام لیں، اور خوب غوروفکر اور تحقیق کے بعد کسی کو اپنا معالج منتخب کریں. اور یہ مشورہ ہے جو دنیائے اسلام کے نامور طبیب روحانی یعنی مولانا روم نے دیا ہے.

اے بسا ابلیس، آدم روئے ہست

پس یہ ہر دستے نباید دا دوست

یعنی دنیا میں بہت سے ابلیس، انسانوں کی شکل میں موجود ہیں، اس لیے روحانی مریض کو بلا تحقیق، ہر مدعی اصلاح کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دنیا مناسب نہیں ہے.

پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ فقہی تقلید بھی ضروری ہے اور شیخ مرشد کی تقلید بھی ضروری ہے. اقبال نے تقلید کی ان دونوں قسموں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا، اورنہ کرسکتے تھے. اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی مریض، کسی طبیب کی تقلید کرنا نہیں چاہتا تو وہ پہلے علم طب حاصل کرے، پھر خود تشخیص اور تجویز کر سکتا ہے. اس طرح کوئی شخص اپنے دیوانی یا فوجداری مقدمہ میں کسی وکیل کی تقلید کرنا پسند نہیں کرتا، تو وہ پہلے خود قانون کا امتحان پاس کرلے اس کے بعد خود اپنے مقدمہ کی پیروی کر سکتا ہے. لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ خود وکیل کسی مقدمہ میں ماخوذ ہو جائے، یا کوئی طبیب خود بیمار ہوجائے تو وہ وکیل، دوسرا وکیل مقرر کرتا ہے. یا وہ طبیب دوسرے طبیب سے رجوع کرتا ہے. اور اگر ہر شخص کے لیے طب یا قانون پڑھنا ممکن نہیں تو پھر تقلید سے بھی مفر نہیں. اسی پر آپ فقہی تقلید یا شیخ کی تقلید کو قیاس کرسکتے ہیں. اقبال نے جس تقلید کی مذمت کی ہے وہ پہلی قسم کی تقلید ہے اب میں خود انہی کے اشعار سے اپنے دعوے پر دلیل پیش کرتا ہوں.

واضح ہو کہ اقبال نے اپنے کلام میں تقلید کی مذمت بھی کی ہے اور تحسین بھی کی ہے. اس تضاد کو رفع کرنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ وہی ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے. ایک جگہ تقلید کی مذمت میں لکھتے ہیں.

اگر تقلید بودے شیوۃ نیک

پمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھم رہ اجداد رفتے

یہاں جس تقلید کی مذمت کی ہے، وہ فقہی کی تقلید نہیں ہے بلکہ وہی کورانہ تقلید ہے، جس کی تفصیل اوپر مذکور ہوچکی ہے کہ اپنے بزرگوں کے طریقوں کی پیروی کی جائے، بلا سوچے، سمجھے، آنکھ بند کرکے. 

‏دوسری جگہ تقلید کی تحسین کرتے ہیں.

زاجتہاد عالمان کم نظر

اقتداء برر فتگاں محفوظ تر! 

یعنی موجودہ زمانے کے کوتاۃ عقل علماء کے اجتہادات پر عمل کرنے سے سلف صالحین یا ائمہ فقہ کی تقلید زیادہ مناسب ہے.

مسلمانوں کو جس تقلید نے نقصان پہنچایا اقبال نے جس تقلید کی مذمت کی ہے، وہ فقہی تقلید نہیں بلکہ کورانہ تقلید ہے. یعنی آباء واجداد کی تقلید یا پرانے مراسم خاندانی کی تقلید، دنیاوی علوم میں متقد مین علماء اور حکماء کی تقلید، مثلاً ملا نظام الدین سہالوی محروم نے دھائی سو سال ہوئے، عربی مدارس کے لیے ایک نصاب تعلیم مدون کیا تھا، جو اس زمانہ کے لیے بالکل مناسب تھا، لیکن ہمارے مسلمان علماء ابھی تک اسی نصاب کو پڑھ رہے ہیں، اور اس میں تبدیلی کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں.

ہمارے زمانہ میں مولانا شبلی نعمانی محروم سب سے پہلے اس کورانہ تقلید کے خلاف آواز اٹھائی، اور لکھنؤ میں ایک مدرسہ موسومہ ندوۃ العلماء قائم کیا جس میں عربی اور دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں. 

الغرض اقبال کا مطلب یہ ہے کہ کورانہ تقلید سے اپنی خودی کونا کارہ مت کر، تمدن، معاشرت، معیشت، سائنس، فلسفہ، معاشیات، اور دیگر علوم وفنون میں اپنی عقل خداداد سے کام لے اور جس طرح مغربی اقوام دن رات تحقیق اور تجربہ میں مشغول ہیں تو بھی ان میں منہمک ہو کر اپنی خودی کی قوتوں کو بیدار کر، اور ترقی کے میدان میں مغربی اقوام کے دوش بدوش کام کر اور اپنے لیے زندہ قوموں میں جگہ حاصل کر.

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ فرمایا تھا………… یعنی اپنی دنیاوی معاملات کو تم خود بہتر سمجھتے ہو، تو اس میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ تم دین کے مسائل میں بیشک میری تقلید کرو، لیکن زراعت، تجارت، آہنگری، خیاطی، اور دوسرے تمام دنیاوی معاملات میں اپنی عقل سے کام لے سکتے ہو.

امید ہے کہ اس تفصیل سے ناظرین اقبال کے مفہوم کو بخوبی سمجھ سکیں گے. 

