(Zarb-e-Kaleem-198) (مجھ کو تو یہ دنیا نظر اتی ہے دگرگوں) Mujh Ko To Ye Duniya Nazar Ati Hai Digargoon

مجھ کو تو یہ دنیا نظر آتی ہے دگرگوں

مجھ کو تو یہ دنیا نظر آتی ہے دگرگوں

معلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیا

ہر سینے میں اک صبح قیامت ہے نمودار

افکار جوانوں کے ہوئے زیر و زبر کیا

کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی

اے پیر حرم تیری مناجات سحر کیا

ممکن نہیں تخلیق خودی خانقہوں سے

اس شعلہ نم خوردہ سے ٹوٹے گا شرر کیا

شعلہ نم خوردہ: ایسی لکڑی کا جلنا جو گیلی ہو۔

اس نظم میں اقبال نے قوم سے خطاب کیا ہے. اور ایک اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے. جو یہ ہے کہ یوں تو مسلمان، مراقش سے لیکر چین تک موجود ہیں. لیکن اس وقت دنیا کی طاقتور قوموں کی صف میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے. کیونکہ وہ آزاد نہیں ہیں. بلکہ کسی نہ کسی قسم کی غلامی میں مبتلا ہیں. مثال کے طور پر یوں سمجھو کہ

(ا) بعض ممالک کے مسلمان، سیاسی غلامی میں گرفتار ہیں. مثلاً ہندوستان کے مسلمان

(ب) بعض ممالک، بلکہ اکثر ممالک کے مسلمان اقتصادی غلامی میں مبتلا ہیں مثلاً پاکستان کے مسلمان.

(ج) تمام ممالک کے مسلمان، ذہنی غلامی میں مبتلا ہیں. مثلاً افغانستان کے مسلمان.

اور یہ یقینی بات ہے کہ جب تک وہ غلامی کی ان اقسام سہ گانہ میں گرفتار ہیں، آزاد قوموں کی صف میں ان کو ہرگز جگہ نہیں مل سکتی.

(١) اے مسلمان! مجھے یہ علم نہیں کہ تو حالات حاضرہ یعنی عصرحاضر کے تقاضوں سے باخبر ہے یا نہیں، لیکن میں اپنی جگہ پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ اس وقت ساری دنیا ایک انقلابی دور سے گزر رہی ہے، اور ہر طرف ایک ہنگامہ بپا ہے.

(٢) اس وقت ہر ملک قیامت کا نمونہ پیش کر رہا ہے. اور ہر شخص مضطرب ہے. ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غوروفکر کے سانچے، اور پرانے طور طریقے بالکل بدل رہے ہیں. اور دنیا کے نوجوان پرانے نظام کی جگہ، نیا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں.

(٣) اندریں حالات جب میں اپنی قوم کی طرف نظر آتا ہوں تو ہر ملک میں جمود وخمود کا نقشہ نظر آتا ہے. مسلمان آنیوالے انقلاب کے لیے کسی قسم کی تیاری میں مصروف نہیں ہیں.

دنیا کی قومیں نت نئے سازوسامان جنگ ایجاد کر رہی ہیں اور کامیابی کے لیے مادی وسائل جمع کر رہی ہیں، لیکن مسلمان قوم صرف مناجات سحر پر اکتفا کئے بیٹھی ہے. اس لیے اقبال پیر حرم سے دریافت کرتے ہیں کہ جنگ کی تیاری کے بغیر، کیا صرف دعاؤں اور مناجاتوں اسے کام چل سکتا ہے؟ زندگی کامیاب اور سربلند زندگی بسر کرنے کے لیے معرکہ آرائی، شرط ہے چونکہ تنازع للقباء قانون حیات ہے. اس لیے جو قوم اپنی بقاء کے لیے جدوجہد نہیں کرتی، وہ کسی طرح باقی رہ سکتی ہے؟ لہٰذا بے معرکہ زندگی، یعنی بے عملی کی زندگی تلافی مناجات سحر سے کسی طرح نہیں ہوسکتی. مناجات بھی ضروری ہے، لیکن اس سے پہلے میدان جنگ کی تیاری ضروری ہے.

(۴) حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ مسلمان دن رات، جہاد کی تیاری میں مصروف رہیں. لیکن ان کی کیفیت یہ ہے کہ وہ ابھی تک خانقاہی زندگی بسر کر رہے ہیں.

اب جب ہم خانقاہی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت صاف واضح ہوجاتی ہے کہ اس زندگی سے خودی کی تربیت اور تکمیل نہیں ہو سکتی. بیشک کسی زمانہ میں ہماری خانقاہ ہیں، مسلمانوں میں جہاد کا جذبہ پیدا کیا کرتی تھیں یعنی ان میں خودی کی تخلیق ہوا کرتی تھی. لیکن موجودہ زمانہ میں ہماری خانقاہیں محض بے عمل انسانوں کےاجتماعوں میں تبدیل ہوگئی ہیں.

آج کل عموماً حالت یہ ہے کہ ان خانقاہوں کے شیوخ، مسلمانوں کو کفار کے خلاف صف آراء کرنے کے بجائے، ان کی غلامی اختیار کرنے کا درس دے رہے ہیں. اور جہاد کا جذبہ پیدا کرنے کی جگہ، ترک دنیا اور گوشہ نشینی کی تلقین کر رہے ہیں. جس طرح شعلہء نم خوردہ سے آگ نہیں نکل سکتی. اسی طرح ان خانقاہوں سے مجاہد تیار ہو کر نہیں نکل سکتے.

علاوہ بریں موجودہ زمانہ میں، یہ خانقاہیں، حریت کا درس دینے کے بجائے مسلمانوں کو ذہنی غلامی میں مبتلا کر رہے ہیں. اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اگر کوئی قوم ذہنی غلامی میں مبتلا ہو جائے تو وہ سیاسی آزادی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی.

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہمارے سامنے موجود ہے. آپ نے آپ سب سے پہلے عربوں کو ذہنی غلامی سے نجات عطا فرمائی. اس کے بعد انہیں خود بخود سیاسی آزادی حاصل ہوگئی.

پس اگر مسلمان، دنیا میں دوبارہ سر بلند ہونا چاہتے ہیں تو انہیں خانقاہی زندگی کو بکلی ترک کر کے، مجاہدانہ زندگی اختیار کرنی چاہیئے. یعنی مزاج خانقاہی کے بجائے، اپنے اندر مزاج اسداللہ پیدا کرنا چاہیئے.

 

(13)

Mujh Ko To Ye Dunya Nazar Ati Hai Digargoon
Maloom Nahin Dekhti Hai Teri Nazar Kya

To me this world appears topsy‐turvy;
I don’t know what you feel about it.

Har Seene Mein Ek Subah-e-Qayamat Hai Namoodar
Afkar Jawanon Ke Huwe Zair-o-Zabar Kya

Every heart is experiencing a Resurrection,
Nothing strange if the young are feeling confused.

Kar Sakti Hai Be Maarka Jeene Ki Talaafi
Ae Peer-e-Haram Teri Manajaat-e-Sehar Kya

Old man of the harem, your morning prayers
Can hardly bring the dead to life without bold exploits.

Mumkin Nahin Takhleeq-e-Khudi Khanqahon Se
Iss Shaola-e-Nam Khorda Se Toote Ga Sharar Kya !

These monasteries can’t help in the development of the khudi,
No spark can fall from half‐choked flames.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: