(Zarb-e-Kaleem-200) (آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد) Adam Ka Zameer Uss Ki Haqiqat Pe Hai Shahid

آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد

آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد

مشکل نہیں اے سالک رہ ! علم فقیری

فولاد کہاں رہتا ہے شمشیر کے لائق

پیدا ہو اگر اس کی طبیعت میں حریری

حریر: ریشم، مراد ہے نرمی۔

خود دار نہ ہو فقر تو ہے قہر الہی

ہو صاحب غیرت تو ہے تمہید امیری

افرنگ ز خود بے خبرت کرد وگرنہ

اے بندئہ مومن ! تو بشیری، تو نذیری

ز خود بے خبرت کرد: انگریز نے تجھے اپنے آپ سے بیگانہ کر دیا ہے۔ افرنگ

بشیری: خوشخبری سنانے والا۔

نذیری: ڈرانے والا۔

اس نظم میں اقبال نے فقر کا فلسفہ بڑے دلکش انداز سے بیان کیا ہے، اور آخر میں مسلمان کو اعتماد اعلیٰ النفس کا پیغام دیا ہے جو ان کا محبوب موضوع ہے کہتے ہیں کہ

(١) اے مسلمان! تو یہ سمجھتا ہے کہ فقیری کا علم بہت مشکل ہے لیکن تو اس غلط فہمی میں ایسے اس لیے مبتلا ہو گیا ہے خود تیرا ضمیر، اس کی حقیقت پر گواہی دے رہا ہے. یعنی فقر کی حقیقت کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے.

اس قول کی تشریح یہ ہے کہ فقیری یا فقر کی اصل بنیاد محبت ہے. اور محبت وہ جذبہ ہے، جوہر آدمی کی فطرت میں داخل ہے. اگر تو دولت فقر سے بہرہ ور ہونا چاہتا ہے، تو اس کی صورت بہت آسان ہے. تو کسی مرشد کی صحبت اختیار کر لے، وہ تیری محبت کو صحیح راستہ پر ڈال دے گا، یعنی محبوب حقیقی سے تیرا رابطہ استوار کر دے گا.

اگر آپ اپنے کمرہ کے بلب کو منور کرنا چاہتے تو کسی مستری کی خدمات حاصل کرلیتے ہیں. وہ آپ کے بلب کو بجلی کے تاروں سے مربوط کر دیتا ہے فوراً بلب منور ہوجاتا ہے. اسی طرح مرشد، قلب انسانی کو، جو محبت کا مرکز ہے اللہ سے مربوط کر دیتا ہے. اور قلب مذکور منور ہو جاتا ہے.

اگر علم فقیری کا مفہوم، وصول الی اللہ، قرار دیا جائے، تو اس شعر کا مطلب یہ ہوگا کہ نشان فقر پیدا کرنا مشکل نہیں ہے اس کی تشریح یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے………………… اللہ کسی نفس آدمی کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، یعنی ایسی ذمہ داری اس پر عائد نہیں کرتا جس سے عہدہ برآ ہونا، اس کے لیے ممکن نہ ہو.

اس اصل کو ذہن نشین کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ جس طرح فقر کی حقیقت کا سمجھنا، کچھ مشکل نہیں ہے، اسی طرح خود اپنے اندر شان فقر پیدا کرنا بھی مشکل نہیں ہے. کیونکہ اللہ کسی ایسے کام کا حکم نہیں دیتا، جس کا کرنا طاقت بشریٰ سے باہر ہو.

لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ فقیری یعنی شان فقر پیدا کرنا جسے تصوف کی اصطلاح میں وصول الی اللہ کہتے ہیں، بہت مشکل ہے. حالانکہ یہ بات مشکل نہیں ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ محبت کی دو قسمیں ہیں ایک محبت نفسانی جو غیر اختیاری ہے اور شریعت میں اس کی کوئی قدروقیمت ہے، نہ اس سے بحث کی جاتی ہے کیونکہ شریعت امور غیر اختیاری سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی اس کی مثال یہ ہے کہ فرض کیجئے زید کے چار بیٹے ہیں، وہ سب سے چھوٹے بیٹے سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے تو یہ حب نفسانی ہے شریعت میں اس کا کوئی اعتبار نہیں، اور نہ اس پر کوئی ثواب مرتب ہوتا ہے اور نہ اس کے ترک پر کوئی مواخذہ ہوگا.

دوسری محبت، حب عقلی یا حب ایمانی ہے. اور یہ اختیاری ہے صفت عقلی کہ قید ہی اس کے اختیاری ہونے پر شہادت دے رہی ہے اس کی بنیاد اس آیت پر ہے……… یعنی مومنوں کی شناخت یہ ہے کہ انہیں اللہ سے اشد درجہ کی محبت ہوتی ہے، جس کے سامنے کسی قسم کی محبت کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی.

چونکہ یہ وہ محبت ہے جو مومن کو اللہ کے ساتھ ہوتی ہے اسلئے تصوف کی اصطلاح میں اسے حب ایمانی کہتے ہیں. یعنی وہ محبت جو ایمان کی بدولت پیدا ہوتی ہے. اور چونکہ یہ محبت سب محبوبوں کی خوبیاں پرکھنے اور جانچنے کے بعد اختیار کی جاتی ہے. اس لیے اسے حب عقلی بھی کہتے ہیں. اور چونکہ یہ محبت، غورو فکر کے بعد اختیار کی جاتی ہے، اس لیے اختیاری ہے.

مومن، پہلے اپنی عقل سے کام لیتا ہے. اور اس فیصلہ پر پہنچتا ہے کہ میری محبت کا مرجع، ذات خداوندی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیاوی محبوب تو سب فانی ہیں، اور فانی سے دل لگانا حماقت ہے.

اس حب ایمانی کامیابی کا راستہ، اللہ نے خود بتا دیا ہے کہ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر برحق تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو.

الغرض وہ محبت جو نفسانی یعنی غیر اختیاری ہے مطلوب نہیں، اور جو محبت مطلوب ہے، وہ اختیاری ہے. اور اس کے حصول کی ترکیب بھی اختیاری ہے اور جو ترکیب اختیاری ہوتی ہے، وہ مشکل نہیں ہو سکتی. مشکل تو وہ ہے جو اختیاری نہ ہو. مثلاً زید سے کہا کہ ہندہ سے محبت کرو، تو یہ محبت مشکل ہے. کیونکہ ہندہ سے محبت زید کے اختیار میں نہیں ہے. مثل مشہور ہے، کوئی شخص کسی سے زبردستی محبت نہیں کر سکتا.

اب اس اختیاری محبت کی ترکیب کے تین اجزاء ہیں، اور تینوں اجزاء بھی اختیاری ہیں.

(١)اعمال صالحہ اس نیت سے کہ محبت استوار ہوجائے. (٢) زکر،یا یاد محبوب، ہر حال میں، اور ہر وقت اور ہر جگہ

(٣) ان لوگوں سے تعلق پیدا کرنا، جو اللہ سے محبت پیدا کرتے ہیں.

پہلی بات کا مطلب ہے، اللہ کے محبوب حضور سرکار دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اتباع بلا چون و چرا.

دوسری بات کا مطلب ہے دنیا میں رہ کر سارے دنیاوی امور انجام دنیا لیکن اس طرح کہ دھیان ہر حال میں اسی کا رہے غیر کی محبت پیدا نہ ہونے پائے.

تیسری بات کا مطلب ہے، کسی مرشد کی صحبت میں بیٹھنا، جو اس محبت کو پختہ کردے. یعنی ایسا پختہ رنگ چڑھا دے کہ کبھی اتر نہ سکے.

(٢) دوسرے شعر میں اقبال، حقیقت فقر کو ایک مثال سے واضح کرتے ہیں کہتے ہیں، اگر فولاد کی طبیعت میں نرمی اور نزاکت پیدا ہوجائے تو پھر اس سے شمشیر نہیں بن سکتی، یعنی وہ بیکار ہو جائے گا. فولاد کو واضح نے اس لیے وضح کیا ہے کہ اس سے تلوار بنائی جائے لیکن اگر وہ اپنے اندر صلابت کی جگہ نزاکت پیدا کرلے تو پھر اس کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا، اسی طرح اللہ نے نبی بنی آدم کو اس لیے پیدا کیا ہے. کہ وہ اپنی خودی کو اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مضبوط اور مستحکم کریں. تا کہ خلافت شمشیر کے مرتبہ پر پہنچ سکیں. لیکن اگر کوئی شخص، ترک اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خودی کو ضعیف اور ناتواں کرے تو پھر وہ خلافت کے منصب پر فائز نہیں ہوسکتا بالفاظ دگر اس نے اپنی تخلیق کا مقصد ہی کو نہیں سمجھا. لہٰذا وہ مرتبہ انسانیت سے گر جائے گا……………… کا مصداق ہو جائے گا. غرض اگر مسلمان اپنے اندر شان فقر پیدا نہ کرے تو وہ اپنی تخلیق کے منشاء کو کبھی ہرگز پورا نہ کرسکے گا، یہ ہے علم فقیری کی حقیقت!

(٣) اگر فقر میں خودداری، یعنی دین کے لیے غیرت نہ ہو تو وہ، فقر نہیں ہے بلکہ قہرالہی ہے لیکن اگر اس میں یہ جوہر موجود ہو تو بلاشبہ وہ فقر، دنیا میں مومن کے لیے سربلندی اور امیری کی بنیاد بن جاتا ہے.

اقبال نے یہ صراحت اس لیے کی کہ مسلمانوں میں فقر کا ایک غلط مفہوم بھی تو مروج ہے یعنی اکثر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ فقر ترک دنیا میں دنیا اور مسکینی یا عاجزی اور مفلسی کا نام ہے. یہ غلط خیال ہندو جوگیوں کے اثر سے پیدا ہوا ہے. اسلام جس فقر کا داعی ہے وہ خانقاہی نہیں، بلکہ ید اللہ ہے اس نکتہ کی وضاحت کے لیے اس جگہ صرف ایک شعر لکھتا ہوں.

فقر کافر، خلوت دشت ودراست

فقر مومن، لرزہ بحر دبراست

اقبال نے مثنوی پس چہ باید کرو میں اسی محبت پر تفصیلی گفتگو کی ہے انشاءاللہ جب اس کتاب کی شرح لکھوں گا، تو اس موضوع پر سیر حاصل بحث کروں گا، اس جگہ صرف اسی قدر وضاحت کافی ہے.

(۴) آخری شعر میں اقبال نے ایک عظیم الشان حقیقت کا اظہار کیا ہے کہتے ہیں کہ اے مسلمان! یہ جو تم مسکینی اور ذلت کی زندگی بسر کر رہا ہے یعنی غلامی کی زندگی، اس کا باعث صرف یہ ہے کہ تجھے انگریزوں نے اس عداوت کی بنا پر جو انہیں اسلام سے ہے تیرے مقام سے بیگانہ کردیا ہے. اور تجھے تیری خودی کی مخفی طاقتوں سے غافل بنا دیا ہے. انہوں نے تیرے لیے ایسا نصاب تعلیم مدون کیا کہ تو اپنی حقیقت سے بالکل بینجر ہو گیا. میں انگریزوں کے قائم کردہ اس طلسم کو توڑنا چاہتا ہوں.

سن! تو اس لیے نہیں پیدا کیا گیا کہ انگریزوں کی یا کسی قوم کی غلامی کرے اے مسلمان! تو برطانیہ کا یارو فادار نہیں ہے بلکہ تو بشیر اور نذیر ہے. یعنی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے لیے بشیر اور ونذیر ہیں، اور تو حضور کا غلام ہے اس لیے اگر تو حضور کی اتباع کرکے اپنے آپ کو حضور کے رنگ میں رنگین کرلے، تو قدرتی طور سے تیرے اندر بھی بشیری اوت نذیری کی شان پیدا ہوجائے گی. اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آج، جو تیرے آقا ہیں، وہ تیرے غلام بن جائیں گے.

بشیر کے معنی ہیں، مومنوں کی خوشخبری سنانے والا. نذیر کے معنی ہیں، کافروں کو عذاب سے ڈرانے والا

یہ ہمارے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خاص صفات ہیں اور چونکہ ان صفات کے اظہار کے لیے طاقت کا ہونا لازمی ہے اس لیے مسلمان پر فرض ہے کہ وہ طاقت پیدا کرے، تاکہ بشیر اور نذیر کا فرض انجام دے سکے. بالفاظ دگر لوگوں کو نیکی کا حکم دے سکے اور برائی سے روک سکے اس اصول کی تفہیم کے لیے اس آیت پر غور کیجئے.

…….. اے مسلمانو! تم تمام اقوام عالم کے سردار

…….. ہو، تم کو بنی آدم کی اصطلاح کے لیے پیدا کیا

گیا ہے اور تمہارا فرض منصبی یہ ہے کہ تم لوگوں کو نیکی کا حکم کرو گے، اور برائی سے باز رکھو گے.

اب ناظرین اس آیت کی روشنی میں اقبال کی تعلیم کے صداقت بھی معلوم کرسکتے ہیں، اور یہ بھی کہ کیا ہم پاکستانی مسلمان اس آیت کے مصداق ہوسکتے ہیں؟

%d bloggers like this:
search previous next tag category expand menu location phone mail time cart zoom edit close