(Zarb-e-Kaleem-192) (رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندوستان) Rumi Badle, Shami Badle, Badla Hindustan

رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندستان

رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندستان
تو بھی اے فرزند کہستاں! اپنی خودی پہچان

اپنی خودی پہچان
او غافل افغان

موسم اچھا، پانی وافر، مٹی بھی زرخیز
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا، وہ کیسا دہقان

اپنی خودی پہچان
او غافل افغان

اونچی جس کی لہر نہیں ہے، وہ کیسا دریاے
جس کی ہوائیں تند نہیں ہیں، وہ کیسا طوفان

اپنی خودی پہچان
او غافل افغان

ڈھونڈ کے اپنی خاک میں جس نے پایا اپنا آپ
اس بندے کی دہقانی پر سلطانی قربان

اپنی خودی پہچان
او غافل افغان

تیری بے علمی نے رکھ لی بے علموں کی لاج
عالم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان

اپنی خودی پہچان
او غافل افغان

اس نظم میں اقبال نے افغانوں کو انقلاب کا پیغام دیا ہے. افغانستان کے باشندوں سے تو میں واقف نہیں ہوں، لیکن سرحد، یعنی آزاد علاقہ کے افغانوں کی ذہنیت اسی قدر سے آگاہی ضرور حاصل ہے. اور میں اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں، کہ ان لوگوں میں وہ جوہر ضرور موجود ہے جس کی صحیح تربیت، اگر ہوجائے تو یہ لوگ انقلاب پیدا کرسکتے ہیں. مثلاً

(ا) ان لوگوں میں دینی حمیت اور غیرت نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے. 

(ب) ان لوگوں میں جہاد کا جذبہ بھی نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے. 

(ھ) ان لوگوں کو انگریز، اور انگریزیت ، دونوں سے شدید نفرت ہے. 

(د) یہ لوگ فطرتاً بہادر بھی ہیں، اور جفاکش بھی ہیں.

اقبال مجھ سے بدر جہاد زیادہ، ان لوگوں کی ان خصوصیات سے آگاہ تھے اس لیے انہوں نے اس نظم میں براہ راست انہیں مخاطب کیا ہے. 

‏پہلا بند= اسے سرحد کے مسلمان! اپنے گردو پیش کی دنیا پر نظر کر، دیکھ تو سہی ہر طرف انقلاب برپا ہے. ترکی میں انقلاب رونما ہو گیا. شام میں بھی بڑی تبدیلی رونما ہوگئی. یہی حال ہندوستان کا ہے. اور اب تو پاکستان بھی عالم وجود میں آچکا ہے. سرحد کے غیور پٹھان! اللہ نے تیرے اندر بڑی بڑی صلاحیتیں ودیعت فرمادی ہیں. تیرا فرض یہ ہے تو ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر دنیا میں اسلام کو بلند کرے. 

‏اپنی خودی پہچان کا مطلب اقبال کی اصطلاح میں یہ ہے کہ اے غافل افغان! اسلامی خطوط پر اپنی خودی کی تربیت کر، تاکہ تو ایشیا میں تمام کو قوموں کو سردار بن جائے.

علامہ مرحوم میں ایک دفعہ مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر سرحد کے پٹھانوں میں کوئی شخص صحیح اسلامی شعور پیدا کر دے تو یہ لوگ اسلام کو دوبارہ سربلند کر سکتے ہیں. ساری دشواری یہ ہے کہ انہیں اپنی طاقتور کا علم ہی نہیں ہے. 