(٣) اس شعر میں اقبال نے تجدید کا لفظ استعمال کیا ہے اس کی بھی قدرے تشریح ضروری ہے. واضح ہوکہ تجدید اور اجتہاد میں فرق ہے. اجتہاد تقلید کی ضد ہے. یعنی کسی مسئلہ میں اپنی عقل سے کام لے کر استخراج یا استنباط کرنا، مثلاً قرآن مجید میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے. لیکن چرس، افیون گانجہ یا بھنگ کا ذکر نہیں ہے. اب ایک شخص یہ دریافت کرتا ہے کہ چرس پینا جائز ہے یا نہیں؟ تو مجہد قرآن کی نص میں مناط حکم تلاش کرتا ہے، اور ذاتی غورو فکر سے جسے قرآن نے تدبر سے تعبیر کیا ہے، یہ معلوم کرتا ہے کہ شراب کی حرمت کا سبب، سکر ہے پس وہ ایک کلیہ بنتا ہے کہ…………… یعنی ہر نشہ آور چیز حرام ہے. اور چونکہ چرسی یا بھنگ بھی نشہ لاتی ہے، اس لیے یہ بھی حرام ہے، اس اسنتباط کو اجتہاد کہتے ہیں.

تجدید، کے لغوی معنیٰ ہیں نیا کرنا، یعنی کسی چیز کو اسی کی اصلی اور حقیقی شکل عطا کرنا، لیکن اصطلاح میں تجدید کہتے ہیں، دین اسلام کو ان غلط خیالات رسوم عقائد، اور افکار سے پاک کرکے، جو مسلمانوں کی غلطی یا جہالت سے دین میں داخل ہوگئے ہیں دوبارہ اس کی حقیقی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرنا اور جو ایسا کرتا ہے اسے مجدد کہتے ہیں.

اقبال کہتے ہیں کہ جو قوم دنیاوی لذتوں منہمک ہوکر، آخرت سے بیگانہ ہو گئی ہو، بیشک اس کے لیے، یعنی اس کے خیالات کی اصطلاح کے لیے مجدد کا وجود بہت ضروری ہے.

(۴) لیکن مشرقی ممالک، مثلاً ترکی، ایران، افغانستان، ہندوستان میں جو تجدید کا شور برپا ہے، اس کی تہ میں خلوص کار فرما نظر نہیں آتا. یعنی ان ملکوں میں جو مجدد پیدا ہو رہے ہیں، ان کا مقصد نیک نہیں. کیونکہ وہ اس منصب کی اہلیت نہیں رکھتے ان لوگوں کی تجدید کے جو کارنامے سامنے آرہے ہیں ان کو دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے مجبور ہوں. کہ یہ مجددین مسلمانوں کو تجدد دین کے پردہ میں فرنگی قوموں کی کورانہ تقلید یعنی غلامی کا سبق دے رہے ہیں. اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ

(ا) ترکی میں مصطفےٰ کمال نے تجدید دین کا علم بلند کیا. لیکن چونکہ وہ دین اسلام کی حقیقت سے بیگانہ تھا، لہذا اس نے ترکوں میں اسلامی رنگ پیدا کرنے کے بجائے، مغربی رنگ پیدا کردیا مثلاً عربی کی جگہ لاطینی رسم الخط رائج کردیا، ترکی لباس کی جگہ فرنگی لباس رائج کر دیا. پردہ کی جگہ عریانی کو فیشن بنا دیا. انتہایہ ہے کہ اسلامی آئین کی جگہ ضابطہ سوئس نافد کردیا. اب اہل نظر خود انصاف کر سکتے ہیں کہ یہ تجدید ہوئی یا تخریب؟ مسلمان آزاد ہوئے، یا اور بھی غلام ہو گئے؟

(ب) یہی کارنامہ ایران رضا شاہ پہلوی نے انجام دیا. 

(ج) اس قسم کی اصطلاح امام اللہ خان افغانستان میں کی

(د) ہندوستان میں ایک مجدد عظیم پیدا ہوا، جس میں صاف لفظوں میں مسلمانوں کو اس بات کی تقلید کی کہ.

اے دوستو! جہاد کا اب چھوڑ دو خیال

دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال

‏ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مجددین اس دین کی حقیقت سے بیگانہ تھے، جس کی تجدید کا فرض انہوں نے انجام دیا. نتیجہ اس کارخیر جو نکلا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے. یعنی ان قوموں کی غلامی کی زنجیریں اور بھی مضبوط ہوگئیں.

(6)

Jo Alam-e-Ijad Mein Hai Sahib-e-Ijad
Har Dour Mein Karta Hai Tawaaf Iss Ka Zamana

He who creates in this world of Becoming,
Time revolves around him in all ages.

Taqleed Se Nakara Na Kar Apni Khudi Ko
Kar Iss Ki Hifazat Ke Ye Gohar Hai Yagana

Don’t spoil your khudi through imitation of others,
Protect it, for it is of incomparable worth.

Uss Qoum Ko Tajdeed Ka Paigham Mubarik !
Hai Jis Ke Tasawwar Mein Faqt Bazm-e-Shabana

May the message of modernism be auspicious for the people
Whose mental horizon does not go beyond nightly revelries.

Lekin Mujhe Dar Hai Ke Ye Awaza-e-Tajdeed
Mashriq Mein Hai Taqleed-e-Farangi Ka Bahana

But I fear this cry for modernism
Becomes a cover for Frankish imitation.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: