(Zarb-e-Kaleem-197) (لادینی و لا طینی، کس پیچ میں الجھا ہے تو) La Deeni-o-La Teeni, Kis Paich Mein Uljha Tu

لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں الجھا تو

لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں الجھا تو

دارو ہے ضعیفوں کا ‘لاغالب الا ھو’

اغالب الا ھو: اللہ کے سوائے اور کوئی غالب نہیں۔

صیاد معانی کو یورپ سے ہے نومیدی

دلکش ہے فضا، لیکن بے نافہ تمام آہو

بے نافہ تمام آہو: تمام ہرن بغیر مشک کے ہیں۔

بے اشک سحر گاہی تقویم خودی مشکل

یہ لالہ پیکانی خوشتر ہے کنار جو

تقویم: قیام، مضبوطی،

الہ پیکانی: یہاں مراد ہے خودی۔

کنار جو: ندی کے کنارے ؛ مراد ہے سحر گاہی کے آنسو،۔

صیاد ہے کافر کا، نخچیر ہے مومن کا

یہ دیر کہن یعنی بتخانہ رنگ و بو

اے شیخ، امیروں کو مسجد سے نکلوا دے

ہے ان کی نمازوں سے محراب ترش ابرو

ترش ابرو: ناراض، خفا۔

اس غزل میں اقبال نے بعض حقائق ومعارف بیان کئے ہیں. یعنی فلسفہ کو شعر کی زبان میں ادا کیا ہے.

(١) پہلے شعر میں اگرچہ مخاطب مذکور نہیں ہے لیکن قرینہ دلالت کرتا ہے کہ ترکوں سے خطاب ہے. کیونکہ اسی قوم نے مصطفی کمال کی زیر ہدایت کا حکومت ترکی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے، لادینی تہذیب اور لاطینی حروف کو اختیار کیا.

لادینی سے مراد ہے، یہ نظریہ کہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہے مصطفےٰ کمال نے اپنی کوتاہ بینی کی بدولت یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم یہ اعلان کردینگے کہ ہم بھی مسلمان ہیں، اور حکومت کا مذہب اسلام ہے. تو یورپ کی حکومتیں ہم سے ناراض ہو جائیں گی. اس لیے اس نے یہ اعلان کیا کہ ترکی ایک لادین اسٹیٹ ہے. یعنی اسلامی اصول ترک کر کے میکیاولی کا اصول اختیار کرلیا، سیاست کو مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہے.

غور سے دیکھا جائے تو یہ بات مصطفےٰ کمال کی دینی کم مائیگی پر دلالت کرتی ہے. اس لیے کہ اسلام ہیں سیاست اور مذہب جدا نہیں ہیں. علاوہ بریں، انگلستان کا بادشاہ تو محافظ دین عیسوی کے لقب پر فخر کرتا ہے پس اگر مصطفےٰ کمال بھی یہ اعلان کر دیتا کہ میں محافظ دین اسلام ہوں، تو کوئی حرج نہ تھا لیکن وہ یورپین تہذیب سے اس درجہ مرعوب ہو گیا کہ اس نے لادینی کے علاوہ لاطینی حروف تہجی بھی قبول کر لیے.

………سے پہلے ترکی زبان کا رسم الحظ ترکی یا فارسی تھا لیکن تجدد کے شوق میں مصطفےٰ کمال نے اپنی زبان کا رسم الحظ بھی بدل دیا. اور اب ترکی زبان لاطینی حروف میں لکھی جاتی ہے.

چونکہ علامہ کا دل مصطفےٰ کمال کی اس غیر اسلامی روش سے بہت ملعول ہو گیا تھا، اس لیے انہوں نے اپنے رنج و غم کا اظہار اس طرح کیا کہ اے نادان ترک تو بڑی حماقت میں مبتلا ہوگیا ہے. اے بیوقوف! کیا تو سمجھتا ہے کہ حکومت کو دینی بناکر اور حروف اختیار کر کے، تو طاقتور قوموں کی صف میں شریک ہو سکے گا؟ یاد رکھ! تیرے ضعف کا علاج،یہ نہیں کہ تو یورپ کی کورانہ تقلید کرے، بلکہ تجھے لازم ہے کہ اپنے عقائد درست کرے دنیا میں طاقت حاصل کرنے کے لیے تجھے اس عقیدہ کو ذہین نشین کرنا چاہیے کہ…………. یعنی اللہ کے علاوہ اور کوئی طاقت مجھ پر غالب نہیں آسکتی. واضح ہوکہ……….. ترکیب قرآن حکیم کی اس آیت سے ماخوذ ہے……….. یعنی اللہ نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ میں اور میرے رسول بلاشبہ غالب رہیں گے.

(٢) صیاد معانی سے مراد ہے وہ شخص جو حقیقت یا روحانیت کا طالب ہو فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ یورپ کی تہذیب سے روحانیت یا پاکیزگی اخلاق کا درس لے. تو وہ یقیناً اس کوشش میں ناکام رہے گا. کیونکہ یورپ میں یہ جنس بالکل ناپید ہے. یورپین تہذیب تو مادہ پرستی پر مبنی ہے اگرچہ یہاں کی فضاء بھی دلکش ہے، اور آہو بھی موجود ہیں، نافہ جس پر آہو کی قدروقیمت کا انحصار ہے، ناپید ہے. یعنی یورپ میں متمدن سوسائٹی فضا بھی ہے. اور درسگاہیں اور اساتذہ بھی ہیں. مگر ان کے اندر روحانیت اور اخلاق حسنہ کا مطلق وجود نہیں ہے.

(٣) اشک سحر آگاہی کے بغیر، خودی کی تقویم یعنی تربیت اور اس کا استحکام ناممکن ہے. واضح ہوکہ اقبال نے اس مصرع میں لفظ مشکل ناممکن کے معنی میں استعمال کیا ہے.

خودی کو لالہ پیکانی سے تشبیہہ دے کر اس نکتہ کو واضح کیا ہے کہ جس طرح آب جو نہر کا پانی لالہ پیکانی کی شگفتگی کے لیے ضروری ہے. اسی طرح اشک سحر گاہی خودی کی نشوونما اور اس کے ارتقا کے لیے شرط اولین ہے. لالہ پیکانی میں لفظ پیکانی لالہ کی صفت ہے. یعنی جب تک لالہ، غخچہ کی حالت میں رہتا ہے، اس کی شکل پیکاں نوک تیر سے ملتی جلتی ہے. گویا اس لفظ سے لالہ کی تصویر کھینچ دی ہے.

واضح ہوکہ اقبال کے فلسفہ میں اشک سحرگاہی یا آہ سحرگاہی کو بڑی اہمیت حاصل ہے. شاید ناظرین متعجب ہوں کہ فلسفہ جیسے خشک موضوع کو اشک سحر گاہی سے کیا رابطہ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں یہاں لفظ فلسفہ کو نظام افکار، کے معنوں میں، استعمال نہیں کیا ہے. بیشک فلسفہ کے اصطلاحی معنیٰ میں اشک اور آہ کی گنجائش نہیں ہے. لیکن اقبال کی تصانیف میں ہمیں دونوں قسم کا فلسفہ مل سکتا ہے.

(ا) فلسفہ مبعنی مجرد غوروفکر جو الٰہیات یا امور عامہ میں کیا جائے. اس اعتبار سے اقبال کا فلسفہ، ان کی انگریزی کتاب فکر اسلامی کی تشکیل جدید میں مل سکتا ہے اور اس میں اشک سحرگاہی کا تذکرہ نہیں ہے.

(ب) فلسفہ مبعنی دین اسلام کے حقائق ومعارف کی تشریح اس اعتبار سے اقبال نے اپنا فلسفہ، اسرار خودی اور رموز بیخودی مدون کیا ہے اس امتیاز کو میں نے اس لیے واضح کردیا ہے کہ اقبال محض اصطلاحی معنوں میں فلسفی نہیں ہیں، وہ دین اسلام کے وکیل اور شارح بھی تو ہیں، اور مسلمانوں کی نگاہ میں جو کچھ قدر و قیمت ہے، وہ اسی حیثیت سے ہے.

اس تمہید کے بعد اب مقصود کی طرف واپس آتا ہوں، اقبال نے جیسا کہ سب جانتے ہیں، خودی کا فلسفہ پیش کیا ہے. یہ خودی کا فلسفہ دراصل اصطلاحی معنی میں فلسفہ نہیں جیسا ڈیکارٹ یا ہیوم، کانٹ یا ہیگل کا فلسفہ بلکہ اسلامی شریعت، اور شریعت کے باطن یا مغز یعنی طریقت کی بیسویں صدی میں، فلسفیانہ انداز میں توجیہہ ہے. چنانچہ مثنوی پس چہ باید کرو مطالعہ کرنے سے میرے دعوے کی صداقت واضح ہو سکتی ہے. مثلاً صرف ایک شعر نقل کئے دیتا ہوں.

پس طریقت چیست اے والا صفات

شرع رادیدن بہ اعماق حیات!

خودی کا فلسفہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ اگر مسلمان، شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کامل کر لے، تو اس کے اندر شان فقر پیدا ہو جاتی ہے. اور یہی شان فقر، خودی کی معراج، یا اس کی تکمیل ہے.

اب اتباع، عشق کے بغیر ناممکن ہے. اور عاشق کے لیے اشک سحرگاہی یا آہ سحرگاہی بمنزلہ وظیفہ حیات ہے، بلکہ منطقی اصطلاح میں عشق اور آہ لازم وملزوم ہیں. یہ ناممکن ہے کہ عاشق، محبوب کو یاد کرے اور اس کی آنکھ اشک آلودہ نہ ہو جائے چنانچہ ایک شعر لکھتا ہے.

ہے ورد اپنا سحر کو نالہ وفریاد کرلینا

بہر صورت، کسی پردہ میں تجھ کو یاد کرلینا

اقبال کا فلسفہ، مکرر لکھتا ہوں، عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے. اور یہ ناممکن ہے کہ عشق تو ہو لیکن اشک نہ ہو. اسی لیے تو انہوں نے یہ کہا

بے اشک سحرگاہی، تقویم خودی مشکل

اقبال کی رائے میں، کافر کی خود ہی نہیں. ہاں اگر وہ سرور کائنات سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تو اس کی خودی کی تربیت کے لائق ہو سکتی ہے.

غرض عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اختیار کرنے سے خودی مرتبہ کمال کو پہنچ گئی اور عشق کا ثبوت، اشک اور آہ ہی کے ذریعہ سے دیا جاتا ہے مسلمان کے لیے تو عاشقی شرط اسلام ہے. جو شخص مسلمان ہونے کا مدعی ہو. اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سلم کے عشق میں بیخود نہ ہو، اقبال کی نظر میں وہ شخص مسلمان نہیں.

طبع مسلم از محبت قاہراست!! 

مسلم آر عاشق نباشد کا فراست

اسی نقطہ کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے.

بس اتنی سی حقیقت ہے ہمارے دین وایمان کی

کہ اس جان جہاں کا آدمی دیوانہ ہو جائے.

اگر اس اشک سحرگاہی کی پوری وضاحت کرو تو ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے. اسی لیے اقبال ہی کے ایک شعر پر اس بحث کو ختم کرتا ہوں

عطاء ہو، رومی ہو، رازمی ہو، غزالی ہو! 

کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہ سحرگاہی!

(۴) یہ دنیا، یہ پرانا بت خانہ,جہاں رنگ وبو کے ہزاروں لاکھوں بت رکھے ہوئے ہیں، اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ کافر تو اس طلسم میں پھنس جاتا ہے، یعنی بتوں کے تیر مثرگاں کا شکار ہوجاتا ہے. لیکن مومن اس طلسم کو توڑ دیتا ہے. بالفاظ دیگر، اس بت خانہ میں جتنے بت ہیں سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں.

اقبال نے دنیا کو ہر جگہ طلسم رنگ وبو سے تعبیر کیا ہے، یعنی وہ دنیا جو حواس خمسہ سے محسوس ہوتی ہے. طلسم اور بت خانہ کے الفاظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دنیا اور اس کی دلفریبی کی کوئی حقیقت نہیں ہے مومن کا فرض ان بتوں کو پاش پاش کرنا ہے، نہ کہ ان سے دل لگانا اقبال کا یہ تصور قرآن حکیم کی اس آیت سے ماخوذ ہے…………. اور دنیا کی زندگی کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ یہ دھوکہ کی پونجی ہے. دیکھو تو ہےغور کرو تو کچھ بھی نہیں.

(۵) بلاشبہ اقبال نے یہ شعر لکھ کر بڑی اخلاقی جرات کا ثبوت دیا ہے امیروں سے اشارہ ان زمینداروں، جاگیرداروں، دولت مندوں، اور سرمایہ داروں کی طرف ہے جو.

(ا) غریب کاشتکاروں کا خون چوس چوس کر اپنی تجوریاں لبریز کرتے ہیں، اور اس مال حرام سے حکام کو رشوت دے کر، بڑے بڑے کارخانے الاٹ کراتے ہیں. اس کے علاوہ بلیک مارکیٹ اور ذخیرہ اندوزی سے لاکھوں روپیہ سالانہ کماتے ہیں.

(ب) سال میں ایک دو مرتبہ عید یا بقر عید کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آتے ہیں. توخانہ خدا میں بھی مختلف صورتوں سے اپنی فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہیں. ان کے قلوب انسانی ہمدردی کے جذبات سے بالکل معرا ہوتے ہیں. اسلامی زاویہ نگاہ اور بہائم میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور چونکہ ان کی نمازیں، محض ریاکاری یا دنیا کے حصول کے لیے ہوتی ہیں، اس لیے ان سے مسجد کو سخت روحانی تکلیف پہنچتی ہے، بلکہ ان کے سجدے، اس مقدس زمین کی بے حرمتی کا سبب ہیں. 

اندریں حالات اقبال کا احتجاج بالکل درست ہے کہ اے شیخ! ان زر پرستوں کو مسجد سے نکالوادے. یہ تو دولت کے بچاری ہیں، ان کا اللہ کے گھر میں کیا کام؟ یہ تو سرمایہ دار ہیں. ان کو اسلام سے کیا علاقہ.

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close