(Zarb-e-Kaleem-199) (بے جرات رندانہ ہر عشق ہے روباہی) Be Jura’at-e-Rindana Har Ishq Hai Robahi

بے جرات رندانہ ہر عشق ہے روباہی

بے جرات رندانہ ہر عشق ہے روباہی

بازو ہے قوی جس کا، وہ عشق یداللہی

یداللہی: اللہ کا ہاتھ ؛ مراد ہے ایسا عشق جس میں مومن کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ بن جاتا ہے۔

جو سختی منزل کو سامان سفر سمجھے

اے وائے تن آسانی ! ناپید ہے وہ راہی

وحشت نہ سمجھ اس کو اے مردک میدانی!

کہسار کی خلوت ہے تعلیم خود آگاہی

دنیا ہے روایاتی، عقبی ہے مناجاتی

در باز دو عالم را، این است شہنشاہی!

در باز دو عالم را: دونوں دنیاؤں کو چھوڑ دے۔

این است: یہ ہے۔

اس دلپذیر غزل میں، اقبال نے بعض حقائق ومعارف بیان کئے ہیں. فرماتے ہیں کہ

(١) جس عشق میں جزات رندانہ موجود نہ ہو، وہ دوبارہ صفت یعنی عیار اور مکار، خود غرض، نفس پرست لوگوں کا عشق ہے. بالفاظ دگر وہ عشق نہیں بلکہ ہوس ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان اسلام کے ادعا کے باوجود، میدان جنگ یا جہاد فی سبیل اللہ سے جی چراتا ہے، تو وہ مسلمان یا عاشق نہیں، بلکہ لومڑی کی طرح عیار اور مکار ہے. اگر سر کٹانے کی ہمت اور خون میں نہانے کا حوصلہ نہیں ہے تو ادعائے عشق خالص فریب نفس ہے.

اس کے برعکس اگر ایک مسلمان، میدان جہاد میں، سرد سینہ پر، پے در پے زخم کھانے کے باوجود، اپنی شمشیر کے جوہر دکھاتا رہے اور جب تک آخری سانس باقی رہے، وار کرنے سے باز نہ آئے تو سمجھو کہ وہ سچا عاشق ہے اس کا عشق یداللہ ہے.

اس کی مثال انقلاب………. میں بہت سے مسلمانوں نے دنیا کے سامنے پیش کی، میں معرکہ بریلی سے ایک نوجوان کی مثال پیش کرتا ہوں.

………………. 

کو انگریزوں کی فوجیں لکھنؤ فتح کرنے کے بعد بریلی پہنچیں. مسلمانوں نے شہر سے چار میل آگے بڑھ کر ان کا مقابلہ کیا. اس فوج میں ١٣٣ غازی بھی تھے، جو بلامبالغہ سر سے کفن باندھ کر نکلے تھے. انگریزی فوجی فوج کے ایک سارجنٹ میجر نے اپنی کتاب……… کے معراکوں کی یادواشت میں غازیوں کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی ہے.

خان بہادر خاں کی فوج میں غازیوں کی ایک جماعت بھی تھی مسلمان سب شہادت کے نشہ میں چور تھے. ان کی داڑھیاں تقریباً بالکل سفید تھیں انگلی میں چاندی کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھے، جس کے نگینہ پر لفظ اللہ کندہ تھا ہر غازی کی کمر میں سبز رنگ کا ٹپکا باندھا ہوا تھا، وہ روئی کی صدری پہنے ہوئے تھے، اور سر پر سفید پگڑیاں باندھے ہوئے تھے, جن پر سرخی کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے. ان کے ہاتھ میں تلوار تھی. وہ پشت پر ڈھال. دین کا نعرہ لگا کر ہمارے سامنے آئے. اور حملہ آور ہونے سے پہلے ان کا سردار جو ایک بیس سال کا بے ریش وبروت نوجوان تھا، جس کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا. صف سے آگے بڑھ کر ہم سے یوں مخاطب ہوا.

کیا تم کافروں میں کوئی شخص ایسا حوصلہ مند ہے جو میرا مقابلہ کرسکتا ہے اگر ہے تو سامنے آئے!

اس کی آواز سے ہماری صفوں میں سناٹا چھا گیا کوئی نوجوان آگے نہیں بڑھا ایک منٹ انتظار کے بعد اس نے پھر چیلنج دیا اور کہا میں پانچ آدمی سے تنہا مقابلہ کر سکتا ہوں. لیکن پھر بھی کوئی حرکت نہ ہوئی. آخر جھنجھلا کر اس نے تلوار نیام سے باہر نکالی، اور ہماری صفوں پر حملہ آور ہوا. اس نے اس شدت سے حملہ کیا چشم زدن میں آٹھارہ سپاہیوں کو زخمی کر کے ڈال دیا. اس کی بینظیر شجاعت سے کمانڈنگ افسر اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے حکم دیا کہ اس نوجوان کو زندہ گرفتار کیا جائے لیکن اس نے کہا کہ تم شیر کو زندہ گرفتار نہیں کرسکتے. چنانچہ زخمی ہوجانے کے باوجود, جبکہ اس کے جسم کے ہر عضو سے خون کے فوارے نکل رہے تھے. اس نے دوبارہ اسی شدت کے ساتھ حملہ کیا. جب کمانڈنگ افسر نے یہ حال دیکھا کہ اگر اس کو قتل نہ کیا گیا. تو شاید ساری کمپنی سو آدمی کی ایک کمپنی کا صفایا کردے گا. اور اس نے حکم دیا سنگینوں سے خاتمہ کردو یہ حکم سن کر سپاہیوں نے اسے نرغہ ہیں لیکر اپنی سنگینیں بیک وقت اسے سینہ میں پیوست کر دیں. لیکن جب تک اس کی روح جسم میں باقی رہی وہ برابر اپنی تلوار کے جوہر دکھاتا رہا. اس کا ہاتھ اس وقت ساکن ہوا جب اس کی روح پرواز نہ کر گئی.

نوٹ=

میں نے یہ کتاب……… میں ریاست منگردل کاٹھیاواڑ کے سرکاری کتب خانہ میں دیکھی تھی. اس کا مصنف گھاگر پلٹن میں جو لکھنؤ اور بریلی کے معرکوں میں شریک ہوئی تھی، سارجنٹ میجر تھا، اور اس نے اپنی کتاب میں سارے اوقعات چشم دید ہی قلمبند کئے ہیں. میں نے اس کتاب کا خلاصہ اردو میں قلمبند کرلیا ہے. شاید کسی وقت کام آجائے. 

میرا مقصد اس واقعہ کو نقل کرنے سے داستان سرائی نہیں ہے. بلکہ یہ دکھانا ہے کہ…….. تک یعنی آج سے سو سال پہلے تک مسلمان نوجوانوں کی حالت یہ تھی کہ ایک نوجوان تنہا، ساری فوج کو چیلنج کر سکتا تھا، لیکن آج یہ حالت ہے کہ پوری قوم، ایک انگریز کو بھی چیلنج نہیں کر سکتی. اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قوم کے سامنے کوئی نصب العین نہیں. اقبال یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان نوجوان پھر اپنے اندر یہی جذبہ جہاد پیدا کریں. اور اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیں کہ بازو میں یہ طاقت صرف اس عشق سے آسکتی ہے، جو یداللہ کی قسم کا ہو. عشق کی دو قسمیں ہیں. روباہی اور یداللہ، روباہی ٹائپ کا عشق، عاشق کو بزدل اور مکار بناتا ہے. بظاہر اس قسم کے عاشق کے طور طریقے بالکل سچے عاشقوں سے ہوتے ہیں. لیکن اس میں جرات رندانہ نہیں ہوتی. اور جب جرات نہیں تو کچھ بھی نہیں، جو عشق، عاشق اور سرفروشی پر آمادہ نہیں کر سکتا وہ عشق نہیں ہوس ہے.

اس کے برعکس یداللہ قسم کا عشق کو جری بناتا ہے. اور ایسا عاشق، خاک اور خون میں تڑپنے کو مقصود حیات سمجھتا ہے. اللہ کی راہ میں سر کٹانا تو مسلمان کی معراج ہے.

سرکشتہ، برنیزہ می زدنفس

کہ معراج مرداں ہمیں است وبس

یداللہ، کی ترکیب، یداللہ سے ماخوذ ہے. یداللہ کے معنی ہیں. اللہ کا ہاتھ یعنی عاشق صادق کا ہاتھ، دراصل اللہ کا ہاتھ ہو جاتا ہے. اسی لیے تو اس میں بے پناہ طاقت آجاتی ہے. مثلا جنگ موتہ میں حضرت خالد جانباز کے ہاتھ میں پے درپے نو تلوار ٹوٹ گئی تھیں، لیکن بازو میں کسی قسم کا ضعف پیدا نہیں ہوا تھا.

الغرض سچا عشق، جرات رندانہ پیدا کردیتا ہے. اسی بات کو اقبال یوں بیان کیا ہے.

میری میں فقیری میں، شاہی میں غلامی میں

کچھ کام نہیں بنتا، بے جرات رندانہ

(٢) عاشق صادق، یا مرد مومن وہ ہے جو راستہ کی سختیوں کو سامان سفر سمجھے یعنی یہ یقین رکھے کہ عشق میں دشواریاں ضرور آئیں گی، اس لیے ان کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرے. لیکن افسوس کہ آجکل مسلمان اس قدر تن آسان اور عیش پسند ہوگئے ہیں کہ اس قسم کے مسافر بالکل ناپید ہوگئے ہیں. کیا خواب کہا ہے اکبر الہ آبادی نے.

خدا کی راہ میں دشواریاں سہتے تھے ہم پہلے

کلب میں بیٹھ کر اب عشق قومی میں تڑپتے ہیں.

(٣) اے کالج کے نادان نوجوان! میں جو تجھ کو، صحرا میں خلوت اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں، اسے وحشت پر محمول مت کر. یاد رکھ کہسار کی خلوت سے انسان اپنی خودی کی مخفی طاقتوں پر وقوف حاصل کرتا ہے. اور یہ خلوت ،خودی کی تربیت کے سلسلہ میں پہلی اور لازمی منزل ہے.

چناچہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت بآسانی واضح ہو سکتی ہے. کہ دنیا کی اصلاح کا، کام شروع کرنے سے پہلے اپنے کہسار میں جیسے غارحرا کہتے ہیں، خلوت اختیار فرمائی تھی. اور اسی لیے جس قدر نامور بزرگان دین گزرے ہیں، سب نے خلوت کو اپنی پاکیزہ زندگی کے پروگرام میں نمایاں جگہ عطا کی تھی.

الحق، کہسار میں خلوت گزینی، خود آگاہی کے لیے اشد ضروری ہے. یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کل ہماری قوم، خود آگاہی کی نعمت اور لذت سے یکسر محروم ہے. اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تو ہے کہ زندگی میں خلوت مفقود ہے. نوجوانوں کی زندگی سرتاپا لڑکے ہوں یا لڑکیاں کالج، بورڈنگ، اسٹیج، اوپن، ائیرتھیٹر، محافل رقص وسرود، فینسی ڈریس اجتماع، کاک ٹیل پارٹی، ساحل، بحر، ہوٹل، سینما، ریڈیو، کے جمگھٹوں سے عبارت ہے. اور ہر عقلمند آدمی جانتا ہے کہ ان اجتماعات کا نتیجہ خود فراموشی ہے، نہ کہ خود آگاہی. لیکن میں اس حقیقت کے اعلان سے باز نہیں رہ سکتا کہ اس خرابی کے ذمہ دار ہمارے نوجوان نہیں ہیں، بلکہ ان کے والدین ہیں جو ان کو تعلیم کے تیزاب میں ڈال کر، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سے بیگانہ بنا دیتے ہیں.

(۴) اس شعر میں اقبال نے اسلامی تصوف بلند ترین نکتہ بیان کیا ہے. یعنی مومن کی زندگی کی تصویر کھینچ کر رکھ دی ہے. وہ مومن جو خالصتہ اللہ کی خوشنودی کا طالب ہو، یعنی اس کا مقصود حیات، استرضاء باری تعالیٰ کے علاوہ اور کچھ نہ ہو، واضح ہوکہ تسلیم ورضا مومنانہ زندگی کی معراج ہے، اس سے اونچا اور کوئی مقام نہیں ہے. یہ وہ مقام ہے، جہاں اللہ خود مومن سے راضی ہو جاتا ہے. اور جس سے اللہ راضی ہو جائے تو ساری کائنات اس کی غلام ہو جاتی ہے یہ مقام رضا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اتباع سے حاصل ہوتا ہے اور اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اسلامی تصوف ہے.

واضع ہو کہ عشق کی طرح تصوف کی بھی دو قسمیں ہیں. ایک نقلی یا غیر اسلامی تصوف جو انسان کو عمل صالح سے بیگانہ بنا دیتا ہے اور آج کل ہماری خانقاہوں میں اسی قسم کا تصوف رانج ہے دوسرا اصلی یا اسلامی تصوف، جو انسان کو مجاہد بنا دیتا ہے. اور اس اعتبار سے سارے صحابہ کرام تصوف میں رنگے ہوئے تھے.

میں پھر کہتا ہوں کہ اسلامی تصوف، مسلمان کو مجاہد بنا دیتا ہے اس لیے سارے صحابہ کرام مجاہد بن گئے تھے. افسوس کہ یہ تصوف آج کل تقریباً ناپید ہوچکا ہے. اقبال خود کہتے ہیں.

خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورگن

واضح ہو کہ قرآن مجید کی تعلیمات کی رو سے انسان کا مقصد حیات یہ ہے کہ وہ ایسی زندگی بسر کرے کہ اللہ اس سے راضی ہوجائے اور جب اللہ اپنے بندے سے راضی ہو جاتا ہے، تو وہ اس پر اس قدر انعامات کی بارش کر تا ہے.

کہ بندہ اللہ سے راضی ہو جاتا ہے. اور جب دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں، تو اسلامی تصوف کی اصطلاح میں اسے مقام رضایا مرتبہ اتحاد کہتے ہیں یہ اتحاد غیر اسلامی نہیں، یعنی اس اتحاد سے یہ مراد نہیں جیسا کہ غیر اسلامی تصوف میں ہے کہ اللہ اور بندہ دونوں متحد الوجود ہوجاتے ہیں یا بندہ اپنی انفرادیت، اللہ کی ذات میں غرق کر دیتا ہے. یا قطرہ سمندر میں مل کر اپنی ہستی کھو دیتا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی جگہ قائم رہتے ہیں. بندہ، بندہ ہی رہتا ہے، خواہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرے، اور اللہ، اللہ ہی رہتا ہے، خواہ کتنا ہی تنزل کیوں نہ کرے؟ یعنی نہ ان کی ماہیت بدل سکتی ہے نہ دونوں متحد الوجود ہوسکتے ہیں. اللہ خالق ہے، بندہ مخلوق ہے. یہ امتیاز بہرحال باقی رہتا ہے. اتحاد تو ہے، مگر جسمانی نہیں. وصال تو ہے مگر مادی نہیں. 

اب پاک کلام سے ایک آیت نقل کرتا ہوں.

………… تو نہ پائے گا کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ

…………. پر، اور آخرت پر، کہ دوستی کریں، ایسوں سے جو

………… ‏ مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے، 

…………. ‏خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا رشتہ دار

…………. ہی ‏کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں

………… اللہ نے ایمان لکھ دیا، یعنی پتھر پر لکیر کی طرح

………… ‏ نقش کردیا. مٹائے نہیں مٹ سکتا اور ان کی

……….. مدد کی اپنے روحانی فیض سے اور بعد وفات، 

………… ‏اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کریگا جن کے

………. ‏ نیچے نہریں بہتی ہیں. یہ لوگ ہمیشہ ان باغوں میں

………. رہیں گے اور سب سے بڑی نعمت یہ کہ اللہ

………… ‏ ان سے راضی، اور وہ اللہ سے راضی.

میں اگر اس آیت کی تفسیر لکھنے کی کوشش کروں تو شاید ایک رسالہ مرتب ہوجائے. اس لیے اس جگہ صرف چند اشارات پر اکتفا کروگا.

(ا) مومن اپنے محبوب حقیقی اللہ کو خوش کرنے کے لیے ساری دنیا سے دشمنی مول لے لیتا ہے، بلکہ بوقت ضرورت جب کفر، اسلام کے مقابلہ میں آجائے، اپنے باپ، بیٹے، بھائی، سب کو اللہ کے لیے قربان کر سکتا ہے چنانچہ جنگ احد میں حضرت صدیق اکبر اپنے حقیقی فرزند عبد الرحمن کے مقابلہ میں میدان میں آئے اور اگر وہ ان کی زد میں آجاتے تو صدیق اکبر فرماتے ہیں کہ میں کبھی زندہ نہ چھوڑتا. حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے حقیقی بھائی عبید بن عمیر کو، حضرت فاروق اعظیم نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو، حضرت علی نے عتبہ کو حضرت سید الشہداء امیر حمزہ نے شیبہ کو، اور حضرت ابوعبیدہ نے ولید کو قتل کیا.

اس آیت سے بھی ثابت ہوگیا کہ اسلام میں قومیت کی بنیاد، مذہب پر ہے وطن یا نسل یا زبان یا رنگ پر نہیں ہے. لہذا جو لوگ ہندو اور مسلمانوں کو ایک قوم قرار دیتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں کافر اور مسلم کبھی ہرگز ایک قوم نہیں بن سکتے.

(ب) چونکہ مومن، اللہ کے لیے ساری دنیا سے جنگ مول لے لیتا ہے اور سب سے ناراض ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ اس کا یہ صلہ دیتا ہے کہ مومن سے راضی ہو جاتا ہے اور جب اللہ کسی سے راضی ہوجائے تو اس بندہ کی خوش نصیبی کا کیا ٹھکانا ہے. اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا ہے.

تعلیم مذہبی کا خلاصہ یہی تو ہے

سب مل گیا اسے، جسے اللہ مل گیا

‏(ج) جب یہ ثابت ہوگیا کہ، اصلی چیز رضا الہی ہے تو اقبال کا یہ مصرع بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے. کہ

‏ دنیا ہے روایاتی عقبیٰ ہے مناجاتی 

‏یعنی اگر دنیا مقصود ہے، تو دنیا والوں کے تقلید کرو، اور ان کے طریقوں کو اختیار کرو، اگر عقبیٰ مطلوب ہے تو نمازوں کے بعد جنت کی دعائیں مانگو. لیکن عقلمند وہ ہے جو دنیا اور عقبیٰ دونوں کے خالق اور مالک کو کسی طرح راضی کرے، یا اپنا بنا لے تو ساری کائنات میں خودبخو قبضہ میں آجائے گی. اور اسے راضی کرنے کی صورت یہ ہے کہ پہلے اس کی قضا سے راضی ہوجائے. 

‏جیسے اصطلاح میں شیوۂ تسلیم ورضا کہتے ہیں پھر وہ راضی ہو جائے گا. 

‏اس لیے اقبال کہتے ہیں کہ اگر کائنات پر حکومت کرنا چاہتے ہو تو دنیا اور عقبیٰ دونوں سے بلند تر ہو جاؤ. اصلی بادشاہت یہ ہے کہ ان دونوں سے بے نیاز ہو کر اللہ کو مقصود حیات بنا لو.

 

(14)

Be Juraat-e-Rindana Har Ishq Hai Rubahi
Bazoo Hai Qawi Jis Ka, Woh Ishq Yadullahi

Without the boldness of an outspoken man, Love is deceit and fraud;
Love that enjoys power is the hand of God.

Jo Sakhti-e-Manzil Ko Saman-e-Safar Samjhe
Ae Waye Tan Asani ! Na-Paid Hai Woh Raahi

A wayfarer for whom the difficulties of the path
Are like traveling provisions, is scarce these days.

Wehshat Na Samajh Iss Ko Ae Mard-e-Maidani !
Kuhsaar Ki Khalwat Hai Taleem-e-Khud Aagahi

O man of the plains! Don’t be surprised;
Solitude of the mountains produces sense of self‐awareness.

Dunya Hai Rawayati, Uqba Hai Manajati
Darbaz Do-Alam Ra, Aeen Ast Shehanshahi !

This world is mere story, that world is often sung about,
True kingdom is to set aside both the worlds.

Comments are closed.

Blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: