(Zarb-e-Kaleem-194) (عشق طنیت میں فرو مایہ نہیں مثل ہوس) Ishq Tiniat Mein Firo Maya Nahin Misal-e-Hawas

عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل ہوس

عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل ہوس
پر شہباز سے ممکن نہیں پرواز مگس

مگس: مکھی۔

یوں بھی دستور گلستاں کو بدل سکتے ہیں
کہ نشیمن ہو عنادل پہ گراں مثل قفس

عنادل: عندلیب (بلبل) کی جمع۔

سفر آمادہ نہیں منتظر بانگ رحیل
ہے کہاں قافلہ موج کو پروائے جرس!

جرس: گھنٹی۔ (Kooch.( رحیل: کوچ۔

گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے
مردہ ہے، مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس

پرورش دل کی اگر مد نظر ہے تجھ کو
مرد مومن کی نگاہ غلط انداز ہے بس!

اس غزل میں اقبال نے بعض حقائق ومعارف ،شعر کے دلکش لباس میں پیش کئے ہیں. فرماتے ہیں کہ

(١) عشق:- اور اقبال کے یہاں رومی کی طرح، عشق سے عشق حقیقی ہی مراد ہے. اپنی سرشت کے لحاظ سے عاشق کو، بلندی اور پاکیزگی کی طرف لے جاتا ہے.

واضح ہو کہ مرشدی رومی نے عشق کی دو قسمیں بیان کی ہیں. ایک وہ جو مادی اشیاء سے ہوتا ہے. خواہ وہ عورت ہو یا دولت ہو یا زمین ہو، یہ عشق، عشق نہیں ہے. بلکہ ننگ یعنی انسانی خودی کی تذلیل کا باعث ہے چنانچہ فرماتے ہیں.

عشقہائے کزپے رنگے بود

عشق بنود، عاقبت ننگے بود!

دوسرا عشق وہ ہے، جو اللہ سے کیا جاتا ہے. اور چونکہ اللہ باقی ہے اس لیے اس کا عشق، عاشق کو بھی غیرفانی بنا دیتا ہے. رومی کی نگاہ میں یہی حقیقی عشق ہے. اور اسی لیے صوفیا، اللہ کو معشوق حقیقی کہتے ہیں.

اس عشق حقیقی کی یہ خاصیت بلکہ طنیت ہے کہ عاشق کو مادیات اور نفسانی خواہشات سے بالاتر کر دیتا ہے. اور عشق مجازی اس کی ضد ہے، اس لئے وہ نفسانی خواہشات میں مبتلا کر دیتا ہے. اور وہ اسی وقت تک رہتا ہے جب تک حسن وجمال باقی رہتا ہے. اسی لیے اقبال نے اسے ہوس سے تعبیر کیا ہے.

عشق اور ہوس دونوں میں جو فرق ہے، اسے علامہ نے شہباز اور مگس کی تشبیہہ سے واضح کیا ہے. میں وہ تو دونوں اڑ سکتے ہیں، اور اڑتے ہیں. لیکن دونوں کی نوعیت پرواز میں بھی فرق ہے. اور غایت پرواز میں بھی یعنی

(ا) مکھی کی پرواز میں وہ شدت پیدا نہیں ہوسکتی جو شہباز کی پرواز میں ہوتی ہے. اسی طرح بوالہوس کی محبت، اور عاشق کی محبت میں فرق ہوتا ہے.

(ب) مکھی، ناپاک، کثیف، اور گندہ چیزوں کی طرف جاتی ہے لیکن شہباز ہمیشہ زندہ شکار کی طرف جاتا ہے. اسی طرح بوالہوس کا میلان طبع کثافت کی طرف ہوتا ہے. اورعاشق صادق کا جذبہ پاکیزہ اور ارفع ہوتا ہے.

(٢) اس شعر کے دو مطلب ہو سکتے ہیں. پہلا مطلب یہ ہے کہ جو حکمراں عقلمند ہوتے ہیں، وہ محکوم قوم کو ایسے سبز باغ دکھا سکتے ہیں کہ وہ آزادی کے جذبہ نشمین کو مذموم سمجھنے لگتے ہیں. اور غلامی قفس کو اپنے حق میں محمود تصور کرنے لگتے ہیں. چنانچہ میں نے اپنی طالب علمی کے زمانہ میں آج سے چالیس پینتالیس سال پہلے، ہندوستان کے بعض مشہور اڈباء کے مضامین پڑھے تھے، جن کا عنوان تھا برکات سلطنت انگلشیہ ناظرین اس عنوان کو مدنظر رکھ کر اقبال کے اس شعر کے مفہوم سے کسی قدر آگاہ ہو سکتے ہیں. یہ عنوان زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ لکھنے والا غلامی کو آزادی سے بہتر سمجھتا ہے.

دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان، پابندی قفس سے بھاگتا ہے، آزاد رہنا چاہتا ہے، لیکن اگر کسی شخص میں روحانی کمال موجود ہو تو لوگ اپنی آزادی کو خیرباد کہہ کر اس کی غلامی کو بخوشی قبول کر لیتے ہیں. چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ جب حضرت سید احمد صاحب رائے بریلوی، دلی تشریف لائے تو مولانا اسماعیل شہید ان کے ایسے گرویدہ ہوگئے کہ پھر مدۃ العمر قدموں سے جدا نہ ہوئے.

(٣) جس شخص کے دل میں عشق الہی کی بدولت جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ پیدا ہوجائے ،اور وہ سر کٹانے کے لیے آمادہ ہوجائے تو وہ بانگ رحیل یعنی اعلان جہاد کا انتظار نہیں کیا کرتا، وہ مجسم اعلان جہاد بن جاتا ہے. وہ اس کا منتظر نہیں ہوتا، کہ دوسرا شخص اس کو ترغیب دے. بلکہ وہ خود جہاد کرتا ہے. دیکھ لو! سمندر کی موجوں میں ساحل سے ٹکرانے کا جذبہ چونکہ باطنی طور سے موجود ہوتا ہے، اس لیے وہ کسی خارجی تاریک کا انتظار نہیں کرتیں. اٹھنا ابھرنا، حرکت، سیلان، اور آگے بڑھنا اور ٹکرانا یہ موج کی ذات میں داخل ہے، اس لیے وہ کسی دوسرے کی تحریک کی محتاج نہیں ہے.

(۴) اگرچہ کالج اور یونیورسٹی کا طالب علم بظاہر زندہ نظر آتا ہے، چلتا پھرتا ہے، پڑھتا ہے، امتحان پاس کرتا ہے. لیکن دراصل مردہ ہے، کیوں اس لیے کہ اس کے دماغ میں جو خیالات اور دل میں جو جذبات موجزن ہیں وہ اس کے ذاتی نہیں ہیں، بلکہ فرنگی کے عطا کردہ ہیں. اور جو شخص ذہنی اعتبار سے فلام ہے، دوسرے کا دست نگر ہے وہ دراصل مردہ ہے جس طرح مردہ نہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ دوسروں کے اسی طرح غلام نہ خود ترقی کر سکتا ہے، نہ قوم کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے. 

نوٹ=

اقبال نے موجودہ نظام تعلیم کی خرابیوں پر جو کچھ لکھا ہے، اگر اسے جمع کیا جائے تو بجائے خود ایک کتاب مرتب ہوسکتی ہے. اس لیے میں اس موضوع پر عنقریب جداگانہ کتاب لکھوں گا.

(۵) اے مسلمان! اگر تو اپنے دل کو زندہ کرنا، یعنی حقیقی معنی میں مومن بننا چاہتا ہے تو کسی مومن کی صحبت اختیار کر. کیونکہ دنیا کا دستور یہی ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے. 

اقبال نے اس موضوع پر بھی بہت کچھ لکھا ہے. اس جگہ صرف ایک شعر پر اکتفا کرتا ہوں.

دیں مجو اندر کتب اے بے خبر!

علم وحکمت ازکتب دیں از نظر!

اکبر الہ آبادی محروم نے بھی اسی حقیقت کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے

نہ کتابوں سے نہ کالج سے نہ زر سے پیدا

دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

افسوس اس بات کا ہے کے قوم نے اکبر اور اقبال کی اس تعلیم کو ابھی تک درخور احتناء ہی نہیں سمجھا، کاش میری قوم اس نکتہ سے آگاہ ہوجائے کہ محض یوم اکبر، اور یوم اقبال ہنگاموں سے دل زندہ نہیں ہو سکتا.

 

(9)

Ishq Tiniat Mein Firomaya Nahin Misl-e-Hawas
Par Shahbaz Se Mumkin Nahin Parwaz-e-Magas

Love is not by nature ignoble like lust;
You can’t expect flight of a fly from falcon’s wings.

Yun Bhi Dastoor-e-Gulistan Ko Badal Sakte Hain
Ke Nasheman Ho Anadil Pe Garan Misl-e-Qafas

The way of the garden can be changed thus:
The nightingales should grow sick of their nests like a cage.

Safar Amadah Nahin Muntazir-e-Bang-e-Raheel
Hai Kahan Qafla-e-Mouj Ko Parwaye Jaras!

Those waiting for the bugle‐call are not ready for the journey,

Gharcha Maktab Ka Jawan Zinda Nazar Ata Hai
Murda Hai, Mang Ke Laya Hai Farangi Se Nafas

The pupil in schools looks alive; nay, he is dead;
He had borrowed his breath from the Franks.

Parwerish Dil Ki Agar Mad-e-Nazar Hai Tujh Ko
Mard-e-Momin Ki Nigah-e-Galat Andaz Hai Bas!

If you wish to nourish your heart
You need only the stray look of a man of faith.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: