(Zarb-e-Kaleem-193) (زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے پر) Zagh Kehta Hai Nahayat Badnuma Hain Tere Per

زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے پر

زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے پر
شپرک کہتی ہے تجھ کو کور چشم و بے ہنر

شپرک: چمگادڑ۔
زاغ: کوّا۔
کور چشم: اندھا پن۔

لیکن اے شہباز! یہ مرغان صحرا کے اچھوت
ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خم سے بے خبر

ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام
روح ہے جس کی دم پرواز سر تا پا نظر!

از- علامہ محمد اقبال ؒ


اس چھوٹی سی نظم میں اقبال نے اپنے محبوب شکاری پرند شہباز کی دو سب سے بڑی خوبیاں ان کی پرواز اور نظر اور جن لوگوں نے کلام اقبال کا مطالعہ کیا ہے، ان سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ اقبال یہی دو خوبیاں اپنی قوم کے نوجوانوں میں دیکھنا چاہتے تھے۔ انہی دو خوبیوں کو انہوں نے بہ تبدیل الفاظ اس مصرع میں بیان کیا ہے۔

چیتے کا جگر چاہیئے، شاہین کا تجسس

یعنی قوم کے نوجوانوں کو اپنے اندر یہ دو صفات پیدا کرنے لازم ہیں۔

(ا) پرواز، جسمانی طاقت، ہمت، حوصلہ اور شجاعت پر موقوف ہے۔

اسی کو اقبال نے، چیتے کے جگر سے تعبیر کیا ہے.

(ب) نظر، اور تجس کا باہمی رشتہ بالکل واضح ہے. شکار کی تلاش صرف نظر پر موقوف ہے. چیتا یا باز، اگر اندھا ہو جائے تو اس کی زندگی بالکل بیکار ہو جائے گی.

اقبال کو شاہین اور باز سے جو اس قدر محبت تھی، اس کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ یہ پرند، ان صفات کے مظہر ہیں، جو اقبال کو بحید محبوب تھیں. کیا مجھے اپنی قوم کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام، مومن کے اندر، پرواز اور نظر ہی تو پیدا کردیتا ہے. تاکہ وہ کائنات کو مسخر کر کے اس میں حکم حق جاری کر سکے

اگر غور سے دیکھا جائے تو باز اور مومن کی زندگی میں بڑی مماثلت نظر آتی ہیں.

(ا) باز تمام پرندوں کا بادشاہ ہوتا ہے، مومن تمام انسانوں پر حکمران ہوتا ہے.

(ب) باز، بھی پستی یا نشیب میں قیام نہیں کرتا. مومن بھی کبھی پستی یا ذلت میں زندگی بسر نہیں کر سکتا. چنانچہ سلطان ٹیپو شہید کی زندگی اس اصول پر شاہد ہے.

(ج) باز آشیانہ نہیں بناتا، مومن بھی دنیا سے دل نہیں لگاتا.

(د) باز، مراد نہیں کھاتا، مومن بھی حرام چیز کو نہیں چھوتا.

(ہ) باز کی نگاہ بہت تیز ہوتی ہے، مومن بھی نور ایمان کی بدولت ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے، جو کافر کی نگاہ سے پوشیدہ رہتی ہیں.

یہی وجہ ہے کہ اقبال نے اکثر اپنی نظموں میں باز اور شاہین کا تذکرہ کیا ہے. اور ان کی صفات کو موضوع سخن بناتا ہے. مقصد یہ ہے کہ اگر پرواز اور نظر کی بدولت شہباز اور شاہین تمام پرندوں کے سردار بن سکتے ہیں، تو یہ صفات قوم کے نوجوان کو بھی دنیا میں سروری عطا کرسکتی ہیں.

محراب گل، شہباز سے کہتا ہے کہ

(1) کوا، جوخود بدصورت ہے، اپنی ظاہر بینی کی وجہ سے، تیرے پیروں کو بدنما کہتا ہے. اور چمگادڑ، جو خود روشنی کی تاب نہیں لا سکتی، اور دنکی اندھی ہوتی ہے، تجھ کو کور رچشمی کا طعنہ دیتی ہے. اور کہتی ہے کہ تو بے ہنر ہے.

(ا)واضح ہو کہ باز کے پر، دیکھنے میں دلکش نہیں ہوتے، عموماً خاکی یا بیٹا لے رنگ کے ہوتے ہیں. چونکہ کوا، حقیقت بیں نہیں ہوتا( اس لیے کہ ہو نہیں سکتا) بدنیوجہ وہ باز کے پروں پر اعتراض کرتا ہے. یہاں جو نکتہ پوشیدہ ہے، وہ یہ ہے کہ باز کے پیروں کا خوبی کا انحصار، طاؤس کے پروں کی طرح مختلف رنگوں کی آمیزش پر نہیں ہوتا. بلکہ ان کا حسن وجمال اس طاقت پرواز پر مبنی ہوتا ہے، جو اس کے بازو میں پوشید ہوتی ہے.

اسی طرح مومن کا حال ہے، ظاہر پرست دنیا کے ظاہر بیں لوگ، مرد مومن کو اس کے معمولی کھدر کے لباس کی بنا، پر حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں.

حالانکہ اس کا حسن اس کی سیرت اور روحانی طاقت میں پوشیدہ ہوتا ہے.

(ب) چمگادڑ کی آنکھ اس قسم کی ہوتی ہے کہ اسے دن میں کچھ نظر نہیں آتا، اسی لیے سعدی نے لکھا ہے.

گرنہ بیند بروز شپرہ چشم!

چشمہ آفتاب راچہ گناہ!

(ج) اقبال نے باز پر اعتراض کرنے کے لیے کوے اور چمگاڈر کو منتخب کیا ہے اس میں نکتہ یہ ہے کہ یہ دونوں خود حقیر، اور ذلیل اور مجموعہ عیوب ہوتے ہیں. یعنی باز پر وہی اعتراض کرتا ہے، جو خود کوتاہ بیں اور بدصورت ہوتا ہے.

(د) ان پرندوں نے باز میں جو دو عیب نکالے ہیں وہی دراصل اس کی دو سب سے بڑی خوبیاں ہیں، لیکن کوا اور چمگادڑ چونکہ پست، فطرت، اور کورذوق ہیں اس لیے ذوق حسن وزیبائی، سے یکسر محروم ہیں.

اسی طرح مرد مومن، وہی شخص زبان طعن دراز کرتا ہے، جو خود پست فطرت اور کورذوق ہوتا ہے، اور انہی باتوں پر اعتراض کرتا ہے. جو درحقیقت مومن، یا انسانیت کے لیے سرمایہ افتخار ہوتی ہے. مثلاً مومن کا ظاہر اور باطن، دونوں یکساں ہوتے ہیں، لیکن یہی خلوص صداقت آج مذہب دنیا میں سب سے بڑا عیب ہے. کیونکہ اس زمانہ میں عقلمند وہ ہے، جو انتہائی غیار، نقاد، مکار، منافق اور زمانہ ساز ہو، اس صفات کا موجودہ سیاسی اصطلاح میں ڈپلومیسی کہتے ہیں.

(٢) لیکن اے شہباز! تو ان بیوقوفوں کے اعتراضات سے غمگین یا کبیدہ خاطرنہ ہونا کیونکہ یہ دونوں ( کوا اور چمگادڑ) صحرا کے پرندوں میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو ہندو سماج میں اچھوتوں کو حاصل ہے. جو وہ کوتاہ بیں اور تنگ نظر ہیں جو فضائے نیلگوں کی وسعت اور پہنائی سے بالکل بے خبر ہیں. جس طرح کوئیں کا مینڈک، سمندر کی وسعت کا تصور نہیں کرسکتا،اسی طرح کوا جس کی دوڑ درخت سے منڈیر، اور منڈیر سے صحن مکان تک ہے. یا چمگادر جو دن بھر غیاروں میں چھپا رہتا ہے، اس مسافت کا تصور نہیں کر سکتے، جو شکار کی تلاش میں ہر روز تجھ کو طے کرنی پڑتی ہے.

(٣) ان بیچاروں کو اس طائر کے احوال اور مقامات کا کیسے علم ہو سکتا ہے، جو بحالت پرواز شکار کی تلاش میں سراپا نگاہ، اور سراسر نظر تجسس کی انتہا کا اظہار مقصود ہے بن جاتا ہے.

نوٹ=

احوال اور مقامات، تصوف کی اصطلاحیں ہیں.

‏(١) حال سے وہ کیفیت مراد ہے جو قوت ارادی کے استعمال سے مومن کی روح میں پختگی کا رنگ اختیار کر لیتی ہے. مثلاً ایک مسلمان عموماً ہر روز نماز پڑھتا ہے، لیکن کسی دن ناغہ بھی کر دیتا ہے تو تصوف کی اصطلاح می‌ نمازی نہیں ہے، یا ایک آدمی عموماً سچ بولتا ہے، لیکن کبھی کبھی جھوٹ بھی بول دیتا ہے، تو وہ راست گو نہیں ہے. کیونکہ نماز اور راستی ان کے لیے ابھی تک حال نہیں بن سکی.

(٢) مقام سے مراد وہ روحانی مرتبہ ہے، جو مومن اپنی ہمت اور اپنے اختیار کو کام میں لا کر، اتباع شریعت کی بدولت حاصل کرتا ہے. واضح ہوکہ اسلامی تصوف میں ہمت ان دو قوتوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے. اور ناظرین شاید حیران ہوں گے کہ اسلامی تصوف کے خلاف سب سے بڑا اعتراض یہی کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان کو پست ہمتی اور بے عملی کا درس دیتا ہے، حالانکہ اس کی بنیادی ہمت اور اختیار پر ہے. اسلامی تصوف کا نقطہ آغازی ہی یہ دواصول موضوعہ ہیں کہ.

(١) ہر انسان اپنی قوت ارادی کو ترقی دے سکتا ہے. اور اپنے ارادہ کی بدولت، ناممکن کو ممکن کر سکتا ہے.

(٢)ہر انسان کو ترقی کرنے اور مقام خلافت تک پہنچنے کی آزادی حاصل ہے. اور مجبور نہیں ہے بلکہ اس معاملہ میں مختار ہے، یعنی اگر وہ ہمت سے کام لے تو مرتبہ خلافت اہلیہ حاصل کرسکتا ہے.

دراصل اسلامی تصوف پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں، وہ جاہل مسلمان صوفیوں کی غیر اسلامی زندگی اور تعلیمات کی بناء پر وارد ہوتے ہیں.

نوٹ=

‏ آخری مصرع میں اقبال نے باز کی دو خوبیاں بیان کی ہیں. پرواز اور نظر. یعنی کوے اور چمگادڑ کی تردید کی ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں ان کی جہالت اور حماقت پر مبنی ہے.

(١) بظاہر باز کے خوشنما نہیں ہوتے، لیکن ان کی خوشنمائی دم پر واز ظاہر کرتی ہے. باز کے پروں کی خوشنمائی، طاقت پر مبنی ہے. اس طرح مومن کا حسن اس کی قوت بازو پر موقوف ہے.

(٢) بظاہر باز کی آنکھ دلکش نہیں ہوتی( جیسے چشم غزال دلکش ہوتی ہے) لیکن جب وہ فضائے آسمانی میں، شکار کی تلاش کے وقت، پرواز کرتا ہے تو اس وقت اس آنکھ میں بلا کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے.

اس طرح جس وقت مومن، کفن باندھ کر میدان میں نکلتا ہے تو اس کی پوری شخصیت، نظر بن جاتی ہے. یعنی اس وقت اس کی روح صرف ایک نقطہ پر مرکوز ہو جاتی ہے. اور وہ یہ ہوتا ہے. کہ جہاں تک کفر کے آثار نظر آئیں، انہیں مٹا دے وہ سراپا نگاہ بن جاتا ہے. تاکہ اسلام کے دشمنوں کو، خواہ وہ غار میں پوشیدہ ہوں، یا دوستی کی نقاب اوڑھے ہوئے ہوں، یا منافقت کے لباس میں ملبوس ہوں، غرضکہ جہاں بھی ہوں، دیکھ سکے پہچان سکے قتل کر سکے.

مجھے اعتراف ہے کہ اس تشریح کے باجود میں اس مصرع کا مفہوم واضح نہ کرسکا. روح ہے جس کی دم پرواز، سرتاپا نظر.

نوٹ=

اقبال نے اس نظم کے پردہ میں مسلمان قوم کے نوجوانوں کو شہبازی کا طریقہ سکھایا ہے، چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں.

‏کہ میں نے فاش کر ڈالاطریقہ شاہبازی کا

میری ایمانداری کے ساتھ یہ رائے ہے کہ محروم نے تو اپنا فرض ادا کر دیا کہ مذہب شہبازی کے اصول مدون کردئے. اب یہ فرض حکومت کا ہے کہ وہ ایسے ادارے قائم کرے، جہاں مسلمان نوجوانوں کو شاہین اور شہباز کے مسلک پرگامزن ہونے کی تلقین کی جا سکے. یعنی شاہینی اصولوں پر ان کی تربیت ہو سکے. اصلی چیز تربیت ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کامل تیرہ سال تک قوم کی تربیت ہی تو کی تھی جس کی بدولت مٹھی بھر مسلمانوں نے قلیل عرصہ میں قیصر اور کسری کی سلطنتوں کا خاتمہ کردیا، اور ایک نئی دنیا پیدا کردی.

اگر آج پاکستان کے مسلمان نوجوان لڑکے قیس اور فرہاد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، اور نوجوان مسلمان لڑکیاں شکستلا نہ بن کر ناظرین سے خراج تحسین حاصل کر رہی ہیں. بالفاظ دگر دونوں اپنی متاع عزیز کو برباد کررہے ہیں. تو اس کی ذمہ داری ان ناتجربہ کار نوجوانوں پر نہیں ہے. بلکہ ان بڑے بوڑھوں پر ہے جو انہیں اس قسم کی اعلی تعلیم دلوا رہے ہیں.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close