(Zarb-e-Kaleem-195) (وہی جوان ہے قبیلے کی آنکہ کا تارا) Wohi Jawan Hai Qabile Ki Ankh Ka Tara

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری

اگر ہو جنگ تو شیران غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزال تاتاری

غاب: جنگل۔
رعنا: دل کو موہ لینے والا خوبصورت ۔

عجب نہیں ہے اگر اس کا سوز ہے ہمہ سوز
کہ نیستاں کے لیے بس ہے ایک چنگاری

نیستاں: سرکنڈوں کا جنگل۔

خدا نے اس کو دیا ہے شکوہ سلطانی
کہ اس کے فقر میں ہے حیدری و کراری

کرار: بار بار حملہ کرنے والا۔

نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو
یہ بے کلاہ ہے سرمایہ کلہ داری


اس نظم میں اقبال نے محراب گل کی زبان سے مسلمان نوجوان کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ یعنی اقبال اپنی قوم کے نوجوانوں میں ان صفات کے خواہشمند تھے۔

(١) محراب گل کہتا ہے کہ اسلامی زاویہ نگاہ سے وہی مسلمان نوجوان ملت اسلامیہ کے لیے باعث فخر ہوسکتا ہے، جو جوانی میں پاکبازی اختیار کرے، اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تیار ہے، حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کی نظر میں جوانی کی عبادت سب سے زیادہ محبوب ہے.

الغرض اسلامی زاویہ نگاہ سے اس جوان کی زندگی قابل شک ہے، جو پارسا ہو باکردار اور بااخلاق ہو، مجاہد ہو، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق اور اسلامی تعلیمات کا عامل ہو۔

(٢) اگر میدان جنگ میں جائے تو کچہای (خاب) کے شیر کی طرح حملہ کرے اور دشمنوں کی صفیں الٹ دے اور اگر دوستوں سے ملے تو ایسا دلکش اور مہربان ہو، جیسے تاتاری خوبصورت ہرن۔

(٣) اس کے دل میں، عشق الٰہی کی ایسی آگ روشن ہو کہ باطل کی تمام کائنات کو پھونک کر رکھ دے، اور اگر وہ ایسا کر دکھائے تو اس میں تعجب ہی کیا ہے؟ جس طرح آگ کی ایک چنگاری سارے جنگل کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے. اسی طرح ایک مرد مومن، سارے لشکر کفر کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

(۴) چونکہ مرد مومن کے فقر میں، حیدری اور کراری کی شان ہوتی ہے اسی لیے دنیا میں اسے وہی وبدبہ حاصل ہوتا ہے، جو بادشاہوں کو حاصل ہوتا ہے۔

(ا) حیدری کے دو معنی ہیں: (١) منسوب بہ حیدر. (٢)ہیبت شیر،

(ب)کراری کے معنیٰ ہیں، بار بار حملہ کرنے کی شان۔

(۵) اقبال اہل دنیا سے خطاب کرتے ہیں، کہ اگر مومن کے پاس ظاہری سازوسامان نظر نہ آئے تو اسے ذلت کی نگاہ سے مت دیکھو اسکے جوہری ذاتی پر نظر کرو. اور اس حقیقت کو سمجھو کہ اگرچہ اس کے پاس مال و دولت نہیں ہے۔ لیکن اس کی پرہیزگاری، ایمانداری، علم و حکمت، شجاعت اور جذبہ ایثار و جدوجہد کی بدولت قوم کو سردای نصیب ہو سکتی ہے۔

جس وقت عرب کے نوجوان اپنے وطن کی حدود سے باہر نکلتے تھے، تو ان کے پاس مادی اسباب اور ظاہری سامان کچھ بھی نہ تھا لیکن جوہر ذاتی کی بدولت انہوں نے اپنی قوم کو دنیا میں سربلند کردیا۔

اقبال نے نظم کے علاوہ اپنے بیانات میں بھی بار بار اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ کسی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے جوہر ذاتی پر موقوف ہے اگر ان کے دل میں اپنی قوم کو سربلند کرنے کا جذبہ موجزن ہو جائے تو انقلاب رونما ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کامیابی کے لیے جن جن باتوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ صرف نوجوانوں ہی میں پائی جاسکتی ہیں. مثلاً قوت ارادی، جفاکشی، جوش، عمل، سرگرمی اور قربانی۔ کاش میری قوم کے نوجوان اقبال کے پیغام کو دل میں جگہ دیں!

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close