دوسرا بند= اے سرحد کے غیور مسلمانو! اللہ نے تمہیں جسمانی طاقت عطا فرمائی ہے. حوصلہ بھی عطا کیا ہے. اور جنگ وجدل کا شوق بھی. پس اگر تم اسلام کھیت کی آبیاری نہ کرو، تو پھر تمہاری مسلمانی کسی کام کی؟ اور اسلام کو تم سے کیا فائدہ پہنچا؟

تیسرا بند= تم تو سمندر ہو، پھر کیا سبب کے کفار کے مقابلہ میں تمہاری تلواریں علم نہیں ہوتیں؟ تم کفر کے خلاف صف آرا کیوں نہیں ہوتے؟ تم طوفان ہو، پھر کیا سبب کہ کفر تمہارے سامنے ابھی تک قائم ہے؟ کہیں طوفان کے سامنے خس وخا شاک قائم رہ سکتا ہے؟

چوتھا بند= یاد رکھو! حقیقی عظمت اور سربلندی یہ ہے کہ انسان بادشاہوں کے دربار میں جاکر ضمیر فروشی کے بجائے، اپنی قوت بازو سے اپنا رزق پیدا کرے، یا اس سلطان سے وہ دہقان بدرجہا بہتر ہے جو اپنی خودی کی تربیت کرکے اپنے اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لائق بنا سکے، جو سلطان اپنی خودی سے غافل ہے، اس سلطان سے وفا فقیر بہتر ہے. جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے اپنی خودی کو کامل کر لیا ہے.

پانچواں بند=اے سرحد کے مسلمان! یہ سچ ہے کہ تیرے علاقہ میں علم وحکومت کا چرچا نہیں ہے، اور تو بھی عالم نہیں ہے. لیکن یہ تیری بے علمی ہندوستان کے اکثر علماء کے علم و فضل سے بہتر ہے، کیونکہ آج وہ زمانہ ہے کہ 

“علم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان”

نوٹ=

اس مصرع میں اشارہ ہے ان علماء کی طرف جنہوں نے محض روپے کی خاطر، انگریزوں کے ناپاک مقاصد کی تائید کی اور مسلمان ہوکر اسلام سے غداری کی. مثالیں تو سینکڑوں ہیں صرف ایک واقعہ لکھتا ہوں جب……… میں انگریزوں نے قبضہ کیا تھا، تو ان فرزندان ابلیس کے طرز عمل کو اہل ایران کے حق میں مفید ثابت کرنے کے لیے پنجاب سے کئی مولوی ایران گئے تھے، اور جس ضمیر فروش نے ان کے اخراجات برداشت کئے تھے اس کو نواب کا طوق لعنت مرحمت ہوا تھا.

 

(7)

Rumi Badle, Shaami Badle, Badla Hindustan
Tu Bhi Ae Farzand-e-Kuhastan! Apni Khudi Pehchan

People of Rome and Syria have changed and so have those of India;
You, the son of mountains! Learn to know your khudi.

Apni Khudi Pehchan
O Ghafil Afghan!

Learn to know your khudi,
O careless Afghan!

Mousam Acha, Pani Wafir, Mitti Bhi Zarkhiaz
Jis Ne Apna Khait Na Seencha, Woh Kaisa Dehqan

Weather is favourable, water plenty and soil fertile,
He is no true farmer if he does not work in the fields.

Apni Khudi Pehchan
O Ghafil Afghan!

Learn to know your khudi,
O careless Afghan!

Unchi Jis Ki Lehr Hai, Woh Kaisa Darya
Jis Ki Hawaen Tund Nahin Hain, Woh Kaisa Toofan

If its waves don’t fret and fume, it isn’t river;
If the winds are not violent, it isn’t storm.

Apni Khudi Pehchan
O Ghafil Afghan!

Learn to know your khudi,
O careless Afghan!

Dhoond Ke Apni Khaak Mein Jis Ne Paya Apna Aap
Uss Bande Ki Dehqani Par Sultani Qurban

He who discovers himself in soul after a hard labour,
Is far better than kings and monarchs.

Apni Khudi Pehchan
O Ghafil Afghan!

Learn to know your khudi,
O careless Afghan!

Teri Be-Ilmi Ne Rakh Li Be-Ilmon Ki Laaj
Alim Fazil Baich Rahe Hain Apna Deen Imaan

Your lack of knowledge has saved the honour of all ignorant people;
The learned are bartering away their faith.

Apni Khudi Pehchan
O Ghafil Afghan!

Learn to know your khudi,
O careless Afghan!

 

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: